سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

تاریخ اسلام کی فیصلہ کن رات میں امیرالمومنین کی فداکاری

اس رات، جب ہر طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی اور مکہ کی فضا پر سکوت طاری تھا، علی بن ابی طالب علیہ‌السلام بے مثال شجاعت و فداکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسولِ اسلام صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی جگہ ان کے بستر پر لیٹ گئے، تاکہ آپ کی جان کو کفار کی سازشوں سے محفوظ رکھا جا سکے اور مدینہ کی جانب ہجرت کی راہ ہموار ہو۔ لیلۃ المبیت وہ رات تھی جو تاریخ اسلام کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔

یکم ربیع الاول سنہ ۱ ہجری کو قریش اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے سخت پریشان تھے۔ انہوں نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو قتل کرکے دعوت اسلام کو روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سازش لیلۃ المبیت کے نام سے معروف رات میں عملی جامہ پہنائی گئی۔ جبرئیل علیہ‌السلام نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو مشرکین کی سازش سے آگاہ فرمایا۔ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو گھر سے نکلنے اور اس رات اپنے معمول کے بستر پر نہ سونے کی ہدایت دی۔

دارالندوہ کا اجلاس اور سازش کا منصوبہ

اس اجلاس میں قریش کے سردار، جن میں ابوجہل، ابوسفیان اور دیگر قبائل کے بزرگ شامل تھے، موجود تھے۔ ابتدا میں تجویز پیش کی گئی کہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو قید کر دیا جائے تاکہ وہ بھی سابقہ شاعروں کی طرح طبعی موت مر جائیں۔ تاہم، یہ تجویز اس خدشے کے باعث مسترد کر دی گئی کہ کہیں ان کے پیروکار انہیں آزاد نہ کرا لیں۔ اس کے بعد رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو مکہ سے جلاوطن کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ تاہم، یہ منصوبہ بھی اس اندیشے کے باعث مسترد کر دیا گیا کہ آپ دوسرے قبائل میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیں گے۔

آخرکار ابوجہل نے ہر قبیلے سے ایک بہادر نوجوان منتخب کرنے کی تجویز پیش کی۔ سب مل کر رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر حملہ کریں تاکہ خون تمام قبائل میں تقسیم ہو جائے اور بنی ہاشم کسی ایک قبیلے سے انتقام نہ لے سکیں۔ اس تجویز کو منظور کر لیا گیا اور قریش اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار ہو گئے۔[۱]

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو سازش کی اطلاع

اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ‌السلام کے ذریعے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو اس سازش سے آگاہ فرمایا۔ چنانچہ رسول خاتم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا اور خود پوشیدہ طور پر گھر سے نکل گئے۔

ابن‌عباس نقل کرتے ہیں:

«مشرکین دارالندوہ میں جمع ہوئے تاکہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے قتل کے بارے میں مشورہ کریں۔ اسی دوران جبرئیل رسول خدا کے پاس آئے اور انہیں ان کی سازش سے آگاہ کیا اور حکم دیا کہ اس رات آپ اپنے بستر پر نہ سوئیں۔ چنانچہ جب رسولِ خدا نے رات کے وقت شہر سے نکلنے کا ارادہ کیا تو امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کو حکم دیا کہ وہ ان کے بستر پر سو جائیں۔ امیرالمومنین علیہ‌السلام نے بھی ایسا ہی کیا اور رسول خدا کی سبز چادر اپنے گرد لپیٹ لی اور اپنی تلوار پاس رکھ لی۔ جب قریشی رسول خدا کے قتل کے ارادے سے گھات لگائے بیٹھے تھے اور ان کی تعداد پچیس افراد تک پہنچ چکی تھی، آپ گھر سے باہر تشریف لے گئے، جبکہ وہ دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔

رسول خدا نے زمین سے مٹھی بھر خاک اٹھائی اور ان کے سروں پر ڈال دی اور سوره یس کی آیات ۱ تا ۹ کی تلاوت فرمائی: «یٰس وَالْقُرْآنِ الْحَکِیمِ… فَأَغْشَیْنَاهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُونَ»

پھر ایک شخص نے ان سے کہا: «تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ خدا کی قسم! تم دھوکا کھا گئے، وہ تمہارے پاس سے گزر گئے اور تم میں سے ہر ایک کے سر پر خاک ڈال گئے!»

انہوں نے کہا: «خدا کی قسم! ہم نے انہیں نہیں دیکھا۔»

اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورۂ انفال کی آیت ۳۰ نازل فرمائی:

«اور جب کافروں نے آپ کے خلاف سازش کی کہ آپ کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا جلاوطن کر دیں، تو وہ بھی تدبیر کر رہے تھے اور اللہ بھی تدبیر فرما رہا تھا، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔»[۲]

مولائے متقیان کی فداکاری

جب قریش کے کفار نے رسول اسلام کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا، اسی دوران جبرئیل رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے پاس آئے اور عرض کیا:

«آج رات اپنے معمول کے بستر پر نہ سوئیے۔»

جب رات ہوئی اور ہر طرف تاریکی چھا گئی، تو رسول خاتم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے مخالفین آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے گھر کے قریب جمع ہوگئے۔ وہ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر حملہ کرنے کے لیے موقع کی تاک میں تھے۔ وہ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے سو جانے کا انتظار کرنے لگے تاکہ اچانک حملہ کرسکیں۔

جب رسول خدا نے ان کی موجودگی دیکھی تو علی بن ابی طالب علیہ‌السلام سے فرمایا:

«میرے بستر پر سو جاؤ اور یہ سبز حضرمی چادر اپنے اوپر ڈال کر سو جاؤ، ان میں سے کوئی بھی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔»

رسول خدا ہمیشہ اسی سبز چادر میں سویا کرتے تھے۔[۳]

اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے سامنے فخر و مباہات

ابوسعید خدری ایک روایت نقل کرتے ہیں:

اللہ تعالیٰ نے رسول خاتم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی جان کی حفاظت کے لیے مولائے متقیان علیہ‌السلام کی فداکاری پر فخر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل و میکائیل علیہماالسلام کو امیرالمومنین علیہ‌السلام کی حفاظت کے لیے زمین پر بھیجا۔

ابوسعید خدری، جو رسول خدا کے اصحاب میں سے تھے، روایت کرتے ہیں:

«جب رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ مدینہ کی طرف روانہ ہونے کا ارادہ کر رہے تھے اور امیرالمومنین علیہ‌السلام رسول خدا کے بستر پر سو رہے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل اور میکائیل کی طرف وحی فرمائی:

میں نے تم دونوں میں سے ایک کے لیے موت مقدر کی ہے؛ تم میں سے کون دوسرے کے لیے ایثار کرنے پر آمادہ ہے؟ دونوں نے زندگی کو ترجیح دی۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طرف وحی فرمائی:

تم علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کی طرح کیوں نہ ہوئے؟ میں نے ان کے اور محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کیا اور ان دونوں میں سے ایک کی عمر دوسرے سے زیادہ مقرر کی۔

علی علیہ‌السلام نے موت کو اختیار کیا اور محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی زندگی کو ترجیح دی اور ان کے بستر پر سو گئے؛ اب تم دونوں جاؤ اور انہیں ان کے دشمنوں سے محفوظ رکھو۔

چنانچہ جبرئیل و میکائیل زمین پر اترے؛ ایک ان کے سرہانے اور دوسرا پائنتی کی طرف بیٹھ گیا تاکہ انہیں دشمنوں سے محفوظ رکھیں اور جو پتھر ان کی جانب پھینکے جاتے، انہیں دور کرتے رہیں۔

اس موقع پر جبرئیل نے کہا:

«اے ابوطالب کے فرزند! شاباش! تم جیسا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے ساتوں آسمانوں کے فرشتوں کے سامنے فخر فرماتا ہے۔»

پھر اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی آیت ۲۰۷ نازل فرمائی:

وَمِنَ النَّاسِ مَن یَشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَاللهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبَادِ؛ اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی جان فروخت کر دیتا ہے، اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔[۴]

رسول خدا کے پہلے فدائی

امام سجاد علیہ‌السلام نے لیلۃ المبیت اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کی بے مثال فداکاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

«سب سے پہلے جس شخص نے اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جان فروخت کی اور اپنی جان سے دست بردار ہوا، وہ امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ‌السلام تھے۔ جب مشرکین نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو اپنے بستر پر موجود نہ پایا تو وہ رسول خدا کو قتل کرنے کے لیے نکل پڑے، اور اس کے بعد امیرالمومنین علیہ‌السلام رسول خدا کے بستر سے اٹھے۔»[۵]

مآخذ
[۱] السیره النبویه جلد ۱ صفحۀ ۴۸۰
[۲] امالی طوسی، جلد ۱، صفحۀ ۴۴۵
[۳] تاریخ طبری، جلد ۲، صفحۀ ۳۷۲
[۴] شواهد التنزیل، جلد ۱، صفحۀ ۱۲۳
[۵] المناقب، جلد ۲، صفحۀ ۶۴ / شواهد التنزیل، جلد ۱، صفحۀ ۱۳۰

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے