پانچویں حصے میں امت کو مسئلۂ امامت کی طرف متوجہ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس چھٹے حصے میں منافقین کی کارستانیوں کا ذکر کیا گیا ہے:
چھٹا حصہ: منافقین کی کارستانیوں کی طرف اشارہ
مَعاشِرَ النّاسِ، (آمِنُوا بِالله وَ رَسُولِهِ وَالنَّورِ الَّذي أُنْزِلَ مَعَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَطْمِسَ وُجُوهاً فَنَرُدَّها عَلی أَدْبارِها أَوْ نَلْعَنَهُمْ کما لَعَنَّا أَصْحابَ السَّبْتِ)۔ (بالله ما عَني بِهذِهِ الْآیةِ إِلاَّ قَوْماً مِنْ أَصْحابي أَعْرِفُهُمْ بِأَسْمائِهِمْ وَأَنْسابِهِمْ، وَقَدْ أُمِرْتُ بِالصَّفْحِ عنْهُمْ فَلْیعْمَلْ کلُّ امْرِئٍ عَلی ما یجِدُ لِعَلِي في قَلْبِهِ مِنَ الْحُبِّ وَالْبُغْضِ)۔ مَعاشِرَ النّاسِ، النُّورُ مِنَ الله عَزَّوَجَلَّ مَسْلوک فِي ثُمَّ في عَلِي بْنِ أَبی طالِبٍ، ثُمَّ فِي النَّسْلِ مِنْهُ إِلَی الْقائِمِ الْمَهْدِي الَّذي یأْخُذُ بِحَقِّ الله وَ بِکلِّ حَقّ هُوَ لَنا، لاَِنَّ الله عَزَّوَجَلَّ قَدْ جَعَلَنا حُجَّةً عَلَی الْمُقَصِّرینَ وَالْمعُانِدینَ وَالُْمخالِفینَ وَالْخائِنینَ وَالْآثِمینَ وَالّظَالِمینَ وَالْغاصِبینَ مِنْ جَمیعِ الْعالَمینَ۔
اے لوگو! اللہ، اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا ہے، اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو بگاڑ کر انہیں پشت کی طرف پھیر دیں یا ان پر اسی طرح لعنت کریں جس طرح ہم نے اصحابِ سبت پر کی تھی۔ خدا کی قسم! اس آیت سے مراد میرے اصحاب کا وہ گروہ ہے جنہیں میں ان کے ناموں اور نسب سے جانتا ہوں، لیکن مجھے ان سے درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی بنیاد علی کی اس محبت یا بغض پر رکھے جو وہ اپنے دل میں پاتا ہے (اور جان لے کہ اس کے عمل کی قدر و قیمت اسی پر منحصر ہے)۔ اے لوگو! اللہ عزوجل کی جانب سے نور پہلے مجھ میں، پھر علی میں اور اس کے بعد ان کی نسل سے قائمِ مہدی تک منتقل ہوا ہےــجو اللہ کا حق اور ہمارا ہر وہ حق واپس لے لیں گے جو غصب کیا گیا ہوگاــکیونکہ اللہ عزوجل نے ہمیں تمام جہان کے کوتاہی کرنے والوں، دشمنوں، مخالفوں، خائنوں، گناہگاروں، ظالموں اور غاصبوں پر اپنی حجت اور دلیل قرار دیا ہے۔
مَعاشِرَ النّاسِ، أُنْذِرُکمْ أَنّي رَسُولُ الله قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِي الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مِتُّ أَوْ قُتِلْتُ انْقَلَبْتُمْ عَلی أَعْقابِکمْ؟ وَمَنْ ینْقَلِبْ عَلی عَقِبَیهِ فَلَنْ یضُرَّ الله شَیئاً وَسَیجْزِي الله الشّاکرینَ (الصّابِرینَ)۔ أَلا وَ إِنَّ عَلِیاً هُوَ الْمَوْصُوفُ بِالصَّبْرِ وَالشّکرِ، ثُمَّ مِنْ بَعْدِهِ وُلْدي مِنْ صُلْبِهِ۔ مَعاشِرَ النّاسِ، لا تَمُنُّوا عَلَي بِإِسْلامِکمْ، بَلْ لا تَمُنُّوا عَلَی الله فَیحْبِطَ عَمَلَکمْ وَیسْخَطَ عَلَیکمْ وَیبْتَلِیکمْ بِشُواظٍ مِنْ نارٍ وَنُحاسٍ، إِنَّ رَبَّکمْ لَبِا الْمِرْصادِ۔
