غدیر کے تاریخی اسناد و دستاویز کے مطابق، عیدِ غدیر کے موقعےپر مبارکباد دینے کی سنت ایک خاص اور منفرد مقام رکھتی ہے، کیونکہ خاتم الانبیا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے اس عید پر مبارکباد دینے پر شدید تاکید فرمائی تھی۔
۱۔ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کو مبارکباد دینا
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے غدیر کے دن ارشاد فرمایا:
هنّئونى، هنّئونى (مجھے مبارکباد دو، مجھے مبارکباد دو)۔
اسی وجہ سے اس دن کی بعض زیارات اور دعاؤں میں ہم رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی بارگاہ میں مبارکباد اور ہدیۂ تہنیت پیش کرتے ہیں۔ پس مومنین کے لیے یہ نہایت موزوں ہے کہ وہ اس دن کی ان دعاؤں اور زیارات کی تلاوت کریں جن میں رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی زیارت بھی شامل ہے۔
۲۔ امیرالمؤمنین علیہالسلام کو مبارکباد دینا
غدیرِ خم کے دن خطبے کے اختتام پر، رسول خدا صلی اللہعلیہوآلہ اپنے مخصوص خیمے میں تشریف فرما ہوئے اور حکم دیا کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام ایک دوسرے خیمے میں بیٹھیں، اور لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ وہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر مبارکباد اور تہنیت پیش کریں۔ مردوں کی بیعت کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے حکم دیا کہ خواتین بھی مبارکباد دیں اور بیعت کریں۔
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے بھی اپنے دورِ خلافت میں خطبۂ غدیر میں فرمایا کہ پیغمبر صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا: ایک دوسرے کو مبارکباد دو اور آج کے دن کو عید قرار دو پھر امیرالمؤمنین علیہالسلام نے فرمایا: ان کلمات کو بیان کرنے کا مجھے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے حکم دیا تھا۔
۳۔ مومنین کا ایک دوسرے کو مبارکباد دینا
اس عظیم اور بابرکت دن پر ہم شیعوں کا آپس میں ملنے کا انداز اور جو کلمات ادا کیے جانے چاہئیں، وہ معصومین علیہمالسلام کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں۔ جب مومنین ایک دوسرے سے ملاقات کریں، تو سلام اور مصافحہ کرنے کے بعد یہ کلماتِ تہنیت کہیں:الحمد للَّه الذى جعلنا من المتمسّكين بولاية اميرالمؤمنين و الائمة (عليهمالسلام)
امام رضا علیہالسلام نے اس سلسلے میں فرمایا ہے:
هو يوم التهنئة؛ يهنّىء بعضكم بعضاً. فاذا لقى المؤمن اخاه يقول: الحمد للَّه الذى جعلنا من المتمسكين بولاية اميرالمؤمنين و الائمة (عليهمالسلام)[۱]
ایک انتہائی قابلِ توجہ نکتہ جو پیامبر صلیاللہعلیہوآلہ کی زندگی کی کسی بھی فتح، جنگوں کی کامیابی، دیگر مناسبتوں اور یہاں تک کہ فتحِ مکہ کے موقعے پر بھی نظر نہیں آتا، وہ یہ ہے کہ آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے غدیر کے دن خاص طور پر فرمایا:
مجھے مبارکباد دو، مجھے تہنیت پیش کرو، چوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت کے لیے اور میرے اہل بیت علیہمالسلام کو امامت کے لیے چنا اور اختصاص بخشا ہے۔
اور یہ اس بات کی واضح علامت تھی کہ غدیر ایک بہت بڑی فتح اور کفر و نفاق کے آخری مورچوں کے مکمل طور پر پاش پاش ہونے کا دن تھا۔
مآخذ
[۱] الغدیر، ج۱، ص۲۷۴
