سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ازدواج امیرالمؤمنین اور حضرت فاطمہ صلوات اللہ علیہما و آلہما

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيانِ (الرحمٰن: ۱۹)
اس نے دو سمندروں کو رواں کیا جو آپس میں ملتے ہیں۔

۱۔ توریت اور انجیل میں حضرتِ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کا نام بطورِ ہمسرِ فاطمہ سلام اللہ علیھا۔
۲۔ جبرائیل کے ذریعے جنت میں عقد کا اہتمام۔
۳۔ وہ شادی جسے "دو نور کا پیوند” نام دیا گیا۔
۴۔ اس ازدواج کا ثمرہ: نسلِ امامت کا تسلسل۔
۵۔ اس ازدواج کے موقعے پر اللہ تعالیٰ کا فرمانِ ازلی۔
۶۔ ملکوت میں طے پایا جانے والا حق مہر: امت کے گنہگاروں کی شفاعت۔
۷۔دلہن کو اللہ کا تحفہ: دنیا اور جنت کا ایک حصہ۔
۸۔ چوتھے آسمان پر بیت المعمور میں عقد کی تقریب۔
۹۔ جشنِ ازدواج میں درختِ طوبٰی سے جواہرات کا نچھاور ہونا۔
۱۰۔ اس ازدواج میں فرشتوں کو نورانی امان نامے عطا کیے گئے۔
۱۱۔ شبِ ازدواج ستر ہزار فرشتوں کی ہمراہی۔
۱۲۔ علی علیہ‌السلام، جو کائنات میں فاطمہ سلام اللہ علیہا کے لیے تنہا ہم پلہ اور ہمسر ہیں۔
۱۳۔ اس شادی کی برکت سے جنت اور عرشِ الٰہی کی تزئین۔

الموسوعۃ الکبریٰ، انصاری، ج ۳، ص ۱۲۷

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے