سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

مکمل متن خطبۂ غدیر | تیسرا حصہ

مکمل متن خطبۂ غدیر | تیسرا حصہ

خطبۂ غدیر وہ عظیم خطبہ ہے جو رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے غدیرِ خم کے مقام پر ارشاد فرمایا اور اس میں اللہ کے حکم سے امیر المؤمنین علی علیہ‌السلام کو اپنا جانشین مقرر کیا۔

اس خطبے کے پچھلے حصے میں ایک اہم بات کے بارے میں اللہ کا فرمان سنایا گیا تھا۔ اور اس حصے میں علنی و باضابطہ طور پر بارہ اماموں کی ولایت و امامت کو بیان کیا جائے گا۔

 

تیسرا حصہ: باضابطہ طور پر بارہ ائمہ علیہم‌السلام کی ولایت و امامت کا اعلان



فَاعْلَمُوا مَعاشِرَ النّاسِ (ذالِك فیهِ وَافْهَموهُ وَاعْلَمُوا) أَنَّ الله قَدْ نَصَبَهُ لَکمْ وَلِیاً وَإِماماً فَرَضَ طاعَتَهُ عَلَی الْمُهاجِرینَ وَالْأَنْصارِ وَ عَلَی التّابِعینَ لَهُمْ بِإِحْسانٍ، وَ عَلَی الْبادي وَالْحاضِرِ، وَ عَلَی الْعَجَمِي وَالْعَرَبي، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلوك وَالصَّغیرِ وَالْکبیرِ، وَ عَلَی الْأَبْیضِ وَالأَسْوَدِ، وَ عَلی کلِّ مُوَحِّدٍ. ماضٍ حُکمُهُ، جازٍ قَوْلُهُ، نافِذٌ أَمْرُهُ، مَلْعونٌ مَنْ خالَفَهُ، مَرْحومٌ مَنْ تَبِعَهُ وَ صَدَّقَهُ، فَقَدْ غَفَرَالله لَهُ وَلِمَنْ سَمِعَ مِنْهُ وَ أَطاعَ لَهُ. مَعاشِرَالنّاسِ، إِنَّهُ آخِرُ مَقامٍ أَقُومُهُ في هذا الْمَشْهَدِ، فَاسْمَعوا وَ أَطیعوا وَانْقادوا لاَِمْرِ (الله) رَبِّکمْ، فَإِنَّ الله عَزَّوَجَلَّ هُوَ مَوْلاکمْ وَإِلاهُکمْ، ثُمَّ مِنْ دونِهِ رَسولُهُ وَنَبِیهُ الُْمخاطِبُ لَکمْ، ثُمَّ مِنْ بَعْدي عَلي وَلِیکمْ وَ إِمامُکمْ بِأَمْرِالله رَبِّکمْ، ثُمَّ الْإِمامَةُ في ذُرِّیتي مِنْ وُلْدِهِ إِلی یوْمٍ تَلْقَوْنَ الله وَرَسولَهُ

اے لوگو! آگاہ ہوجاؤ کہ یہ آیت انہی کے بارے میں ہے، اس کو سمجھو اور جان لو کہ اللہ نے ان کو تمہارا سرپرست اور امام قرار دیا ہے اور ان کی پیروی کو تمام مہاجرین و انصار اور وہ جو نیکی کے ساتھ ان کی اتباع کرتے ہیں، صحرا نشینوں، شہریوں، عرب و عجم، آزاد اور غلام، چھوٹے بڑے، گورے اور کالے اور ہر یکتاپرست کے لیے لازم قرار دیا ہے۔ خبردار ان کے فرمان اور قول کو انجام دینا لازم اور ان کا حکم نافذ ہے۔ ان کی مخالفت کرنے والا ملعون ہے اور ان کی پیروی کرنے والے اور تصدیق کرنے والے پر رحمت ہے۔ بےشک اللہ نے ان کو، ان کی بات سننے والوں اور ان کی راہ پر چلنے والوں کو بخش دیا ہے۔ اے لوگو! اب یہ آخری بار ہے کہ میں اس اجتماع میں کھڑا ہوا ہوں۔ پس سنو اور امرِ پروردگار کی اطاعت کرو؛ کیونکہ خدائے عزوجل تمہارا ولی و سرپرست اور معبود ہے؛ اور اللہ کے بعد تمہارا ولی، اس کا رسول ہے جو ابھی تمھارے سامنے موجود ہے اور تم سے ہم کلام ہے اور میرے بعد اللہ کے حکم سے، علی تمھارے ولی، سرپرست اور امام ہیں۔ پھر امامت میری اولاد میں علی کی نسل سے باقی رہے گی۔ یہ الہی قانون قیامت کے دن تک، جب تم اللہ اور اس کے رسول سے ملاقات کرو گے، برقرار رہے گا۔

 

لا حَلالَ إِلاّ ما أَحَلَّهُ الله وَرَسُولُهُ وَهُمْ، وَلا حَرامَ إِلاّ ما حَرَّمَهُ الله (عَلَیکمْ) وَ رَسُولُهُ وَهُمْ، وَالله عَزَّوَجَلَّ عَرَّفَنِي الْحَلالَ وَالْحَرامَ وَأَنَا أَفْضَیتُ بِما عَلَّمَني رَبِّی مِنْ کتابِهِ وَحَلالِهِ وَ حَرامِهِ إِلَیهِ. مَعاشِرَ النّاسِ، علي (فَضِّلُوهُ) ما مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ وَقَدْ أَحْصاهُ الله فِي، وَ کلُّ عِلْمٍ عُلِّمْتُ فَقَدْ أَحْصَیتُهُ في إِمامِ الْمُتَّقینَ، وَما مِنْ عِلْمٍ إِلاّ وَقَدْ عَلَّمْتُهُ عَلِیاً، وَ هُوَ الْإِمامُ الْمُبینُ (الَّذي ذَکرَهُ الله في سُورَةِ یس: (وَ کلَّ شَيءٍ أَحْصَیناهُ في إِمامٍ مُبینٍ). مَعاشِرَ النَّاسِ، لا تَضِلُّوا عَنْهُ وَلا تَنْفِرُوا مِنْهُ، وَلا تَسْتَنْکفُوا عَنْ وِلایتِهِ، فَهُوَ الَّذي یهدي إِلَی الْحَقِّ وَیعْمَلُ بِهِ، وَیزْهِقُ الْباطِلَ وَینْهی عَنْهُ، وَلاتَأْخُذُهُ في الله لَوْمَةُ لائِمٍ. أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِالله وَرَسُولِهِ (لَمْ یسْبِقْهُ إِلَی الْایمانِ بي أَحَدٌ)، وَالَّذي فَدی رَسُولَ الله بِنَفْسِهِ، وَالَّذي کانَ مَعَ رَسُولِ الله وَلا أَحَدَ یعْبُدُ الله مَعَ رَسُولِهِ مِنَ الرِّجالِ غَیرُهُ. (أَوَّلُ النّاسِ صَلاةً وَ أَوَّلُ مَنْ عَبَدَالله مَعي. أَمَرْتُهُ عَنِ الله أَنْ ینامَ في مَضْجَعي، فَفَعَلَ فادِیاً لي بِنَفْسِهِ

حلال وہی ہے جو اللہ، اس کا رسول اور ائمہ حلال کریں؛ اور حرام وہی ہے جسے وہ حرام کریں۔ للہ عزوجل نے تمام حلال اور تمام حرام میرے لیے بیان فرما دیے ہیں، اور جو کچھ میرے پروردگار نے اپنی کتاب اور اپنے حلال و حرام میں سے مجھے سکھایا تھا، وہ سب میں نے علی کے اختیار میں دے دیا ہے۔اے لوگو! علی کو دوسروں پر برتری دو؛ کیونکہ کوئی ایسا علم نہیں ہے جسے اللہ نے میرے پاس جمع نہ کر دیا ہو، اور جتنا بھی علم مجھے سکھایا گیا ہے میں نے وہ سب پرہیزگاروں کے امام کے سپرد کر دیا ہےاور کوئی ایسا علم نہیں ہے جو میں نے علی کو نہ سکھا دیا ہو۔
لوگو! علی وہ روشنی دکھانے والے امام ہیں جن کا ذکر اللہ نے سورۂ یٰسین میں کیا ہے کہ: ہم نے ہر چیز کا حساب امام ِ مبین میں جمع کر رکھا ہے۔
اے لوگو! علی سے منہ نہ موڑو، ان کی پیشوائی سے دور نہ بھاگو اور ان کی سرپرستی سے پیٹھ نہ پھیرو۔ وہی ہیں جو سچائی کی راہ دکھاتے ہیں اور خود بھی اسی پر چلتے ہیں۔ وہ برائی کو مٹاتے اور اس سے روکتے ہیں، اور اللہ کی راہ میں انھیں کسی ملامت کرنے والے کی تنقید کا کوئی ڈر نہیں۔
وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والے سب سے پہلے انسان ہیں اور کوئی بھی ایمان میں ان سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ انہوں نے اپنی جان رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ پر نچھاور کی اور ہمیشہ ان کے ساتھ رہے۔ صرف وہی تھے جو اللہ کے رسول کے ساتھ مل کر بندگی کرتے تھے اور ان کے سوا کوئی ایسا نہ تھا۔ وہ میرے ساتھ نماز پڑھنے والے پہلے شخص ہیں۔ میں نے اللہ کے حکم پر انھیں اپنے بستر پر سونے کو کہا اور انہوں نے بخوشی اپنی جان خطرے میں ڈال کر میرا یہ حکم مانا۔

 

مَعاشِرَ النّاسِ، فَضِّلُوهُ فَقَدْ فَضَّلَهُ الله، وَاقْبَلُوهُ فَقَدْ نَصَبَهُ الله. مَعاشِرَ النّاسِ، إِنَّهُ إِمامٌ مِنَ الله، وَلَنْ یتُوبَ الله عَلی أَحَدٍ أَنْکرَ وِلایتَهُ وَلَنْ یغْفِرَ لَهُ، حَتْماً عَلَی الله أَنْ یفْعَلَ ذالِك بِمَنْ خالَفَ أَمْرَهُ وَأَنْ یعَذِّبَهُ عَذاباً نُکراً أَبَدَا الْآبادِ وَ دَهْرَ الدُّهورِ. فَاحْذَرُوا أَنْ تُخالِفوهُ. فَتَصْلُوا ناراً وَقودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ أُعِدَّتْ لِلْکافِرینَ

اے لوگو! انھیں برتر سمجھو، کیونکہ اللہ نے انھیں چُنا ہے۔ اور ان کی قیادت کو قبول کرو، کیونکہ خدا نے اسے قائم کیا ہے۔ اے لوگو! وہ خدا کی طرف سے امام ہیں، اور خدا ان کے منکر کی توبہ کو کبھی قبول نہیں کرے گا اور اسے معاف نہیں کرے گا۔ نافرمانِ علی کے بارے میں یہ خدا کا قطعی طریقہ ہے اور وہ یقیناً اسے دردناک اور دائمی عذاب دے گا۔ ان کی مخالفت سے ڈرو ورنہ تم اس آگ میں پڑ جاؤ گے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

 

مَعاشِرَ النّاسِ، بي – وَالله – بَشَّرَ الْأَوَّلُونَ مِنَ النَّبِیینَ وَالْمُرْسَلینَ، وَأَنَا – (وَالله) – خاتَمُ الْأَنْبِیاءِ وَالْمُرْسَلینَ والْحُجَّةُ عَلی جَمیعِ الَْمخْلوقینَ مِنْ أَهْلِ السَّماواتِ وَالْأَرَضینَ. فَمَنْ شَك في ذالِك فَقَدْ کفَرَ کفْرَ الْجاهِلِیةِ الْأُولی وَ مَنْ شَك في شَيءٍ مِنْ قَوْلي هذا فَقَدْ شَك في کلِّ ما أُنْزِلَ إِلَي، وَمَنْ شَك في واحِدٍ مِنَ الْأَئمَّةِ فَقَدْ شَك في الْکلِّ مِنْهُمْ، وَالشَاك فینا في النّارِ. مَعاشِرَ النّاسِ، حَبانِي الله عَزَّوَجَلَّ بِهذِهِ الْفَضیلَةِ مَنّاً مِنْهُ عَلَي وَ إِحْساناً مِنْهُ إِلَي وَلا إِلهَ إِلاّ هُوَ، أَلا لَهُ الْحَمْدُ مِنِّي أَبَدَ الْآبِدینَ وَدَهْرَ الدّاهِرینَ وَ عَلی کلِّ حالٍ

اے لوگو! خدا کی قسم پچھلے انبیاء نے میرے ظہور کی بشارت دی اور اب میں خاتم النبیین ہوں اور زمین و آسمان کی مخلوق کے لیے حجت ہوں۔ جو میری سچائی اور دیانت پر یقین نہیں رکھتا وہ جاہلیت کی کفر میں پڑ گیا اور آج میری باتوں میں شک کرنا میری رسالت کے تمام مواد پر شک کرنے کے مترادف ہے اور کسی ایک امام کی امامت میں شک اور کفر ان سب میں شک اور کفر کے مترادف ہے۔ اور یقیناً ہمارے منکروں کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے۔ اے لوگو! خداتعالیٰ نے مجھے یہ سعادت اپنے فضل و کرم سے عطا کی ہے اور یقیناً اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ آگاہ رہو: تمام تعریفیں ہر وقت اور ہر حالت اور مقام پر اسی کے لیے ہیں۔

