سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Ghadir-2

غدیر؛ کھانا کھلانے (اطعام) کا دن

غدیر کے دن کھانا کھلانا شیعیانِ علی علیہ‌السلام کی ان دیرینہ روایات میں سے ہے جو روزِ غدیر کو منانے اور امیر المؤمنین حضرت علی علیہ‌السلام کے ساتھ تجدیدِ بیعت کے لیے برقرار ہے۔

روزِ غدیر کے اعمال میں کسی مؤمن کو افطاری کرانے کا مقام بہت بلند ہے۔ روایات کے مطابق اس عمل میں ایک عظیم فضیلت پوشیدہ ہے۔ اس دن کھانا کھلانے کی اہمیت اس حد تک ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے روزِ غدیر کو «اطعام الطعام» (کھانا کھلانے کے دن کا نام دیا ہے۔)[۱]

اطعامِ غدیر کے بارے میں ائمہ اطہار علیہم‌السلام کی تاکید

بعض روایات اور تاریخی شواہد کے مطابق، ائمہ معصومین علیہم‌السلام شیعوں کو غدیر کے دن اطعام کرنے کی خاص ترغیب دلایا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں روزِ غدیر کے روزے، عیدی دینے اور صلۂ رحمی کے ساتھ ساتھ کھانا کھلانے کی بھی سخت تاکید کی گئی ہے۔[۲] امام علی رضا علیہ‌السلام سے منقول ایک روایت میں شیعوں سے یہ چاہا گیا ہے کہ وہ اپنی استطاعت اور وسائل کے مطابق غدیر کے دن اطعام (کھانا کھلانے) کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔[۳]
شیخ طوسی کی کتاب مصباح المتہجد سمیت مختلف معتبر کتب میں منقول ایک روایت کے مطابق: امام رضا علیہ‌السلام نے عیدِ غدیر کی شام اپنے خاص اصحاب کو افطار کے لیے اپنے پاس روکا اور ان کے اہل و عیال کے لیے ہدیوں کے ساتھ کھانا بھی بھجوایا۔[۴]

اطعامِ غدیر کا ثواب

متعدد روایات کے مطابق، اس دن کھانا کھلانا انتہائی پسندیدہ اور موکد عمل ہے، اور یہ اس لیے ہے تاکہ یہ خوبصورت سنت کبھی فراموش نہ ہونے پائے۔

 امام رضا علیہ‌السلام روزِ غدیر کی فضیلت کے بارے میں فرماتے ہیں:

وَ مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِناً کَانَ کَمَنْ أَطْعَمَ جَمِیعَ الْأَنْبِیَاءِ وَ الصِّدِّیقِین‏

جو شخص غدیر کے دن کسی مؤمن کو کھانا کھلائے، وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے تمام انبیا اور صدیقین کو کھانا کھلایا ہو۔[۵]

امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے اس دن کھانا کھلانے کی اس حسنہ سنت اور اس کی اہمیت کے بارے میں فرمایا:

عیدِ غدیر کے دن ایک مؤمن کو کھانا کھلانے کا ثواب، دس لاکھ انبیااور صدیقین—جن کے سرِ فہرست خود ائمہ معصومین (علیہم السلام) ہیں، دس لاکھ شہدا جن کے سرِ فہرست حضرت عباس علیہ‌السلام اور شہدائے کربلا ہیں، اور اللہ کے حرم میں دس لاکھ صالحین کو کھانا کھلانے کے برابر ہے۔[۶]

غدیر کے دن ایک شخص کو کھانا کھلانا، تمام انبیاء اور صدیقین کو کھانا کھلانے کی مانند ہے۔[۷]

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ‌السلام نے روزِ غدیر کھانا کھلانے کے حیرت انگیز ثواب کے بارے میں فرمایا:

من افطر مؤمنا فى لیله فکأنما افطر فئاما…

جو شخص غدیر کی رات کسی روزہ دار مؤمن کو افطار کرائے، تو گویا اس نے ایک "فئام” کو افطار کرایا ہے۔

ایک شخص نے پوچھا: اے امیر المؤمنین (علیہ السلام)! "فئام” سے کیا مراد ہے؟

آپؑ نے فرمایا: ایک لاکھ انبیا، صدیقین اور شہدا۔

پھر آپ نے بات جاری رکھتے ہوئے فرمایا: پس اس شخص کی فضیلت کا کیا عالم ہوگا جو مؤمنین اور مؤمنات کی ایک پوری جماعت کی کفالت (کھانے ینے کا ذمہ) اٹھائے۔

ایک اور روایت میں آپؑ نے فرمایا: جو کوئی غدیر کے دن اللہ کی راہ میں قرض دے، اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا بڑھا کر عطا فرمائے گا؛ اور عیدِ غدیر کے دن اپنے بہترین لباس پہنو، عطر لگاؤ، اپنے بچوں کو تحائف دو اور سال کا بہترین کھانا کھاؤ۔

روایات میں غدیر کے دن ضرورت مندوں، مؤمنین، دینی بھائیوں کو کھانا کھلانے اور روزہ داروں کو افطار کرانے کی شدید تاکید کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ شیعوں کے ہاں روزِ غدیر کے روزے کا مستحب ہونا انتہائی مشہور و معروف ہے۔[۸]،[۹]،[۱۰]،[۱۱]،[۱۲]

مآخذ
[۱] بحار الانوار، ج ۹۵، ص۳۰۲
[۲] حلی، العدد القویة، ۱۴۰۸ق، ص۱۶۹
[۳] شیخ طوسی، مصباح المتهجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۷۵۷
[۴] شیخ طوسی، مصباح المتهجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۷۵۸؛ ابن‌طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴۶۱
[۵] اقبال الاعمال، ج ۱، ص۴۶۵
[۶] بحار ج۶ ص ۳۰۳
[۷] مفاتیح الجنان ص۵۰۰
[۸] شیخ طوسی، مصباح المتهجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۷۵۷؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۴، ص۱۱۷
[۹]ابن‌طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴۶۳
[۱۰]ابن‌طاووس، اقبال الاعمال، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴۷۵
[۱۱]شیخ طوسی، مصباح المتهجد، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۷۵۸
[۱۲]خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، بیروت، ج۸، ص۲۸۴

 

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے