سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

مکمل متن خطبۂ غدیر | دوسرا حصہ

مکمل متن خطبۂ غدیر | دوسرا حصہ

خطبۂ غدیر وہ عظیم خطبہ ہے جو رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے غدیرِ خم کے مقام پر ارشاد فرمایا اور اس میں اللہ کے حکم سے امیر المؤمنین علی علیہ‌السلام کو اپنا جانشین مقرر کیا۔

پہلے حصے میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کی گئی تھی۔ اس حصے میں ایک نہایت اہم مقصد کی خاطر حکمِ الٰہی کا تذکرہ ہے:

 

حصہ دوم: ایک اہم پیغام کے لیے فرمانِ الٰہی



وَأُقِرُّ لَهُ عَلی نَفْسی بِالْعُبُودِیةِ وَ أَشْهَدُ لَهُ بِالرُّبُوبِیةِ، وَأُؤَدّي ما أَوْحی بِهِ إِلَي حَذَراً مِنْ أَنْ لا أَفْعَلَ فَتَحِلَّ بي مِنْهُ قارِعَةٌ لا یدْفَعُها عَنّي أَحَدٌ وَإِنْ عَظُمَتْ حیلَتُهُ وَصَفَتْ خُلَّتُهُ -لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ – لاَِنَّهُ قَدْ أَعْلَمَني أَنِّی إِنْ لَمْ أُبَلِّغْ ما أَنْزَلَ إِلَيَّ (فی حَقِّ عَلِي) فَما بَلَّغْتُ رِسالَتَهُ، وَقَدْ ضَمِنَ لي تَبارَک وَتَعالَی الْعِصْمَةَ (مِنَ النّاسِ) وَ هُوَ الله الْکافِي الْکریمُ

اور اب میں اس کی بارگاہ میں اپنی بندگی اور اس کی پروردگاری کی گواہی دیتا ہوں۔ میں اس وحی کو پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہا ہوں جو مجھ پر نازل ہوئی ہے، مبادا اسے انجام نہ دینے کی صورت میں مجھ پر اس کی جانب سے کوئی ایسا عذاب نازل ہو جائے جسے ٹالنے کی طاقت کسی میں نہ ہو، خواہ کوئی کتنا ہی بڑا تدبیر کرنے والا یا میرا کتنا ہی مخلص دوست کیوں نہ ہو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، کیونکہ اس نے مجھے آگاہ فرما دیا ہے کہ اگر میں نے وہ پیغام جو علی کے حق میں نازل ہوا ہے لوگوں تک نہ پہنچایا تو گویا میں نے اس کی رسالت کا حق ادا ہی نہیں کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کے شر اور آزار سے میری حفاظت کی ضمانت دی ہے اور بے شک اللہ ہی کافی اور کرم فرمانے والا ہے۔

 

فَأَوْحی إِلَيَّ :«بِسْمِ الله الرَّحْمانِ الرَّحیمِ، یا أَیهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَیک مِنْ رَبِّک» – في عَلِي یعْنی في الْخِلاَفَةِ لِعَلِي بْنِ أَبی طالِبٍ – وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتُ رِسالَتَهُ وَالله یعْصِمُک مِنَ النّاسِ)۔ مَعاشِرَالنّاسِ، ما قَصَّرْتُ في تَبْلیغِ ما أَنْزَلَ الله تَعالی إِلَي، وَ أَنَا أُبَینُ لَکمْ سَبَبَ هذِهِ الْآیةِ: إِنَّ جَبْرئیلَ هَبَطَ إِلَي مِراراً ثَلاثاً یأْمُرُنی عَنِ السَّلامِ رَبّي – وَ هُو السَّلامُ – أَنْ أَقُومَ في هذَا الْمَشْهَدِ فَأُعْلِمَ کلَّ أَبْیضَ وَأَسْوَدَ: أَنَّ عَلِي بْنَ أَبي طالِبٍ أَخی وَ وَصِیي وَ خَلیفَتي (عَلی أُمَّتي) وَالْإِمامُ مِنْ بَعْدي، الَّذی مَحَلُّهُ مِنّي مَحَلُّ هارُونَ مِنْ مُوسی إِلاَّ أَنَّهُ لانَبِي بَعْدي وَهُوَ وَلِیکمْ بَعْدَ الله وَ رَسُولِهِ۔ وَقَدْ أَنْزَلَ الله تَبارَک وَ تَعالی عَلَيَّ بِذالِک آیةً مِنْ کتابِهِ (هِي): (إِنَّما وَلِیکمُ الله وَ رَسُولُهُ وَالَّذینَ آمَنُوا الَّذینَ یقیمُونَ الصَّلاةَ وَیؤْتونَ الزَّکاةَ وَ هُمْ راکعُونَ) ، وَ عَلِي بْنُ أَبي طالِبٍ الَّذي أَقامَ الصَّلاةَ وَ آتَی الزَّکاةَ وَهُوَ راکعٌ یریدُ الله عَزَّ وَجَلَّ في کلِّ حالٍ۔

چنانچہ اللہ نے مجھ پر یہ وحی نازل فرمائی: شروع اللہ کے نام سے جورحمان اور رحیم ہے۔ اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی جانب سے علی اور ان کی خلافت کے بارے میں آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اس کی رسالت کا کوئی کام انجام ہی نہیں دیا، اور اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ اے لوگو! جو کچھ اللہ نے مجھ پر نازل فرمایا، میں نے اس کی تبلیغ میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور اب میں تمھارے سامنے اس آیت کے نازل ہونے کا سبب بیان کرتا ہوں: جبرائیل تین مرتبہ نازل ہوئے اور میرے پروردگارکی جانب سے—جو کہ خود سراپا سلام ہے—یہ حکم لائے کہ میں اس مقام پر قیام کروں اور ہر سفید و سیاہ فام کو یہ بتا دوں کہ علی بن ابی طالب میرے بھائی، میرے وصی، میری امت میں میرے جانشین اور میرے بعد امام ہیں۔ میرے نزدیک ان کی منزلت وہی ہے جو موسیٰ کے نزدیک ہارون کی تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ وہ اللہ اور اس کے رسول کے بعد تمھارے صاحبِ اختیار ہیں۔ اس بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مجھ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے: تمہارا ولی تو بس اللہ ، اس کا رسول اور وہ مومنین ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔ اور وہ علی بن ابی طالب ہی ہیں جنھوں نے نماز قائم کی اور رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دی، وہ ہر حال میں صرف اللہ کی رضا کے طلب گار رہتے ہیں۔

 

وَسَأَلْتُ جَبْرَئیلَ أَنْ یسْتَعْفِي لِي (السَّلامَ) عَنْ تَبْلیغِ ذالِک إِلیکمْ – أَیهَا النّاسُ – لِعِلْمی بِقِلَّةِ الْمُتَّقینَ وَکثْرَةِ الْمُنافِقینَ وَإِدغالِ اللّائمینَ وَ حِیلِ الْمُسْتَهْزِئینَ بِالْإِصْلامِ، الَّذینَ وَصَفَهُمُ الله في کتابِهِ بِأَنَّهُمْ یقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ ما لَیسَ في قُلوبِهِمْ، وَیحْسَبُونَهُ هَیناً وَ هُوَ عِنْدَ الله عَظیمٌ۔ وَکثْرَةِ أَذاهُمْ لي غَیرَ مَرَّةٍ حَتّی سَمَّوني أُذُناً وَ زَعَمُوا أَنِّي کذالِک لِکثْرَةِ مُلازَمَتِهِ إِیي وَ إِقْبالي عَلَیهِ (وَ هَواهُ وَ قَبُولِهِ مِنِّي) حَتّی أَنْزَلَ الله عَزَّوَجَلَّ في ذالِک (وَ مِنْهُمُ الَّذینَ یؤْذونَ النَّبِي وَ یقولون هُوَ أُذُنٌ، قُلْ أُذُنُ – (عَلَی الَّذینَ یزْعُمونَ أَنَّهُ أُذُنٌ) – خَیرٍ لَکمْ، یؤْمِنُ بِالله وَ یؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنینَ) الآیةُ ۔

اے لوگو! میں نے جبرائیل سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ میرے رب سے مجھے اس حکم کی تبلیغ سےباز رکھےکیونکہ میں پرہیزگاروں کی قلت، منافقوں کی کثرت، ملامت کرنے والوں کی سازشوں اور اسلام کا مذاق اڑانے والوں کے مکر و فریب سے بخوبی واقف ہوں۔؛ یہ وہی لوگ ہیں جن کے وصف میں اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: وہ اپنی زبانوں سے ایسی باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں اور اسے معمولی سمجھتے ہیں جب کہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔انھوں نے بارہا مجھے دکھ پہنچایا یہاں تک کہ وہ مجھے اُذُن (ہر ایک کی باتوں میں آنے والا) کہنے لگے۔ ان کا یہ گمان محض اس لیے تھا کہ علی ہمیشہ میرے ساتھ رہتے ہیں اور میرا رخ ہمیشہ ان کی جانب ہوتا ہے اور وہ میرا ہر حکم تسلیم کرتے ہیں؛ یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو نبی کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو بس کان ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ (تمھارے گمان کے برخلاف) ان کا کان ہونا تمھارے لیے بہتری کا باعث ہے، وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور مومنین کی باتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔

 

وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّي الْقائلینَ بِذالِک بِأَسْمائهِمْ لَسَمَّیتُ وَأَنْ أُوْمِئَ إِلَیهِمْ بِأَعْیانِهِمْ لَأَوْمَأْتُ وَأَنْ أَدُلَّ عَلَیهِمُ لَدَلَلْتُ، وَلکنِّی وَالله في أُمورِهمْ قَدْ تَکرَّمْتُ۔ وَکلُّ ذالِک لایرْضَی الله مِنّی إِلاّ أَنْ أُبَلِّغَ ما أَنْزَلَ الله إِلَي (فی حَقِّ عَلِی)، ثُمَّ تلا: (یا أَیهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَیک مِنْ رَبِّک – في حَقِّ عَلِي – وَ انْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتُ رِسالَتَهُ وَالله یعْصِمُک مِنَ النّاسِ)

اور اگر میں چاہوں کہ ایسی باتیں کرنے والوں کے نام لوں، یا ان کی طرف اشارہ کروں، یا لوگوں کو ان کی طرف شناخت کے لیے رہنمائی کروں، تو یقیناً میں ایسا کر سکتا ہوں۔، لیکن خدا کی قسم! میں نے ان کے معاملے میں کریمی اور درگزر سے کام لیا ہے۔ اس سب کے باوجود، اللہ مجھ سے اس وقت تک راضی نہیں ہوگا جب تک میں وہ پیغام تم لوگوں تک نہ پہنچا دوں جو اس نے علی کے حق میں نازل فرمایا ہے۔ پھر آپ صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: اے رسول! جو کچھ آپ کے رب کی جانب سے آپ پر نازل کیا گیا ہے—یعنی علی کے حق میں—اسے پہنچا دیجیے، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اس کی رسالت کا کوئی کام ہی نہیں کیا، اور اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

 

اس مضمون کے تسلسل کو تیسرے حصے میں ملاحظہ فرمائیں۔

 

حوالہ جات
علامہ امینی، الغدیر، ج۱ص۱۲-۱۵۱و۲۹۴-۳۲۲۔
شیخ عبدالله، بحرانی، عوالم العلوم، ج۱۵/۳ص ۳۰۷-۳۲۷۔
علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج۳۷ص۱۸۱-۱۸۲۔
حر عاملی، اثبات الہداة، ج۲ص۲۰۰-۲۵۰۔
سید ابن طاووس، الطرائف، ص۳۳۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے