امیرالمومنین علیہالسلام نے صبر و تحمل پر مبنی طرزِ عمل اور دوٹوک تنبیہات کے ذریعے آخری لمحے تک کوشش جاری رکھی۔ آپ علیہالسلام کا مقصد جنگ جمل میں عہد شکنی کرنے والوں کی حقیقت سے پردہ اٹھانا تھا۔ اگرچہ فتنے کے سرغنوں کی دنیا پرستی اور فریب کاری نے واپسی کا راستہ بند کر دیا تھا۔ زبیر نے امیرالمومنین علیہالسلام سے جنگ کرنے پر پشیمانی کا اظہار بھی کیا تھا۔ تاہم، اس کے بیٹے کا زمانۂ جاہلیت کا تعصب اسے حقیقت کے نور کو دیکھنے سے محروم کر گیا۔
فتنہ گروں پر اتمام حجت
جنگِ جمل شروع ہونے سے پہلے امیرالمومنین علیہالسلام نے طلحہ اور زبیر سے براہِ راست گفتگو فرمائی۔ اس دوران آپ علیہالسلام نے ان سے قیامت کے نتائج کے بارے میں سوالات اٹھائے۔ انہیں دینی اخوت کو پامال کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی پیشنگوئیوں کی یاد دہانی کرائی۔ تاکہ وہ جس راہ پر چل رہے تھے، انہیں اس راستے سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے زبیر اور طلحہ کو بلایا تاکہ ان سے گفتگو کریں۔ جب وہ دونوں آپ علیہالسلام کے پاس آئے تو ان کے گھوڑوں کی گردنیں ایک دوسرے سے مل گئیں۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے ان دونوں سے فرمایا:
میں دیکھ رہا ہوں کہ تم نے جنگ کے لئے گھوڑے، آدمی، ساز و سامان اور بہت بڑی قوت فراہم کر رکھی ہے۔ کیا قیامت کے دن کے لئے بھی تم نے ایسا ہی کوئی عذر تیار کر رکھا ہے؟ خدا سے ڈرو اور اس عورت کی طرح نہ بنو جس نے محنت سے سوت کاتنے کے بعد خود ہی اسے کھول کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ کیا میں تمہارے دین میں تمہارا بھائی نہیں تھا؟ تم میرے خون بہانے کو حرام سمجھتے تھے اور میں بھی تمہارے خون بہانے کو حرام سمجھتا تھا۔ کیا کوئی ایسا نیا واقعہ پیش آیا ہے جس نے میرے خون بہانے کو تمہارے لئے حلال کر دیا ہو؟
طلحہ نے جواب میں کہا:تم نے لوگوں کو عثمان کے خلاف اکسایا تھا!
مولائے متقیان علیہالسلام نے اس آیت کی تلاوت فرمائی: «یَومَئِذٍ یُوَفّیهِمُ اللهُ دینَهُمُ الحَقَّ»۔’’اس دن خدا انہیں ان کی سزا پوری دے گا، جو بالکل برحق ہوگی۔(سورۂ نور، آیت ۲۵)
پھر آپ علیہالسلام نے فرمایا:اللہ عثمان کے قاتلوں پر لعنت کرے۔
پھر آپ علیہالسلام نے طلحہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا:
اے طلحہ!کیا تم رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی زوجہ کو ساتھ لے آئے ہو تاکہ اس کے ذریعے جنگ کرو، جبکہ تم نے اپنی بیوی کو گھر میں چھپا رکھا ہے؟! کیا تم نے میری بیعت نہیں کی تھی؟
اس کے بعد آپ علیہالسلام نے زبیر کی طرف رخ کیا اور پوچھا: کون سی چیز تمہیں تمہارے گھر اور وطن سے نکال لائی ہے؟
زبیر نے جواب دیا: آپ علیہالسلام نے مجھے نکالا ہے اور میں اس منصب کے لئے اپنے سوا کسی کو اپنے سے زیادہ اہل نہیں سمجھتا۔ (یعنی خلافت کو اپنا حق سمجھتا ہوں)۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
کیا تمہیں وہ دن یاد نہیں جب ہم رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کے ساتھ بنی غنم کے قبیلے کے درمیان سے گزر رہے تھے؟ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے میری طرف دیکھا اور مسکرائے اور میں بھی آپ صلیاللہعلیہوآلہ کے جواب میں مسکرایا۔
اور تم نے کہا تھا: ابوطالب علیہالسلام کا بیٹا اپنی خودپسندی اور غرور سے باز نہیں آتا۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے تم سے فرمایا تھا: وہ مغرور نہیں ہے، بلکہ تم اس سے جنگ کرو گے، حالانکہ تم اس پر ظلم کرنے والے ہو۔
یہ بات سن کر زبیر کو یاد آیا اور اس نے کہا:
خدایا! ہاں، مجھے یہ بات یاد آ گئی ہے! اگر مجھے یہ بات یاد ہوتی تو میں ہرگز اس کام کے لئے نہ نکلتا۔ خدا کی قسم! اب میں آپ علیہالسلام سے ہرگز جنگ نہیں کروں گا۔[۱]
اصحاب جمل پر لعنت
جنگِ جمل کے روز امیرالمومنین علیہالسلام نے طلحہ اور زبیر سے واضح گفتگو فرمائی۔ آپ علیہالسلام نے اصحابِ جمل کو رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی لعنت کی یاد دہانی کرائی۔ نیز، آپ علیہالسلام نے دور عثمان میں گھڑی گئی احادیث پر تنقید کرکے ان کے دعووں کو بے نقاب کیا۔
جابر، امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں:
جنگ جمل کے دن امیرالمومنین علیہالسلام کا طلحہ اور زبیر سے سامنا ہوا اور آپ علیہالسلام نے ان دونوں سے گفتگو کی اور اپنی گفتگو کے دوران فرمایا:
خاتم الانبیاء صلیاللہعلیہوآلہ کی احادیث کے بعض ایسے حافظ موجود ہیں جو ان احادیث کو بخوبی جانتے ہیں اور ان میں سے بعض رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے خاندان میں سے ہیں اور یہ عورت (عائشہ) بھی اس وقت تمہارے سامنے موجود ہے۔ اس سے پوچھ لو کہ اصحاب جمل پر رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کی زبان مبارک سے لعنت کی گئی ہے۔ «وَ قَد خَابَ مَنِ افتَرَىٰ »، اور یقیناً جس شخص نے جھوٹ گڑھا، وہ نامراد اور نقصان اٹھانے والا ہوا ۔(آیہ ۶۱ سورہ طہ)
طلحہ نے امیرالمومنین علیہالسلام سے کہا:
سبحان اللہ! کیا آپ علیہالسلام یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم پر لعنت کی گئی ہے، حالانکہ رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا ہے کہ میرے دس صحابہ جنت میں ہیں؟
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا: یہ تو وہی حدیث ہے جو سعید بن زید بن نفیل نے عثمان کے دور حکومت میں گڑھی تھی۔ اب ان دس افراد کے نام بتاؤ۔
راوی کہتا ہے: انہوں نے نو افراد کے نام بتائے اور ایک شخص کے بارے میں خاموش رہے۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا: تو پھر دسواں شخص کون ہے؟
انہوں نے کہا: آپ علیہالسلام ہیں۔
آپ علیہالسلام علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ اکبر! لیکن تم دونوں نے خود گواہی دی ہے کہ میں اہل جنت میں سے ہوں، جبکہ تم دونوں نے جو کچھ کہا ہے، میں اسے جھٹلاتا ہوں اور اسے قبول نہیں کرتا۔
پھر آپ علیہالسلام نے فرمایا:
قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور انسان کو پیدا کیا، رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے مجھے یقین و تاکید کے ساتھ خبر دی کہ جہنم میں ایک گڑھا ہے، جس میں گزشتہ امتوں میں سے چھ افراد اور بعد کے لوگوں میں سے چھ افراد ہوں گے۔ اس گڑھے کے اوپر ایک پتھر ہے۔ جب خدا چاہے گا کہ جہنم کی آگ کو اس کے مکینوں پر بھڑکا دے تو وہ اس پتھر کو ہٹانے کا حکم دے گا۔ ای طلحه و زبیر! ان لوگوں میں یا ان کے ساتھ یقیناً ان افراد کا ایک گروہ بھی شامل ہے جن کے نام تم نے لئے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو خدا تمہیں مجھ پر غالب کر دے، اور اگر ایسا ہو تو خدا مجھے تم دونوں پر غالب کر دے اور تمہارے ہاتھوں قتل ہونے والے میرے شیعوں کے بدلے تمہیں سزا دے۔[۲]
زبیر کی پشیمانی
جنگ جمل کے پرآشوب ایّام کے واقعات ایک ایسے شخص کی لغزشوں کی گواہی دیتے ہیں جو ایک زمانے میں حق کی راہ میں شمشیر اٹھاتا تھا، لیکن بالآخر تعصبات اور فتنہ انگیزی کے ہاتھوں مغلوب ہو گیا۔ اس دوران مولائے متقیان کی حق کے محاذ پر موجودگی نے بہت سے لوگوں پر حقائق آشکار کر دیئے، لیکن اطرافیوں کے اثر و رسوخ اور شک و شبہ کی گرد نے بعض نمایاں شخصیات کے لئے تلخ انجام رقم کیا۔
امیرالمومنین علی علیہالسلام، طلحہ اور زبیر سے گفتگو کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے پاس واپس تشریف لائے۔
امیرالمومنین علیہالسلام فرمایا: زبیر نے خدا کی قسم کھائی ہے کہ وہ تم سے جنگ نہیں کرے گا۔
اسی وقت زبیر، عائشہ کے پاس گیا اور اس سے کہا:
جب سے مجھے عقل تشخیص دینے کا شعور حاصل ہوا ہے، میں کبھی کسی ایسی صورت حال سے دوچار نہیں ہوا جس میں مجھے اپنی ذمہ داری کا علم نہ ہو، سوائے اس صورت حال کے جس میں اس وقت ہوں۔
عائشہ نے پوچھا: اب تم کیا کرنا چاہتے ہو؟
زبیر نے جواب دیا: میں چاہتا ہوں کہ اس گروہ کو چھوڑ کر چلا جاؤں۔
اس موقع پر اس کے بیٹے عبداللہ نے اس سے کہا:
تم نے ان دونوں گروہوں کو جمع کیا اور انہیں ایک دوسرے کے مقابلے میں لا کھڑا کیا لیکن اب جبکہ معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے، تم انہیں چھوڑ کر چلے جانا چاہتے ہو؟ تم ابوطالب علیہالسلام کے بیٹے کے پرچموں سے ڈر گئے ہو اور تمہیں معلوم ہو گیا ہے کہ ان پرچموں تلے دلیر اور جنگجو نوجوان موجود ہیں اور سرخ موت تمہاری گھات میں ہے؛ اسی لئے تم خوفزدہ ہو گئے ہو!
یہ بات زبیر کو ناگوار گزری اور اس نے کہا: میں قسم کھا چکا ہوں کہ اس سے جنگ نہیں کروں گا۔
عبداللہ نے جواب دیا: اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور اس سے جنگ کرو۔[۳]
جنگ جمل کے دن ابن عباس کی بصیرت افروز گفتگو نے زبیر کو شک و تردد میں مبتلا کر دیا۔ اسے میدان جنگ سے کنارہ کش ہونے پر آمادہ کیا، لیکن بالآخر اس فیصلے کا انجام اس کے قتل کی صورت میں نکلا۔
ابن عباس کہتے ہیں:
جنگ جمل کے دن میں نے زبیر سے کہا:
یہ عائشہ اپنے رشتہ دار طلحہ کے لئے حکومت اور زمام اقتدار چاہتی ہے، تو تم اپنے رشتہ دار امیرالمومنین علیہالسلام سے کس وجہ سے جنگ کر رہے ہو؟
اس گفتگو کے بعد زبیر جنگ کرنے پر پشیمان ہوا اور میدان جنگ سے کنارہ کش ہو گیا، لیکن واپسی کے راستے میں ابن جُرموز نے اس سے ملاقات کی اور اسے قتل کر دیا۔[۴]
حوالہجات
[۱] البدایه و النهایه، جلد ۱۰، صفحۀ ۴۵۸؛ الکامل فی التاریخ، جلد ۲، صفحۀ ۵۹۷
[۲] بحار الانوار، جلد ۳۲، صفحۀ ۱۹۶
[۳] الکامل فی التاریخ، جلد ۲، صفحۀ ۵۹۷
[۴] سیر أعلام النبلاء، جلد ۲، صفحۀ ۱۷۸