اے لوگو! میں تمھیں خبردار کرتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ مجھ سے پہلے بھی رسول آئے اور گزر گئے۔ کیا اگر میں انتقال کر جاؤں یا شہید کر دیا جاؤں تو تم الٹے پاؤں (جاہلیت کی طرف) پلٹ جاؤ گے؟ جو کوئی الٹے پاؤں پھر جائے گا وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، اور اللہ عنقریب شکر گزار اور صابر بندوں کو جزا دے گا۔ جان لوکہ علی اور ان کے بعد میری نسل سے ان کی اولاد کمالِ صبر اور شکر کے حامل ہیں۔ اے لوگو! اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ جتاؤ، اللہ پر بھی احسان نہ دھرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں، اللہ تم پر غضبناک ہو اور تمھیں آگ کے شعلوں اور پگھلے ہوئے تانبے کے عذاب میں مبتلا کر دے۔ یقیناً تمہارا رب گھات میں ہے۔
مَعاشِرَ النّاسِ، إِنَّهُ سَیکونُ مِنْ بَعْدي أَئمَّةٌ یدْعُونَ إِلَی النّارِ وَیوْمَ الْقِیامَةِ لاینْصَرونَ۔ مَعاشِرَ النّاسِ، إِنَّ الله وَأَنَا بَریئانِ مِنْهُمْ۔ مَعاشِرَ النّاسِ، إِنَّهُمْ وَأَنْصارَهُمْ وَأَتْباعَهُمْ وَأَشْیاعَهُمْ فِي الدَّرْک الْأَسْفَلِ مِنَ النّارِ وَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکبِّرِینَ۔ أَلا إِنَّهُمْ أَصْحابُ الصَّحیفَةِ، فَلْینْظُرْ أَحَدُکمْ في صَحیفَتِهِ!! مَعاشِرَ النّاسِ، إِنِّي أَدَعُها إِمامَةً وَ وِراثَةً (في عَقِبی إِلی یوْمِ الْقِیامَةِ)، وَقَدْ بَلَّغْتُ ما أُمِرتُ بِتَبْلیغِهِ حُجَّةً عَلی کلِّ حاضِرٍ وَغائبٍ وَعَلی کلِّ أَحَدٍ مِمَّنْ شَهِدَ أَوْ لَمْ یشْهَدْ، وُلِدَ أَوْ لَمْ یولَدْ، فَلْیبَلِّغِ الْحاضِرُ الْغائِبَ وَالْوالِدُ الْوَلَدَ إِلی یوْمِ الْقِیامَةِ۔ وَسَیجْعَلُونَ الْإِمامَةَ بَعْدي مُلْکاً وَ اغْتِصاباً، (أَلا لَعَنَ الله الْغاصِبینَ الْمُغْتَصبینَ)، وَعِنْدَها سَیفْرُغُ لَکمْ أَیهَا الثَّقَلانِ (مَنْ یفْرَغُ) وَیرْسِلُ عَلَیکما شُواظٌ مِنْ نارٍ وَنُحاسٌ فَلاتَنْتَصِرانِ۔
اے لوگو! عنقریب میرے بعد ایسے پیشوا ہوں گے جو تمھیں جہنم کی آگ کی طرف بلائیں گے اور قیامت کے دن انہیں کوئی مدد نصیب نہ ہوگی۔ اے لوگو! اللہ اور میں ان سے بیزار ہیں۔ اے لوگو! وہ، ان کے مددگار، ان کے پیروکار اور ان کے گروہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور متکبرین کا کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ آگاہ رہو! یہ وہی اصحابِ صحیفہ ہیں۔ اب تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے صحیفہ (اعمال نامہ) میں نظر کر لے۔ اے لوگو! میں امامت اور وراثت کو اپنی نسل میں قیامت تک کے لیے بطور امانت چھوڑے جا رہا ہوں۔ میں نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے اس پیغام کی تبلیغ کر کے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے تاکہ ہر حاضر و غائب، ہر شاہد و غیر شاہد اور ہر پیدا ہونے والے یا نہ ہونے والے پر حجت تمام ہو جائے۔ پس اب یہ ہر حاضر کا فرض ہے کہ غائب تک اور ہر باپ کا فرض ہے کہ اپنی اولاد تک قیامت تک کے لیے یہ پیغام پہنچا دے۔ آگاہ رہو! عنقریب میرے بعد لوگ امامت کو بادشاہت میں بدل دیں گے اور اسے غصب کر لیں گے۔ خبردار! غصب کرنے والوں اور چھیننے والوں پر اللہ کی لعنت ہو! اور اس وقت تم پر آگ کے شعلے اور پگھلا ہوا تانبہ برسایا جائے گا اور تم اپنا دفاع نہ کر سکو گے۔
مَعاشِرَ النّاسِ، إِنَّ الله عَزَّوَجَلَّ لَمْ یکنْ لِیذَرَکمْ عَلی ما أَنْتُمْ عَلَیهِ حَتّی یمیزَ الْخَبیثَ مِنَ الطَّیبِ، وَ ما کانَ الله لِیطْلِعَکم_ عَلَی الْغَیبِ۔ مَعاشِرَ النّاسِ، إِنَّهُ ما مِنْ قَرْیةٍ إِلاّ وَالله مُهْلِکها بِتَکذیبِها قَبْلَ یوْمِ الْقِیامَةِ وَ مُمَلِّکهَا الْإِمامَ الْمَهْدِي وَالله مُصَدِّقٌ وَعْدَهُ۔ مَعاشِرَ النّاسِ، قَدْ ضَلَّ قَبْلَکمْ أَکثَرُ الْأَوَّلینَ، وَالله لَقَدْ أَهْلَک الْأَوَّلینَ، وَهُوَ مُهْلِک الْآخِرینَ۔
اے لوگو! اللہ عزوجل تمھیں تمھارے حال پر نہیں چھوڑے گا جب تک کہ وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے، اور اللہ تمھیں غیب پر مطلع نہیں کرنا چاہتا۔ اے لوگو! روئے زمین پر کوئی ایسی بستی نہیں ہے جسے اللہ قیامت سے پہلے حق کو جھٹلانے کی پرہلاک نہ فرما دے اور اسے امام مہدی کے سپرد نہ کر دے؛ یقیناً اللہ اپنے وعدے کو سچا کرنے والا ہے۔ اے لوگو! تم سے پہلے بھی اکثر لوگ گمراہ ہو چکے ہیں اور اللہ نے گذشتہ اقوام کو ہلاک کیا اور وہی اس قوم کو ہلاک کرنے والا ہے۔
قالَ الله تَعالی : (أَلَمْ نُهْلِک الْأَوَّلینَ، ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الْآخِرینَ، کذالِک نَفْعَلُ بِالُْمجْرِمینَ، وَیلٌ یوْمَئِذٍ لِلْمُکذِّبینَ) ۔مَعاشِرَ النّاسِ، إِنَّ الله قَدْ أَمَرَني وَنَهاني، وَقَدْ أَمَرْتُ عَلِیاً وَنَهَیتُهُ (بِأَمْرِهِ)۔ فَعِلْمُ الْأَمْرِ وَالنَّهُي لَدَیهِ، فَاسْمَعُوا لاَِمْرِهِ تَسْلَمُوا وَأَطیعُوهُ تَهْتَدُوا وَانْتَهُوا لِنَهْیهِ تَرشُدُوا، (وَصیرُوا إِلی مُرادِهِ) وَلا تَتَفَرَّقْ بِکمُ السُّبُلُ عَنْ سَبیلِهِ۔
حق تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: کیا ہم نے گذشتہ اقوام کو ہلاک نہیں کیا؟ پھر ہم اس قوم کو بھی ان کے پیچھے لگا دیں گے۔ ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ اے لوگو! اللہ نے مجھے امر و نہی کااختیار دیا ہے اور میں نے اللہ کے حکم سے علی کو یہ علم اور اختیار سونپ دیا ہے۔ پس امر و نہی کا علم ان کے پاس ہے۔ ان کے حکم کو سنو تسلیم ہوجاؤ، ان کی اطاعت کرو تاکہ ہدایت پاؤ اور جس چیز سے وہ روک دیں اس سے رک جاؤ تاکہ رشد و فلاح پاؤ۔ ان کے مقصد کی طرف بڑھو اور مختلف راستے تمھیں ان سے بھٹکا نہ دیں!
اس خطبے کا تسلسل ساتویں حصے میں ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہجات
علامه امینی، الغدیر، ج۱ص۱۲-۱۵۱و۲۹۴-۳۲۲۔
شیخ عبدالله، بحرانی، عوالم العلوم، ج۱۵/۳ص ۳۰۷-۳۲۷۔
علامه مجلسی، بحارالانوار، ج۳۷ص۱۸۱-۱۸۲۔
حر عاملی، اثبات الهداة، ج۲ص۲۰۰-۲۵۰۔
سید ابن طاووس، الطرائف، ص۳۳۔
