سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

مکمل متن خطبہ غدیر | ساتواں حصہ

مکمل متن خطبہ غدیر | ساتواں حصہ

خطبۂ غدیر وہ عظیم خطبہ ہے جو رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے غدیرِ خم کے مقام پر ارشاد فرمایا اور اس میں اللہ کے حکم سے امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کو اپنا جانشین مقرر کیا۔

پچھلے حصے میں منافقین کی کارستانیوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ یہ حصہ اہلِ‌بیت علیہم‌السلام کے پیروکاروں اور ان کے دشمنوں کے بارے میں ہے:

 

ساتواں حصہ: پیروانِ اہل بیت علیہم السلام اور ان کے دشمن

 

مَعاشِرَ النّاسِ، أَنَا صِراطُ الله الْمُسْتَقیمُ الَّذي أَمَرَکمْ بِاتِّباعِهِ، ثُمَّ عَلِي مِنْ بَعْدي. ثُمَّ وُلْدي مِنْ صُلْبِهِ أَئِمَّةُ (الْهُدی)، یهْدونَ إِلَی الْحَقِّ وَ بِهِ یعْدِلونَ. ثُمَّ قَرَأَ: «بِسْمِ الله الرَّحْمانِ الرَّحیمِ الْحَمْدُلِلَّهِ رَبِ الْعالَمینَ …» إِلی آخِرِها

اے لوگو! اللہ کا سیدھا راستہ میں ہوں اور میرے بعد علی ہیں ،جن کی پیروی کا اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے، اور پھر ان کے بعد ان کی نسل سے میرے فرزند ائمۂ ہدایت ہیں، جو حق کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اور عدل و انصاف قائم کرتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے سورہ حمد کی تلاوت فرمائی: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ… آخر تک۔

 

وَقالَ : فِي نَزَلَتْ وَفیهِمْ (وَالله) نَزَلَتْ، وَلَهُمْ عَمَّتْ وَإِیاهُمْ خَصَّتْ، أُولئك أَوْلِیاءُ الله الَّذینَ لا خَوْفٌ عَلَیهِمْ وَلا هُمْ یحْزَنونَ، أَلا إِنَّ حِزْبَ الله هُمُ الْغالِبُونَ. أَلا إِنَّ أَعْدائَهُمْ هُمُ السُّفَهاءُ الْغاوُونَ إِخْوانُ الشَّیاطینِ یوحی بَعْضُهُمْ إِلی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُروراً. أَلا إِنَّ أَوْلِیائَهُمُ الَّذینَ ذَکرَهُمُ الله في کتابِهِ، فَقالَ عَزَّوَجَلَّ: (لاتَجِدُ قَوْماً یؤمِنُونَ بِالله وَالْیوْمِ الْآخِرِ یوادُّونَ مَنْ حادَّ الله وَ رَسُولَهُ وَلَوْ کانُوا آبائَهُمْ أَوْ أَبْنائَهُمْ أَوْ إِخْوانَهُمْ أَوْ عَشیرَتَهُمْ، أُولئِك کتَبَ في قُلوبِهِمُ الْإیمانَ) إِلی آخِر الآیةِ .

اور فرمایا: خدا کی قسم! یہ سورہ میرے بارے میں اور ائمہ ہی کے حق میں نازل ہوئی ہے، یہ سورہ انہی کے لیے عام ہے اور انہی سے مخصوص ہے۔ یہ وہی اللہ کے اولیا ہیں جن کو نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ آگاہ رہو! یقیناً اللہ کا گروہ ہی غالب آنے والا ہے۔ خبردار! اماموں کے دشمن وہی بےوقوف اور گمراہ لوگ ہیں جو شیاطین کے بھائی ہیں، جو دھوکہ دہی کے لیے ایک دوسرے کی طرف لچھے دار باتیں وحی کرتے ہیں۔ جان لو کہ اللہ نے اماموں کے چاہنے والوں کا اپنی کتاب میں یوں ذکر فرمایا ہے: آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرے، چاہے وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان لکھ دیا ہے۔

 

أَلا إِنَّ أَوْلِیائَهُمُ الْمُؤْمِنونَ الَّذینَ وَصَفَهُمُ الله عَزَّوَجَلَّ فَقالَ: (الَّذینَ آمَنُوا وَلَمْ یلْبِسُوا إیمانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولئِك لَهُمُ الْأَمْنُ وَ هُمْ مُهْتَدونَ). (أَلا إِنَّ أَوْلِیائَهُمُ الَّذینَ آمَنُوا وَلَمْ یرْتابوا). أَلا إِنَّ أَوْلِیائَهُمُ الَّذینَ یدْخُلونَ الْجَنَّةَ بِسَلامٍ آمِنینَ، تَتَلَقّاهُمُ الْمَلائِکةُ بِالتَّسْلیمِ یقُولونَ: سَلامٌ عَلَیکمْ طِبْتُمْ فَادْخُلوها خالِدینَ. أَلا إِنَّ أَوْلِیائَهُمْ، لَهُمُ الْجَنَّةُ یرْزَقونَ فیها بِغَیرِ حِسابٍ. أَلا إِنَّ أَعْدائَهُمُ الَّذینَ یصْلَونَ سَعیراً. أَلا إِنَّ أَعْدائَهُمُ الَّذینَ یسْمَعونَ لِجَهَنَّمَ شَهیقاً وَ هِي تَفورُ وَ یرَوْنَ لَها زَفیراً. أَلا إِنَّ أَعْدائَهُمُ الَّذینَ قالَ الله فیهِمْ: (کلَّما دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَها) الآیة. أَلا إِنَّ أَعْدائَهُمُ الَّذینَ قالَ الله عَزَّوَجَلَّ: (کلَّما أُلْقِي فیها فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُها أَلَمْ یأتِکمْ نَذیرٌ، قالوا بَلی قَدْ جاءَنا نَذیرٌ فَکذَّبْنا وَقُلنا ما نَزَّلَ اللہُ مِنْ شَیءٍ إِنْ أَنْتُمْ إِلاّ في ضَلالٍ کبیرٍ) إِلی قَوله:( أَلا فَسُحْقاً لاَِصْحابِ السَّعیرِ). أَلا إِنَّ أَوْلِیائَهُمُ الَّذینَ یخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیبِ، لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ کبیرٌ

آگاہ رہو! اماموں کے چاہنے والے وہ مومنین ہیں جن کی اللہ عزوجل نے یوں تعریف فرمائی ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا، انہی کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ! اماموں کے یار و مددگار وہ ہیں جو کامل یقین تک پہنچ گئے اور شک و انکار سے دور رہے۔ آگاہ رہو! اماموں کے چاہنے والے وہ ہیں جو سلامتی اور امن کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے، فرشتے سلام کے ساتھ ان کا استقبال کریں گے اور کہیں گے: تم پر سلام ہو! تم پاک ہو گئے ہو، پس اب اس جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہو جاؤ۔ جان لو کہ جنت ان کے چاہنے والوں کا صلہ ہے جہاں انھیں بے حساب رزق دیا جائے گا۔ خبردار! ان کے دشمن وہ ہیں جو بھڑکتی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ وہ دوزخ کی ہولناک چیخیں سنیں گے جبکہ وہ جوش مار رہی ہوگی اور اس کی وحشت ناک آوازیں بھی ۔ آگاہ رہو! اللہ نے ان دشمنوں کے بارے میں فرمایا ہے: جب بھی کوئی گروہ جہنم میں داخل ہوگا تو وہ اپنے جیسے دوسرے گروہ پر لعنت کرے گا۔ خبردار! ائمہ کے دشمن وہی ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا: جب بھی ان کا کوئی گروہ دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کے داروغہ ان سے پوچھیں گے: کیا تمھارے پاس کوئی انذار کرنےوالا نہیں آیا تھا؟ تو وہ کہیں گے: کیوں نہیں!انذار کرنے والا تو آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا کہ اللہ نے کچھ نازل نہیں کیا اور تم تو بڑی گمراہی میں ہو۔ یہاں تک کہ اللہ فرماتا ہے: پس پھٹکار ہو ان دوزخیوں پر!۔ آگاہ رہو! اماموں کے ساتھی وہ ہیں جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں، ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔ اے لوگو! آگ کے عذاب اور اس اجرِ عظیم کے درمیان بہت فرق ہے!

 

مَعاشِرَ النَاسِ، شَتّانَ مابَینَ السَّعیرِ وَالْأَجْرِ الْکبیرِ. (مَعاشِرَالنّاسِ)، عَدُوُّنا مَنْ ذَمَّهُ الله وَلَعَنَهُ، وَ وَلِینا (کلُّ) مَنْ مَدَحَهُ الله وَ أَحَبَّهُ. مَعاشِرَ النّاسِ، أَلا وَإِنّي (أَنَا) النَّذیرُ و عَلِي الْبَشیرُ. (مَعاشِرَالنّاسِ)، أَلا وَإِنِّي مُنْذِرٌ وَ عَلِي هادٍ. مَعاشِرَ النّاس (أَلا) وَإِنّي نَبي وَ عَلِي وَصِیي. (مَعاشِرَالنّاسِ، أَلا وَإِنِّي رَسولٌ وَ عَلِي الْإِمامُ وَالْوَصِي مِنْ بَعْدی، وَالْأَئِمَّةُ مِنْ بَعْدِهِ وُلْدُهُ. أَلا وَإِنّي والِدُهُمْ وَهُمْ یخْرُجونَ مِنْ صُلْبِهِ)

اے لوگو! ہمارا دشمن وہی ہے جس کی اللہ نے مذمت کی اور جس پر لعنت فرمائی، اور ہمارےچاہنے والےوہ ہیں جن کی اللہ نے تعریف کی اور جن سے محبت فرمائی۔ اے لوگو! آگاہ رہو کہ میں رسول اللہ انذار کرنے والا ہوں اور علی بشارت دینے والے ہیں۔ خبردار! میں انذار کرنے والا ہوں اور علی ہدایت دینے والے ہیں۔ اے لوگو! جان لو کہ میں نبی ہوں اور علی میرے وصی ہیں۔ اے لوگو! آگاہ رہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور علی میرے بعد امام اور وصی ہیں، اور ان کے بعد آنے والے امام انہی کی اولاد ہیں۔ آگاہ رہو! وہ میری اولاد ہیں لیکن وہ امیر المؤمنین علیہ‌السلام کی نسل سے ہوں گے۔

 

اس خطبے کا تسلسل آٹہویں حصے میں ملاحظہ فرمائیں۔

 

حوالہ‌جات
علامه امینی، الغدیر، ج۱ص۱۲-۱۵۱و۲۹۴-۳۲۲.
شیخ عبدالله، بحرانی، عوالم العلوم، ج۱۵/۳ص ۳۰۷-۳۲۷.
علامه مجلسی، بحارالانوار، ج۳۷ص۱۸۱-۱۸۲.
حر عاملی، اثبات الهداة، ج۲ص۲۰۰-۲۵۰.
سید ابن طاووس، الطرائف، ص۳۳.

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے