ساتویں حصے میں اہلبیت علیہمالسلام کے پیروکاروں اور ان کے دشمنوں کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس حصے میں منجیِ عالمِ بشریت امامِ زمانہ عجلاللہفرجہالشریف کی شان اور ان کے اوصاف بیان کیے جائیں گے:
آٹھواں حصہ: امامِ زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کا تذکرہ
أَلا إِنَّ خاتَمَ الْأَئِمَةِ مِنَّا الْقائِمَ الْمَهْدِي۔ أَلا إِنَّهُ الظّاهِرُ عَلَی الدِّینِ۔ أَلا إِنَّهُ الْمُنْتَقِمُ مِنَ الظّالِمینَ۔ أَلا إِنَّهُ فاتِحُ الْحُصُونِ وَهادِمُها۔ أَلا إِنَّهُ غالِبُ کلِّ قَبیلَةٍ مِنْ أَهْلِ الشِّرْك وَهادیها۔ أَلا إِنَّهُ الْمُدْرِك بِکلِّ ثارٍ لاَِوْلِیاءِ الله ۔أَلا إِنَّهُ النّاصِرُ لِدینِ الله۔ أَلا إِنَّهُ الْغَرّافُ مِنْ بَحْرٍ عَمیقٍ۔ أَلا إِنَّهُ یسِمُ کلَّ ذي فَضْلٍ بِفَضْلِهِ وَ کلَّ ذي جَهْلٍ بِجَهْلِهِ۔ أَلا إِنَّهُ خِیرَةُ الله وَ مُخْتارُهُ ۔أَلا إِنَّهُ وارِثُ کلِّ عِلْمٍ وَالُْمحیطُ بِکلِّ فَهْمٍ۔ أَلا إِنَّهُ الُْمخْبِرُ عَنْ رَبِّهِ عَزَّوَجَلَّ وَالْمُشَیدُ لاَِمْرِ آیاتِهِ۔ أَلا إِنَّهُ الرَّشیدُ السَّدیدُ۔ أَلا إِنَّهُ الْمُفَوَّضُ إِلَیهِ۔ أَلا إِنَّهُ قَدْ بَشَّرَ بِهِ مَنْ سَلَفَ مِنَ الْقُرونِ بَینَ یدَیهِ۔ أَلا إِنَّهُ الْباقي حُجَّةً وَلا حُجَّةَ بَعْدَهُ وَلا حَقَّ إِلاّ مَعَهُ وَلا نُورَ إِلاّ عِنْدَهُ ۔أَلا إِنَّهُ لا غالِبَ لَهُ وَلا مَنْصورَ عَلَیهِ۔ أَلا وَإِنَّهُ وَلِي الله في أَرْضِهِ، وَحَکمُهُ في خَلْقِهِ، وَأَمینُهُ في سِرِّهِ وَعلانِیتِهِ
آگاہ رہو! یقیناً ہم میں سے آخری امام ،مہدی قائم ہیں۔ خبردار! وہ تمام ادیان پر غالب آنے والے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ! وہی ستمگاروں سے انتقام لینے والے ہیں۔ جان لو! وہی قلعوں کو فتح کرنے والے اور انھیں پیوندِ خاک کرنے والے ہیں۔ آگاہ رہو! وہی مشرکین کے تمام قبائل پر غلبہ پانے والے اور ان کی رہنمائی کرنے والے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ! وہی اللہ کے تمام اولیا کے خون کا بدلہ لینے والے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ! وہی دینِ خدا کے مددگار ہیں۔ جان لو! وہ علم و معرفت کے گہرے سمندر سے فیضیاب کرنے والے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ! وہ ہر صاحبِ فضل کو اس کے فضل کے مطابق اور ہر جاہل کو اس کی جہالت کے مطابق درجہ دیں گے۔ ہوشیار رہو! وہی اللہ کے پسندیدہ اور برگزیدہ ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ! وہی تمام علوم کے وارث اور ہر فہم و ادراک پر احاطہ رکھنے والے ہیں۔ جان لو! وہ اپنے پروردگارِ عزوجل کی جانب سے خبر دینے والے اور اس کی آیات و نشانیوں کو استوار کرنے والے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ! وہی رشد و ہدایت کے مالک اور محکم ارادے والے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ! وہی ہیں جنھیں امور تفویض کیے گئے ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ! ان سے پہلے گزرنے والی تمام صدیوں کے لوگوں نے ان کے ظہور کی پیشگوئی کی ہے۔ آگاہ ہوجاؤ! وہی اللہ کی باقی ماندہ حجت ہیں اور ان کے بعد کوئی حجت نہ ہوگی۔ حق صرف وہی ہے جو ان کے ساتھ ہے اور نور صرف وہی ہے جو ان کے پاس ہے۔ جان لو! کوئی ان پر غالب نہیں آسکے گا اور ان کے مقابلے میں کسی کی مدد نہیں کی جائے گی۔ آگاہ ہوجاؤ! وہی زمین پر اللہ کے ولی، اس کی مخلوق میں اس کے حاکم اور اس کے ظاہر و باطن میں اس کے امین ہیں۔
اس خطبے کا تسلسل نویں حصے میں ملاحظہ فرمائیں۔
منابع
علامه امینی، الغدیر، ج۱ص۱۲-۱۵۱و۲۹۴-۳۲۲۔
شیخ عبدالله، بحرانی، عوالم العلوم، ج۱۵/۳ص ۳۰۷-۳۲۷۔
علامه مجلسی، بحارالانوار، ج۳۷ص۱۸۱-۱۸۲۔
حر عاملی، اثبات الهداة، ج۲ص۲۰۰-۲۵۰۔
سید ابن طاووس، الطرائف، ص۳۳۔
