لفظ (مولی) کے معنی (أولی) ہونے پر علامہ (میر حامد حسین) کی حیرت انگیز علمی تحقیق
چونکہ حدیثِ غدیر کی "تواتر” (طرق کی بے پناہ کثرت) ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن ہی نہیں، اس لیے بدخواہوں اور مخالفین نے جب دیکھا کہ وہ اس حدیث کی اسناد اور طریقِ نقل میں کوئی عیب نہیں نکال سکتے، توانھوں نے اس کے مفہوم اور دلالت کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
انہی اعتراضات کا ایک رخ لفظ (مَولی – مولا) کے معنی کی طرف ہے۔ مخالفین کا دعویٰ ہے کہ لفظ (مولا) کے معنی "صاحبِ اختیار” یا "سب سے زیادہ حقدار” (أولیٰ بہ تصرف) کے نہیں ہیں؛ وہ یہ پینترا اس لیے بدلتے ہیں تاکہ انھیں یہ تسلیم نہ کرنا پڑے کہ جس طرح رسولِ اکرم صلیاللہعلیهوآلہ امت پر ولایت اور سب سے زیادہ اختیار رکھتے تھے، وہی مقام و منصب علی بن ابی طالب، امیر المؤمنین علیہالسلام کو بھی حاصل ہے۔ کتاب (تحفہ اثنا عشریہ) کے مصنف (عبد العزیز دہلوی) نے—جس کا گمان یہ تھا کہ وہ اس علمی چوری کے ذریعے شیعہ مکتب کی آبرو ریزی کر سکے گا، مگر حقیقت میں اس نے خود اپنی اور اپنے ہم نواؤں کی رسوائی کا سامان کیا— حدیثِ غدیر کے مفہوم پر گفتگوکرتے ہوئے لکھا ہے:
(اس استدلال میں پہلی بنیادی غلطی یہ ہے کہ تمام علمائے لغت و نحو (اہلِ عرب) نے متفقہ طور پر اس بات کا انکار کیا ہے کہ لفظ "مولی” کبھی "أولی” کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہو۔[۱]
مرحوم علامہ میر حامد حسین اس کا دندان شکن جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
(اس گفتگو میں پہلی خرابی اور کذب بیانی یہ ہے کہ شاہ صاحب (دہلوى) نے اپنے زعمِ تقویٰ، دیانت اور کمالِ سچائی و امانت داری کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے یہ دعویٰ کر دیا کہ تمام اہلِ عرب نے متفقہ طور پر اس بات کا انکار کیا ہے کہ "مولی” کبھی "أولی” کے معنی میں آیا ہو۔ حالانکہ لغتِ عرب کے ماہرین نے ہرگز ایسا کوئی انکار نہیں کیا، اور ان کی طرف اس انکار کی نسبت سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔ عربی زبان کے کسی ایک بھی مستند عالم سے ایسا انکار ثابت نہیں ہے، چہ جائیکہ تمام علمائے عرب کا اس پر اتفاق ہو! یہ ایسا فاش اور شنیع جھوٹ ہے جسے سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں! شاہ صاحب کا یہ دعویٰ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہہ دے کہ: لفظ "قول” عربی زبان میں کبھی "بولنے”کے معنی میں استعمال ہی نہیں ہوا، اور تمام اہلِ عرب نے متفقہ طور پر اس کا انکار کیا ہے۔[۲]
اس کے بعد علامہ نے ایک باقاعدہ باب قائم کیا ہے جس کا عنوان ہے: (قرآن، حدیث اور عربی اشعار میں لفظ "مَولی” کا "أولی” کے معنی میں استعمال)۔
آپ لکھتے ہیں: نتیجہ یہ ہے کہ کتاب، سنت اور عربی اشعار میں ‘اولیٰ’ کے معنی میں ‘مولیٰ’ کا استعمال عام اور معروف ہے، اور ‘اولیٰ’ کے معنی میں ‘مولیٰ’ کے استعمال کے بارے میں فنِ عربی زبان، لغت اور تفسیر کے علما کے واضح اقوال موجود ہیں۔ میں یہاں ان علماکے ناموں کا ذکر کروں گا جنہوں نے ’’اولیٰ‘‘ کے معنی میں ’’مولیٰ‘‘ کا ہونا ثابت کیا ہے، تاکہ جتنا ہوسکے منکرین کو شرمندہ کرنے کا باعث بن سکے۔ [۳]
اس کے بعد علامہ نے لغت، فصاحت اور بلاغت کے تینتالیس (۴۳) ایسے مایہ ناز بزرگوں کے نام گنوائے ہیں جو اپنے اپنے فن کے امام مانے جاتے ہیں، اور یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے ہاں "مولی” کی دلالت "أولی” پر بالکل رائج اور مسلمہ ہے۔
یہاں سب سے حیرت انگیز اور قابلِ داد بات یہ ہے کہ مرحوم علامہ نے پہلے ان تینتالیس علمائے لغت میں سے ایک ایک کے علمی مقام و مرتبے کو تفصیلاً بیان کیا ہے، اور ان کی عظمت کے اعتراف میں خود علمائے اہل سنت کے اقوال نقل کیے ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ یہ شخصیات کوئی عام یا کم علم لوگ نہیں تھے بلکہ اپنے اپنے فن کے ناخدا تھے۔ اس کے بعد علامہ نے تفسیر، شعر، ادب اور لغت سے ان کے مفصل اقوال پیش کر کے دہلوی اور اس جیسے دیگر معترضین کے چہروں کو سیاہ رات کی مانند تاریک کر دیا ۔
یہ علمی و تحقیقی بحث عبقات الانوار کی جلد ہشتم کے صفحہ نمبر 8 سے شروع ہو کر صفحہ نمبر 200 تک مسلسل جاری رہتی ہے۔ یعنی دہلوی کے محض چند جملوں کے اعتراض کے جواب میں علامہ نے تقریباً دو سو صفحات پر مشتمل محکم شواہد اور ناقابلِ تردید دلائل کے انبار لگا دیے ہیں۔انسان کو خود اس کتاب کی طرف رجوع کر کے دیکھنا چاہیے کہ علامہ نے وہاں کیسا علمی معرکہ برپا کیا ہے۔ یہ حصہ بذاتِ خود ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتا ہے جس کے مضامین اس ترتیب، سلاست اور جامعیت کے ساتھ کسی اور جگہ مل ہی نہیں سکتے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جب علامہ اس لغوی بحث سے فارغ ہوتے ہیں، تو اس کے بعد تفتازانی، فخر رازی، قوشجی، احمد بن حنبل، بخاری، طبری، نسائی،حاکم نیشاپوری، ابن مغازلی، حموینی، ابن کثیر وغیرہ جیسے جید اکابرین کے اقوال سے استناد کرتے ہوئے، خود ان کے کلام سے لفظ (مولی) کے معنی (أولی) ہونا ثابت کرتے ہیں۔
مآخذ
[۱] تحفه اثناعشریة، ص۲۰۸، طبع پیشاور
[۲] عبقات الأنوار، ج٨ ص۶
[۳] عبقات الأنوار، ج٨ ص۷
