اس خطبے کے پچھلے حصے میں بارہ اماموں کی ولایت اور امامت کے باضابطہ اعلان پر بات کی گئی۔ اس حصے میں رسول اللہ (صلیاللہعلیہوآلہ) کا امیرالمؤمنین کے ہاتھوں کو بلند کرنا بیان کیا جائے گا۔
چوتھا حصہ: رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کا امیرالمؤمنین علیہالسلام کے ہاتھ کو بلند کرنا
مَعاشِرَ النّاسِ، هذا عَلِي أخي وَ وَصیي وَ واعي عِلْمي، وَ خَلیفَتي في اُمَّتي عَلی مَنْ آمَنَ بي وَعَلی تَفْسیرِ کتابِ الله عَزَّوَجَلَّ وَالدّاعي إِلَیهِ وَالْعامِلُ بِما یرْضاهُ وَالُْمحارِبُ لاَِعْدائهِ وَالْمُوالي عَلی طاعَتِهِ وَالنّاهي عَنْ مَعْصِیتِهِ. إِنَّهُ خَلیفَةُ رَسُولِ الله وَ أَمیرُ الْمُؤْمِنینَ وَالْإمامُ الْهادي مِنَ الله، وَ قاتِلُ النّاکثینَ وَالْقاسِطینَ وَالْمارِقینَ بِأَمْرِالله. یقُولُ الله: (مایبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَی). بِأَمْرِک یارَبِّ أَقولُ: اَلَّلهُمَّ والِ مَنْ والاهُ وَعادِ مَنْ عاداهُ (وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ) وَالْعَنْ مَنْ أَنْکرَهُ وَاغْضِبْ عَلی مَنْ جَحَدَ حَقَّهُ.
اے لوگو! یہ علی ہیں۔ یہی میرے بھائی، میرے جانشین اور میرے علم کے امین ہیں۔ میرے بعد میری امت میں، مجھ پر ایمان لانے والوں پر اور اللہ کی کتاب کی تفسیر بیان کرنے کے لیے یہی میرے خلیفہ ہیں۔ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے، اس کی رضا کے مطابق عمل کرنے والے اور اس کے دشمنوں سے لڑنے والے ہیں۔ وہ اللہ کی فرمانبرداری پر ثابت قدم رہنے والے اور اس کی نافرمانی سے روکنے والے ہیں۔ اور اس کی بندگی پر ابھارنے والے ہیں۔ وہی اللہ کے رسول کے جانشین، مومنوں کے امیر اور خدا کی طرف سے ہدایت دینے والے امام ہیں۔ وہی ہیں جو اللہ کے حکم سے عہد توڑنے والوں (ناکثین)، حق سے پھر جانے والوں (قاسطین) اور دین سے نکل جانے والوں (مارقین) سے جنگ کرنے والے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: میرا حکم تبدیل ہونے والا نہیں ۔اے میرے پروردگار! میں تیرے ہی حکم سے کہتا ہوں: اے اللہ! جو اسے دوست رکھے تو اسے دوست رکھ، اور جو اس سے دشمنی کرے تو اسے دشمن رکھ۔ جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما، اور جو اس کا ساتھ چھوڑ دے تو اس کو چھوڑ دے۔ جو اس کا انکار کرے اس پر اپنی لعنت بھیج اور جو اس کے حق کو جھٹلائے اس پر اپنا غضب نازل فرما۔
اللهمَّ إِنَّک أَنْزَلْتَ الْآیةَ في عَلِي وَلِیک عِنْدَتَبْیینِ ذالِک وَنَصْبِک إِیاهُ لِهذَا الْیوْمِ: (الْیوْمَ أَکمَلْتُ لَکمْ دینَکمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیکمْ نِعْمَتي وَ رَضیتُ لَکمُ الْإِسْلامَ دیناً) ، (وَ مَنْ یبْتَغِ غَیرَ الْإِسْلامِ دیناً فَلَنْ یقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخاسِرینَ). اللهمَّ إِنِّي أُشْهِدُک أَنِّي قَدْ بَلَّغْتُ.
"اے اللہ! تو نے خود علی کو امامت کے منصب پرفائز کرنے اور ان کی ولایت کو واضح کرنے کے موقعے پر یہ آیت نازل فرمائی:آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا، اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔ اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو تلاش کرے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ اے میرے اللہ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے۔
اس خطبے کا تسلسل پانچویں حصے میں پڑھیں۔
حوالہجات
علامہ امینی، الغدیر، ج1، ص12-151 اور 294-322۔
شیخ عبداللہ، بحرانی، عوالم العلوم، ج15/3، ص307-327۔
علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج37، ص181-182۔
حر عاملی، اثبات الہداۃ، ج2، ص200-250۔
سید ابن طاؤوس، الطرائف، ص33۔
