خطبہ غدیر ۱۸ ذوالحجہ ۱۰ ہجری کو حجۃ الوداع سے واپسی کے موقعے پر، غدیرِ خم کے مقام پر آیتِ تبلیغ کے نزول کے بعد ارشاد فرمایا گیا۔
یہ خطبہ رسولِ اکرم صلیاللہعلیهوآلہ کے بعد امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی ولایت و امامت پر قوی ترین دلائل میں سے ایک ہے۔ مختلف قرائن اور شواہد اس حدیث کی بنیاد پر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت کے دعوے کی تائید کرتے ہیں۔ خطبے کے اس اہم حصے کو ۱۱۰ سے زائد صحابہ اور ۸۴ تابعین نے "متواتر” طور پر نقل کیا ہے۔
خطبہ غدیر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء سے شروع ہوتا ہے اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور ان کی اولاد کی امامت کے تذکرے اور منصبِ امامت کے مکمل تعارف پر ختم ہوتا ہے۔
اس خطبے کا مکمل متن درج ذیل ہے:
پہلا حصہ: حمد و ثنائے الٰہی
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذي عَلا في تَوَحُّدِهِ وَ دَنا في تَفَرُّدِهِ وَجَلَّ في سُلْطانِهِ وَعَظُمَ في اَرْکانِهِ، وَاَحاطَ بِکلِّ شَيءٍ عِلْماً وَ هُوَ في مَکانِهِ وَ قَهَرَ جَمیعَ الْخَلْقِ بِقُدْرَتِهِ وَ بُرْهانِهِ حَمیداً لَمْ یزَلْ، مَحْموداً لایزالُ (وَ مَجیداً لایزولُ، وَمُبْدِئاً وَمُعیداً وَ کلُّ أَمْرٍ إِلَیهِ یعُودُ). بارِئُ الْمَسْمُوکاتِ وَداحِي الْمَدْحُوّاتِ وَجَبّارُ الْأَرَضینَ وَ السّماواتِ، قُدُّوسٌ سُبُّوحٌ، رَبُّ الْمَلائکةِ وَالرُّوحِ ، مُتَفَضِّلٌ عَلی جَمیعِ مَنْ بَرَأَهُ، مُتَطَوِّلٌ عَلی جَمیعِ مَنْ أَنْشَأَهُ. یلْحَظُ کلَّ عَینٍ وَالْعُیونُ لاتَراهُ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اپنی یکتائی میں بلند مرتبہ اور اپنی تنہائی میں مخلوق سے قریب ہے؛ اس کی سلطنت پرجلال اور اس کی کائنات کے ستون نہایت مستحکم ہیں۔ وہ کسی خاص جگہ میں سما جانے یا جگہ بدلنے سے پاک رہ کر ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے، اور اپنی قدرت و برہان کے ذریعے تمام مخلوقات پر غالب ہے۔ وہ ہمیشہ سے لائقِ ستائش ہے اور ابد تک رہے گا، اس کی بزرگی اور عظمت کی کوئی انتہا نہیں۔ اسی سے آغاز ہے، اسی سے انجام، اور تمام معاملات کی بازگشت اسی کی طرف ہے۔ وہی آسمانوں کا خالق، زمینوں کا بچھانے والا اور ان کا حکمران ہے۔ وہ مخلوقات کی صفات سے منزہ و مبرا ہے، اور اپنی پاکیزگی میں تمام کائنات کی تسبیح و تقدیس سے بھی بلند و برتر ہے۔ وہی فرشتوں اور روح کا پروردگار ہے؛ تمام مخلوقات پر فضل و کرم کرنے والا اور ہر موجود شے کو نعمتوں سے نوازنے والا ہے۔ پلک جھپکنے میں وہ دیکھ لیتا ہے ، مگردیکھنے والوں کی آنکھیں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔
کریمٌ حَلیمٌ ذُو أَناتٍ، قَدْ وَسِعَ کلَّ شَيءٍ رَحْمَتُهُ وَ مَنَّ عَلَیهِمْ بِنِعْمَتِهِ. لا یعْجَلُ بِانْتِقامِهِ، وَلا یبادِرُ إِلَیهِمْ بِمَا اسْتَحَقُّوا مِنْ عَذابِهِ. قَدْفَهِمَ السَّرائِرَ وَ عَلِمَ الضَّمائِرَ، وَلَمْ تَخْفَ عَلَیهِ اَلْمَکنوناتُ ولا اشْتَبَهَتْ عَلَیهِ الْخَفِیاتُ. لَهُ الْإِحاطَةُ بِکلِّ شَیءٍ، والغَلَبَةُ علی کلِّ شَيءٍ والقُوَّةُ في کلِّ شَئٍ والقُدْرَةُ عَلی کلِّ شَئٍ وَلَیسَ مِثْلَهُ شَیءٌ. وَ هُوَ مُنْشِئُ الشَّیءِ حینَ لاشَيءَ دائمٌ حَي وَقائمٌ بِالْقِسْطِ، لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ. جَلَّ عَنْ أَنْ تُدْرِکهُ الْأَبْصارُ وَ هُوَ یدْرِک الْأَبْصارَ وَ هُوَ اللَّطیفُ الْخَبیرُ. لا یلْحَقُ أَحَدٌ وَصْفَهُ مِنْ مُعاینَةٍ، وَلا یجِدُ أَحَدٌ کیفَ هُوَ مِنْ سِرٍ وَ عَلانِیةٍ إِلاّ بِما دَلَّ عَزَّوَجَلَّ عَلی نَفْسِهِ
وہ نہایت کریم، بردبار اور صابر ہے۔ اس کی رحمت کائنات پر محیط اور اس کی عطا احسانِ عظیم ہے۔ وہ انتقام لینے میں جلدی نہیں کرتا اور عذاب کے مستحقین کو سزا دینے میں نہایت صبر و تحمل سے کام لیتا ہے۔ وہ بھیدوں کا جاننے والا اور سینوں کے رازوں سے واقف ہے۔ پوشیدہ باتیں اس پر عیاں اور مخفی حقائق اس کے سامنے روشن ہیں۔ ہر موجود شے پر اسی کا احاطہ اور غلبہ ہے۔ مخلوقات کی توانائی اسی سے ہے اور ہر پدیدے پر قدرت اسی کا خاصہ ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں، وہی ہے جس نے ہستی کو عدم کی تاریکیوں سے وجود بخشا۔ وہ جاویداں، زندہ اور عدل و انصاف قائم کرنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہی صاحبِ عزت و حکمت ہے۔ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو پانے والا ہے۔ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔ کوئی شخص اسے دیکھ کر اس کی صفت بیان کرنے کی تاب نہیں رکھتا اور نہ ہی کوئی اس کی پوشیدہ یا ظاہر کیفیت کا سراغ لگا سکتا ہے، سوائے اس کے کہ وہ خدائے عزوجل خود (اپنی معرفت کی) راہ دکھائے اور اپنی پہچان کروا دے۔
وَأَشْهَدُ أَنَّهُ الله الَّذي مَلَأَ الدَّهْرَ قُدْسُهُ، وَالَّذي یغْشَی الْأَبَدَ نُورُهُ، وَالَّذي ینْفِذُ أَمْرَهُ بِلا مُشاوَرَةِ مُشیرٍ وَلا مَعَهُ شَریک في تَقْدیرِهِ وَلا یعاوَنُ في تَدْبیرِهِ. صَوَّرَ مَا ابْتَدَعَ عَلی غَیرِ مِثالٍ، وَخَلَقَ ما خَلَقَ بِلا مَعُونَةٍ مِنْ أَحَدٍ وَلا تَکلُّفٍ وَلاَ احْتِیالٍ. أَنْشَأَها فَکانَتْ وَ بَرَأَها فَبانَتْ. فَهُوَ الله الَّذي لا إِلاهَ إِلاَّ هُو المُتْقِنُ الصَّنْعَةَ، اَلْحَسَنُ الصَّنیعَةِ، الْعَدْلُ الَّذي لایجُوُر، وَالْأَکرَمُ الَّذي تَرْجِعُ إِلَیهِ الْأُمُورُ وَأَشْهَدُ أَنَّهُ الله الَّذي تَواضَعَ کلُّ شَيءٍ لِعَظَمَتِهِ، وَذَلَّ کلُّ شَيءٍ لِعِزَّتِهِ، وَاسْتَسْلَمَ کلُّ شَيءٍ لِقُدْرَتِهِ، وَخَضَعَ کلُّ شَيءٍ لِهَیبَتِهِ. مَلِک الْاَمْلاک وَ مُفَلِّک الْأَفْلاک وَمُسَخِّرُ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، کلٌّ یجْری لاَجَلٍ مُسَمّی یکوِّرُ الَّلیلَ عَلَی النَّهارِ وَ یکوِّرُ النَّهارَ عَلَی الَّلیلِ یطْلُبُهُ حَثیثاً. قاصِمُ کلِّ جَبّارٍ عَنیدٍ وَ مُهْلِک کلِّ شَیطانٍ مَریدٍ.
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہی اللہ ہے؛ وہ جس کی پاکیزگی تمام زمانوں پر محیط اور جس کا نور ابدیت کو شامل ہے۔ وہ کسی مشیر کے بغیر اپنے احکامات جاری کرتا ہے، کسی شریک کے بغیر اپنی تقدیر کا فیصلہ فرماتا ہے اور کسی مددگار کے بغیر کائنات کے نظام کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کی تخلیق کا کوئی پیشگی نمونہ نہ تھا اور اس نے مخلوقات کو کسی معاون، مشقت یا حیلہ جوئی کے بغیر عدم سے وجود بخشا۔ یہ جہان اسی کی ایجاد سے موجود ہوا اور اسی کی تخلیق سے نمودار ہوا۔ پس وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں؛ وہی جس کی صنعت استوار اور جس کی آفرینش کا ڈھانچہ حسن و جمال کا شاہکار ہے۔ وہ ایسا منصف ہے جو ظلم روا نہیں رکھتا اور ایسا کریم ہے کہ تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہی اللہ ہے جس کی عظمت کے سامنے تمام مخلوقات سرنگوں، جس کی عزت کے سامنے سب رام، جس کی قدرت کے سامنے سب تسلیم اور جس کی ہیبت و بزرگی کے سامنے سب عاجز و فروتن ہیں۔ وہی کائنات کا بادشاہ، آسمانی کروں کو گردش دینے والا اور سورج و چاند کو مسخر کرنے والا ہے، جو ایک معین وقت تک رواں دواں ہیں۔ وہ رات کے پردے کو دن پر اور دن کے پردے کو—جو تیزی سے رات کے پیچھے آتا ہے—رات پر لپیٹ دیتا ہے۔ وہی ہر سرکش ستمگر کی کمر توڑنے والا اور ہر شیطانِ مردود کو نیست و نابود کرنے والا ہے۔
لَمْ یکنْ لَهُ ضِدٌّ وَلا مَعَهُ نِدٌّ أَحَدٌ صَمَدٌ لَمْ یلِدْ وَلَمْ یولَدْ وَلَمْ یکنْ لَهُ کفْواً أَحَدٌ. إلهٌ واحِدٌ وَرَبٌّ ماجِدٌ یشاءُ فَیمْضي، وَیریدُ فَیقْضي، وَیعْلَمُ فَیحْصي، وَیمیتُ وَیحْیی، وَیفْقِرُ وَیغْنی، وَیضْحِک وَیبْکي، (وَیدْني وَ یقْصي) وَیمْنَعُ وَیعْطي، لَهُ الْمُلْک وَلَهُ الْحَمْدُ، بِیدِهِ الْخَیرُ وَ هُوَ عَلی کلِّ شَيءٍ قَدیرٌ. یولِجُ الَّلیلَ في النَّهارِ وَیولِجُ النَّهارَ في الَّلیل، لا إِلهَ إِلاّ هُوَ الْعَزیزُ الْغَفّارُ. مُسْتَجیبُ الدُّعاءِ وَمُجْزِلُ الْعَطاءِ، مُحْصِي الْأَنْفاسِ وَ رَبُّ الْجِنَّةِ وَالنّاسِ، الَّذي لایشْکلُ عَلَیهِ شَيءٌ، وَ لایضجِرُهُ صُراخُ الْمُسْتَصْرِخینَ وَلایبْرِمُهُ إِلْحاحُ الْمُلِحّینَ. اَلْعاصِمُ لِلصّالِحینَ، وَالْمُوَفِّقُ لِلْمُفْلِحینَ، وَ مَوْلَی الْمُؤْمِنینَ وَرَبُّ الْعالَمینَ. الَّذي اسْتَحَقَّ مِنْ کلِّ مَنْ خَلَقَ أَنْ یشْکرَهُ وَیحْمَدَهُ (عَلی کلِّ حالٍ).
نہ اس کا کوئی مخالف ہے، نہ کوئی شریک اور نہ ہی کوئی ہمسر۔ وہ یکتا اور بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد؛ اس کا کوئی ہم پلہ نہیں۔ وہ خدائے یگانہ اور پروردگارِ بزرگوار ہے۔ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے، ارادہ فرماتا ہے تو حکم صادر کر دیتا ہے۔ وہ (ہر شے کو) جانتا ہے اور اس کا شمار رکھتا ہے۔ وہی مارتا ہے اور وہی جِلاتا ہے۔ وہی غنی کرتا ہے اور وہی محتاج بناتا ہے۔ وہی ہنساتا ہے اور وہی رولاتا ہے۔ قریب کرنا اور دور لے جانا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی روکتا ہے اور وہی عطا فرماتا ہے۔ بادشاہی اسی کی ہے اور ستائش بھی اسی کے لیے۔ تمام تر بھلائی اسی کے دستِ قدرت میں ہے اور وہ ہر چیز پر توانا ہے۔ وہ رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں؛ وہ صاحبِ عزت اور بہت بخشنے والا ہے۔ دعاؤں کو قبول کرنے والا، عطاؤں میں اضافہ کرنے والا اور سانسوں کا شمار رکھنے والا ہے؛ وہی جن و انس کا پروردگار ہے۔ کوئی چیز اس کے لیے دشوار نہیں، فریادیوں کی پکار اسے آزردہ نہیں کرتی اور اصرار کرنے والوں کا اصرار اسے تھکاتا نہیں۔ وہ نیکوکاروں کا نگہبان، رستگاروں کا یار و مددگار، مومنوں کا صاحبِ اختیار اور جہانوں کا پالنے والا ہے؛ وہ جو ہر حال میں تمام مخلوقات کی حمد و ثنا کا سزاوار ہے۔
أَحْمَدُهُ کثیراً وَأَشْکرُهُ دائماً عَلَی السَّرّاءِ والضَّرّاءِ وَالشِّدَّةِ وَالرَّخاءِ، وَأُومِنُ بِهِ و بِمَلائکتِهِ وکتُبِهِ وَرُسُلِهِ. أَسْمَعُ لاَمْرِهِ وَاُطیعُ وَأُبادِرُ إِلی کلِّ ما یرْضاهُ وَأَسْتَسْلِمُ لِما قَضاهُ، رَغْبَةً في طاعَتِهِ وَ خَوْفاً مِنْ عُقُوبَتِهِ، لاَنَّهُ الله الَّذي لا یؤْمَنُ مَکرُهُ وَلا یخافُ جَورُهُ.
میں اس کی دائمی حمد اور بے حد و حساب شکر بجا لاتا ہوں، خوشی ہو یا رنج، آسائش ہو یا سختی (ہر حال میں وہی لائقِ ستائش ہے)۔ میں اس پر، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں اس کے احکامات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہوں اور اس کی اطاعت بجا لاتا ہوں؛ اس کی خوشنودی کی طرف تیزی سے بڑھتا ہوں اور اس کے فیصلے کے سامنے سراپا تسلیم ہوں؛ کیونکہ میں اس کی بندگی کا شوق رکھتا ہوں اور اس کے عذاب سے لرزاں ہوں۔ اس لیے کہ وہ ایسا خدا ہے جس کی تدبیر (مکر) سے کوئی خود کو امان میں نہیں سمجھ سکتا اور نہ ہی کسی کو اس کی ناانصافی کا خوف ہے (کیونکہ اس کی ذات ظلم سے پاک ہے)۔
اس مضمون کے تسلسل کو دوسرے حصے میں ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ جات
علامہ امینی، الغدیر، ج۱ص۱۲-۱۵۱و۲۹۴-۳۲۲
شیخ عبدالله، بحرانی، عوالم العلوم، ج۱۵/۳ص ۳۰۷-۳۲۷
علامہ مجلسی، بحارالانوار، ج۳۷ص۱۸۱-۱۸۲
حر عاملی، اثبات الہداة، ج۲ص۲۰۰-۲۵۰
سید ابن طاووس، الطرائف، ص۳۳