 

مَعاشِرَ النّاسِ، فَضِّلُوا عَلِیاً فَإِنَّهُ أَفْضَلُ النَّاسِ بَعْدي مِنْ ذَکرٍ و أُنْثی ما أَنْزَلَ الله الرِّزْقَ وَبَقِي الْخَلْقُ. مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ، مَغْضُوبٌ مَغْضُوبٌ مَنْ رَدَّ عَلَی قَوْلی هذا وَلَمْ یوافِقْهُ. أَلا إِنَّ جَبْرئیلَ خَبَّرني عَنِ الله تَعالی بِذالِك وَیقُولُ: «مَنْ عادی عَلِیاً وَلَمْ یتَوَلَّهُ فَعَلَیهِ لَعْنَتي وَغَضَبي»، (وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ ما قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا الله – أَنْ تُخالِفُوهُ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوتِها – إِنَّ الله خَبیرٌ بِما تَعْمَلُونَ). مَعاشِرَ النَّاسِ، إِنَّهُ جَنْبُ الله الَّذي ذَکرَ في کتابِهِ العَزیزِ، فَقالَ تعالی (مُخْبِراً عَمَّنْ یخالِفُهُ): (أَنْ تَقُولَ نَفْسٌ یا حَسْرَتا عَلی ما فَرَّطْتُ في جَنْبِ الله)

اے لوگو! علی کو افضل سمجھنا۔ کیونکہ وہ میرے بعدتمام مردوں اور عورتوں سے افضل ہیں؛ جب تک مخلوق قائم ہے اور ان کا رزق اتر رہا ہے۔ اللہ کی رحمت سے دور ہو اور اس کا غضب ہو اس پر جو اس قول کو قبول نہ کرے اور مجھ سے اتفاق نہ کرے۔ اے لوگو! جان لو کہ جبرائیل نے مجھے اللہ کی طرف سے اطلاع دی ہے: "جو شخص علی کی مخالفت کرے اور ان کی ولایت کو تسلیم نہ کرے، اس پر میری لعنت اور غضب ہو”۔ البتہ ہر ایک کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے قیامت تک کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ [اے لوگو!] تقویٰ اختیار کرو اور علی کے ساتھ اختلاف سے بچو۔ ایسا نہ ہو کہ مضبوطی سے قائم ہونے کے بعد تمھارے قدم پھسل جائیں۔ بے شک اللہ تمھارے اعمال سے باخبر ہے۔
دیکھو لوگو! وہ درحقیقت خدا کے پڑوسی اور ساتھی ہیں جن کا ذکر اس نے اپنی عزیز کتاب میں کیا ہے اور ان سے لڑنے والوں کے بارے میں کہا ہے: جب تک کوئی قیامت کے دن یہ نہ کہے کہ ہائے میں نے خدا کے پڑوسی اور ساتھی کو نظرانداز کیا۔

 

مَعاشِرَ النّاسِ، تَدَبَّرُوا الْقُرْآنَ وَافْهَمُوا آیاتِهِ وَانْظُرُوا إِلی مُحْکماتِهِ وَلاتَتَّبِعوا مُتَشابِهَهُ، فَوَ الله لَنْ یبَینَ لَکمْ زواجِرَهُ وَلَنْ یوضِحَ لَکمْ تَفْسیرَهُ إِلاَّ الَّذي أَنَا آخِذٌ بِیدِهِ وَمُصْعِدُهُ إِلي وَشائلٌ بِعَضُدِهِ (وَ رافِعُهُ بِیدَي) وَ مُعْلِمُکمْ: أَنَّ مَنْ کنْتُ مَوْلاهُ فَهذا عَلِي مَوْلاهُ، وَ هُوَ عَلِي بْنُ أَبی طالِبٍ أَخی وَ وَصِیی، وَمُوالاتُهُ مِنَ الله عَزَّوَجَلَّ أَنْزَلَها عَلَي.

اے لوگو! قرآن میں غور و فکر کرو اور اس کی آیات کو سمجھو، اور اس کے محکمات پر غور کرو، اور اس کے متشابہات کی پیروی نہ کرو۔ پس خدا کی قسم اس کے راز اور تاویل کو ظاہر نہیں کرے گا مگر یہی جن کا ہاتھ اور بازو میں نے پکڑا ہوا اور اٹھایا ہوا ہے اور میں اعلان کرتا ہوں کہ: جس کا میں سرپرست ہوں، یہ علی اس کے سرپرست ہیں۔ اور وہ علی بن ابی طالب ہیں۔ میرے بھائی اور جانشین جن کی ولایت اور سرپرستی خدا کی طرف سے ایک فرمان ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔

 

مَعاشِرَ النّاسِ، إِنَّ عَلِیاً وَالطَّیبینَ مِنْ وُلْدي (مِنْ صُلْبِهِ) هُمُ الثِّقْلُ الْأَصْغَرُ، وَالْقُرْآنُ الثِّقْلُ الْأَکبَرُ، فَکلُّ واحِدٍ مِنْهُما مُنْبِئٌ عَنْ صاحِبِهِ وَ مُوافِقٌ لَهُ، لَنْ یفْتَرِقا حَتّی یرِدا عَلَی الْحَوْضَ. أَلا إِنَّهُمْ أُمَناءُ الله في خَلْقِهِ وَ حُکامُهُ في أَرْضِهِ. أَلا وَقَدْ أَدَّیتُ. أَلا وَقَدْ بَلَّغْتُ، أَلا وَقَدْ أَسْمَعْتُ، أَلا وَقَدْ أَوْضَحْتُ، أَلا وَ إِنَّ الله عَزَّوَجَلَّ قالَ وَ أَنَا قُلْتُ عَنِ الله عَزَّوَجَلَّ، أَلا إِنَّهُ لا «أَمیرَالْمُؤْمِنینَ» غَیرَ أَخي هذا، أَلا لاتَحِلُّ إِمْرَةُ الْمُؤْمِنینَ بَعْدي لاَِحَدٍ غَیرِهِ .

اے لوگو! درحقیقت علی اور میری اولاد میں سے ان کے نسب میں سے پاک لوگ ثقل اصغر اور قرآن ثقل اکبر ہے۔ ان دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے بارے میں مطلع کرتا ہے اور اس کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ وہ اس وقت تک جدا نہیں ہوں گے جب تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس نہ پہنچ جائیں۔ دیکھو! جان لو کہ وہ اس کی مخلوقات میں خدا کے امانت دار اور زمین پر اس کے حاکم ہیں۔ خبردار کہ میں نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے۔ تنبیہ کہ میں نے وہ بات پہنچا دی جو مجھ پر فرض تھی، تمھارے کانوں تک پہنچا دی اور واضح کر دی۔ جان لو کہ یہ خدا کا کلام تھا اور میں نے اس کی طرف سے کہا تھا۔ انتباہ کہ میرے اس بھائی کے علاوہ کسی کو کبھی بھی امیر المؤمنین نہ کہا جائے۔ تنبیہ کہ میرے بعد مومنین کی حاکمیت ان کے سوا کسی کو نہ دی جائے۔

 

ثم قال: ایها النَّاسُ، مَنْ اَوْلی بِکمْ مِنْ اَنْفُسِکمْ؟» قالوا: «الله و رَسُولُهُ.» فَقالَ:اَلا من کنْتُ مَوْلاهُ فَهذا عَلي مَوْلاهُ، اللهمَّ والِ مَنْ والاهُ و عادِ مَنْ عاداهُ وَانْصُرْمَنْ نَصَرَهُ واخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ.

پھر فرمایا: لوگو! تم پر تم سے زیادہ حقدار کون ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول! پھر فرمایا: خبردار! جس کا میں مولا ہوں تو علی اس کے مولا ہیں، اے اللہ اس سے محبت رکھ جو ان کی ولایت کو قبول کرے اور اس سے نفرت کر جو ان سے بغض رکھے اور جو ان کی مدد کرے اس کی مدد کرو اور جو انھیں تنہا چھوڑ دے اسے تو بھی تنہا چھوڑ دو۔

 

اس مضمون کے تسلسل کو  چوتہے حصے میں ملاحظہ فرمائیں۔

 

حوالہ جات
علامہ امینی، الغدیر، ج1، ص12-151 اور 294-322۔
شیخ عبداللہ، بحرانی، عوالم العلوم، ج15/3، ص307-327۔
علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج37، ص181-182۔
حر عاملی، اثبات الہداۃ، ج2، ص200-250۔
سید ابن طاؤوس، الطرائف، ص33۔

 

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے