اس خطبے کے پچھلےحصے میں ذکر ہوا کہ رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کے ہاتھ کو بلند کیا۔ اس حصے میں امامت کی طرف امت کی خاص توجہ دلوائی گئی ہے:
پانچواں حصہ: امامت کی طرف خاص طور پر توجہ دینے کی تاکید
مَعاشِرَ النّاسِ، إِنَّما أَکمَلَ الله عَزَّوَجَلَّ دینَکمْ بِإِمامَتِهِ. فَمَنْ لَمْ یأْتَمَّ بِهِ وَبِمَنْ یقُومُ مَقامَهُ مِنْ وُلْدي مِنْ صُلْبِهِ إِلی یوْمِ الْقِیامَةِ وَالْعَرْضِ عَلَی الله عَزَّوَجَلَّ فَأُولئِک الَّذینَ حَبِطَتْ أَعْمالُهُمْ (فِي الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ) وَ فِي النّارِ هُمْ خالِدُونَ، (لایخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذابُ وَلا هُمْ ینْظَرونَ)
اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے علی کی امامت سے دین کو مکمل کر دیا۔ اب جو لوگ میری اولاد اور ان کی اولاد میں سے ان کی اور ان کے جانشینوں کی پیروی نہیں کریں گے – قیامت اور خدا کے سامنے پیش ہونے تک – ان کے اعمال دونوں جہانوں میں حبط ہوجائیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں اس طرح رہیں گے کہ نہ ان کے عذاب میں کوئی کمی ہو گی اور نہ انہیں کوئی موقع ملے گا۔
مَعاشِرَالنّاسِ، هذا عَلِي، أَنْصَرُکمْ لي وَأَحَقُّکمْ بي وَأَقْرَبُکمْ إِلَي وَأَعَزُّکمْ عَلَي، وَالله عَزَّوَجَلَّ وَأَنَا عَنْهُ راضِیانِ. وَما نَزَلَتْ آیةُ رِضاً (في الْقُرْآنِ) إِلاّ فیهِ، وَلا خاطَبَ الله الَّذینَ آمَنُوا إِلاّ بَدَأ بِهِ، وَلا نَزَلَتْ آیةُ مَدْحٍ فِي الْقُرْآنِ إِلاّ فیهِ، وَلا شَهِدَ الله بِالْجَنَّةِ في (هَلْ أَتی عَلَی الْاِنْسانِ) إِلاّ لَهُ، وَلا أَنْزَلَها في سِواهُ وَلا مَدَحَ بِها غَیرَهُ
اے لوگو! یہ علی میرے لیے تم سب سے زیادہ مددگار، سب سے زیادہ حقدار، سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ عزیز ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور میں ان سے راضی ہیں۔ قرآن میں راضی ہونے کے حوالے سے کوئی آیت نہیں ہے مگر یہ کہ وہ ان کے بارے میں ہے۔ اور جب بھی اللہ تعالیٰ مومنین سے مخاطب ہوتا ہے تو ان سے آغاز کرتا ہے ۔ اور ان کے سوا کسی کے لیے مدح والی آیت نازل نہیں ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے علاوہ کسی کے لیے جنت کی گواہی سورہ "ھل أتی علی الانسان” میں نہیں دی، اور اسے ان کے سوا کسی کے لیے نازل نہیں کیا اور اس کے ساتھ ان کے علاوہ کسی کی تعریف نہیں کی۔
مَعاشِرَ النّاسِ، هُوَ ناصِرُ دینِ الله وَالُْمجادِلُ عَنْ رَسُولِ الله، وَ هُوَ التَّقِي النَّقِي الْهادِي الْمَهْدِي. نَبِیکمْ خَیرُ نَبي وَ وَصِیکمْ خَیرُ وَصِي (وَبَنُوهُ خَیرُ الْأَوْصِیاءِ). مَعاشِرَ النّاسِ، ذُرِّیةُ کلِّ نَبِي مِنْ صُلْبِهِ، وَ ذُرِّیتي مِنْ صُلْبِ (أَمیرِالْمُؤْمِنینَ) عَلِي. مَعاشِرَ النّاسِ، إِنَّ إِبْلیسَ أَخْرَجَ آدَمَ مِنَ الْجَنَّةِ بِالْحَسَدِ، فَلا تَحْسُدُوهُ فَتَحْبِطَ أَعْمالُکمْ وَتَزِلَّ أَقْدامُکمْ، فَإِنَّ آدَمَ أُهْبِطَ إِلَی الْأَرضِ بِخَطیئَةٍ واحِدَةٍ، وَهُوَ صَفْوَةُ الله عَزَّوَجَلَّ، وَکیفَ بِکمْ وَأَنْتُمْ أَنْتُمْ وَ مِنْکمْ أَعْداءُ الله، أَلا وَ إِنَّهُ لا یبْغِضُ عَلِیاً إِلاّ شَقِی، وَ لا یوالي عَلِیاً إِلاَّ تَقِي، وَ لا یؤْمِنُ بِهِ إِلاّ مُؤْمِنٌ مُخْلِصٌ .
اے لوگو! وہ خدا کے دین کے حامی اور اس کے رسول کے محافظ ہیں۔ وہ متقی، پاکیزہ اور ہدایت یافتہ رہنما ہیں۔ تمھارا نبی سب سے افضل نبی ہے، ان کا جانشین سب سے بہتر جانشین ہے اور ان کی اولاد سب سے بہترین وصی ہیں۔ اے لوگو! ہر نبی کی اولاد اس کی نسل سے ہے اور میری اولاد امیر المومنین علی کے صلب اور نسل سے ہے۔ اے لوگو! درحقیقت، دھوکے باز شیطان نے آدم کو حسد کی وجہ سے جنت سے نکال دیا۔ علی سے حسد نہ کرو کیوں کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں گے اور تمہارے قدم پھسل جائیں گے۔ آدم ایک غلطی کی وجہ سے زمین پر آگئے، جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے تھے۔ تو تمہارا کیا حال ہوگا جب کہ تم تم ہو اور خدا کے دشمن بھی تمہارے درمیان ہیں۔ آگاہ رہو! علی سے مقابلہ بدبختوں کے سوا کوئی نہیں کرتا۔ اور کوئی ان کی سرپرستی قبول نہیں کرتا سوائے کامیاب پرہیزگار کے۔ اور ان پر خالص مومن کے علاوہ کوئی ایمان نہیں رکھتا۔
وَ فی عَلِي – وَالله – نَزَلَتْ سُورَةُ الْعَصْر: (بِسْمِ الله الرَّحْمانِ الرَّحیمِ، وَالْعَصْرِ، إِنَّ الْإِنْسانَ لَفي خُسْرٍ)، (إِلاّ عَلیاً الّذي آمَنَ وَ رَضِي بِالْحَقِّ وَالصَّبْرِ) .مَعاشِرَ النّاسِ، قَدِ اسْتَشْهَدْتُ الله وَبَلَّغْتُکمْ رِسالَتي وَ ما عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاغُ الْمُبینُ. مَعاشِرَ النّاسِ، (إتَّقُوا الله حَقَّ تُقاتِهِ وَلا تَموتُنَّ إِلاّ وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ)
اور اللہ کی قسم! سورۂ عصر ان کے لیے نازل ہوئی: اللہ کے نام سے جو رحمان اور رحیم ہے، زمانے کی قسم! بے شک انسان نقصان میں ہے، سوائے علی کے جو صاحبِ ایمان ہیں اور سچائی اور صبر سے آراستہ ہیں۔ اے لوگو! میں نے اللہ کو گواہ بنایا اور اس کا پیغام تم تک پہنچایا۔ اور رسول پر صرف بیان کرنے اور روشن طریقے سے پہنچانے کی ذمہ داری ہے! اے لوگو! "ویسا اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جیسا حق ہے اور مرنا تو مسلمان مرنا۔
اس خطبے کا تسلسل چھٹے حصے میں ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ جات
علامہ امینی، الغدیر، ج1، ص12-151 اور 294-322۔
شیخ عبداللہ، بحرانی، عوالم العلوم، ج3/15، ص307-327۔
علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج37، ص181-182۔
حر عاملی، اثبات الہداة، ج2، ص200-250۔
سید ابن طاؤوس، الطرائف، ص33۔
