سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

جنگ جمل: فتنے کے مقابل امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی علوی بصیرت

تاریخ اسلام میں جنگِ جمل ایک اہم موڑ تھی، جس میں علوی بصیرت نے فتنے کی گردوغبار کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا۔ اس واقعے میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے ذی قار میں سفارتی حکمت اور میدان جنگ میں فوجی استقامت کے امتزاج سے امت کے نوخیز پودے کو تفرقہ پھیلانے والوں کے شر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔

جنگ جمل صدر اسلام کی اہم ترین جنگوں میں سے ایک تھی۔ یہ جنگ سنہ ۳۶ ہجری میں بصرہ کے قریب پیش آئی۔ اس میں امیرالمومنین علیہ‌السلام کے لشکر کا مقابلہ عائشہ، طلحہ اور زبیر کی قیادت میں موجود گروہ سے ہوا۔ یہ جنگ مسلمانوں کے معاشرے میں سیاسی اور سماجی اختلافات کے باعث ہوئی۔ اسے تاریخ اسلام کی پہلی خانہ جنگی کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔

ذی قار میں اتمام حجت

امیرالمومنین علیہ‌السلام کو خلافت سنبھالنے کے بعد ایک بڑی سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ طلحہ، زبیر اور عائشہ کی قیادت میں اصحاب جمل نے آپ علیہ‌السلام کے خلاف بغاوت کی۔ اس فتنے کا مقابلہ کرنے کے لئے آپ علیہ‌السلام کوفہ تشریف لے گئے تاکہ وفادار افراد کو جمع کر کے لشکر تیار کریں۔ کوفہ کے قریب ذی قار میں امام علیہ‌السلام کا لشکر اور لوگ جمع ہوئے۔ امام علیہ‌السلام نے خطبہ ارشاد فرمایا۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے اصحاب میں سے سلمہ بن سہیل روایت کرتے ہیں:

جب امیر‌المومنین علیہ‌السلام کا قافلہ ذی قار کے مقام پر پہنچا تو آپ علیہ‌السلام نے اہل کوفہ کو تیار کرنے کے لئے اپنے فرزند امام حسن علیہ‌السلام اور عمار یاسر کو ان کے پاس بھیجا۔

جب اہل کوفہ بیعت کرکے آپ علیہ‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے خدا کی حمد و ثنا اور رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر درود بھیجنے کے بعد ایک بامعنی خطبہ دیا اور فرمایا:

اے لوگو!ہمیں بہت سی  ناگوار چیزوں کا سامنا کرنا پڑا ، جن پر ہم نے خدا کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے اور آخرت کے اجر کی امید میں صبر کیا، اگرچہ یہ سختیاں آنکھ میں کانٹے اور دل میں ہڈی کی مانند تھیں۔ لیکن ان تکالیف پر صبر کرنا اس بات سے کہیں بہتر تھا کہ مسلمان ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں اور ان کا خون بہایا جائے۔ ہم اہل‌بیت علیہم‌السلام نبوت اور عترت رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ خلافت کے سب سے زیادہ اہل اور کرامت کا سرچشمہ ہیں، جیسا کہ خدا نے ہماری خلقت کا اسی طرح آغاز کیا اور یہ پروردگار  کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور خدا صاحب فضل عظیم ہے۔
اے اہل کوفہ!تم مسلمانوں میں معزز ترین، سب سے زیادہ پرہیزگار اور سنت کی پیروی کرنے والے ہو، اسلام میں تمہارا حصہ سب سے زیادہ ہے اور رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور آپ کے اہل‌بیت علیہم‌السلام سے تمہاری قربت بھی سب سے بڑھ کر ہے۔ میں تمہارے پاس صرف اس لئے آیا ہوں کہ مجھے تم پر اعتماد ہے اور تم نے طلحہ اور زبیر کی عہد شکنی اور عائشہ کی فتنہ انگیزی کے مقابلے میں جانثاری کا مظاہرہ کیا ہے۔

ان دونوں نے دھوکہ و فریب کاری کے ذریعے خدا کے بندوں کو تباہ کرنے اور شہروں کو برباد کرنے کا راستہ کھولا، انہوں نے اپنی خوشی اور مرضی سے بیعت کی تھی، پھر عمرے پر جانے کے لئے مجھ سے اجازت طلب کی اور میں نے انہیں اجازت دے دی۔ لیکن انہوں نے عائشہ کے کان اس قدر بھرے کہ اسے گھر سے نکال کر لے آئے اور اسے ایک ایسی کنیز کی طرح اپنے پیچھے گھسیٹ کر بصرہ تک لے گئے  کہ جسے فروخت کرنے کے لئے لے جا رہا ہو۔ انہوں نے اپنی عورتوں کو گھروں میں بند رکھا، لیکن رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی پردہ نشین کو لشکر کے درمیان اپنی اور دوسروں کی نظروں کے سامنے لے آئے۔

پھر انہوں نے بصرہ میں میرے عامل کو مارا پیٹا اور اسے اسیر کر لیا، اور میرے زیر اختیار بیت المال کے خزانچیوں پر بھی حملہ کیا اور شہر کے ان لوگوں پر بھی چڑھائی کی جو سب کے سب میری اطاعت اور بیعت میں تھے، انہوں نے ان کے اتحاد کو توڑا، ان کے درمیان تفرقہ ڈالا اور ان کی جماعت کو تباہ کردیا۔ انہوں نے میرے شیعوں پر حملہ کیا، ان میں سے کچھ کو قتل کر دیا اور  کچھ نے تلواریں مضبوطی سے تھامیں اور جنگ کی، یہاں تک کہ سچے ایمان کے ساتھ خدا سے جا ملے۔ اگر اس قسم کا ظلم کسی ایک بے گناہ مسلمان کے ساتھ بھی کیا جاتا اور اسے جان بوجھ کر قتل کیا جاتا تو اس پورے لشکر کو قتل کرنا جائز ہوتا کیونکہ وہ اس واقعے میں موجود تھے، لیکن انہوں نے نہ تو اپنی زبان سے اور نہ ہی اپنے ہاتھ سے اس ظلم کو روکنے کی کوشش کی۔ چہ جائیکہ انہوں نے ان مسلمانوں میں سے کئی افراد کو قتل کیا جو ان سے ملاقات کے لئے شہر میں آئے تھے۔ انہوں نے بصرہ میں آباد «سَبابجه» نامی قوم کے لوگوں کو بھی قتل کیا کہ جن کی تعداد چار سو تھی۔ نیز انہوں نے شہر کے گورنروں کو بری طرح مارا پیٹا۔

خدایا!وہ مجھ سے جدا ہو گئے ہیں، انہوں نے مجھ پر ظلم کیا، میری بیعت توڑی اور لوگوں کو میرے خلاف بھڑکایا۔ پس انہوں نے مل کر جو کچھ باندھا ہے، اسے کھول دے، جس چیز کو انہوں نے مضبوط کیا ہے، اسے کمزور کر دے اور ان کے اعمال کے سبب ان کے لئے برا انجام مقدر فرما۔

ان کلمات کے بعد اہل کوفہ نے جواب دیا:

یا امیر‌المومنین علیہ‌السلام! ہم خدائے عزوجل کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے آپ علیہ‌السلام کی زیارت کے ذریعے ہم پر احسان فرمایا، آپ علیہ‌السلام کی ہمسائیگی کا شرف عطا کیا اور ہمیں آپ علیہ‌السلام کے شیعوں، ساتھیوں اور دشمنوں کے مقابلے میں آپ علیہ‌السلام کے مددگاروں میں قرار دیا۔ اگر آپ علیہ‌السلام ہمیں ان سے کئی گنا زیادہ افراد کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیں تو ہم اسے اپنے لئے خیر اور مصلحت سمجھیں گے اور ہم آپ علیہ‌السلام کی خدمت میں شہادت کے آرزومند ہیں۔ لہٰذا آپ علیہ‌السلام مطمئن رہیں، اپنے دشمنوں پر فتح کے ذریعے آپ علیہ‌السلام کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، ان شاء اللہ۔

جب امیر‌المومنین علیہ‌السلام ذی قار میں قیام پذیر تھے۔ اسی دوران اہل کوفہ اور دوسرے لوگ گروہ در گروہ آپ علیہ‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔[۱]

جنگی صف بندی

جنگ جمل میں دونوں لشکروں کی صف بندی اور ان کے سپہ سالاروں کی شناخت، اس تاریخی معرکے کے مختلف پہلوؤں کو صحیح طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے صحابی ابوعبیدہ کہتے ہیں:

جنگِ جمل کے دن امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے لشکر کے گھڑ سوار دستے کی کمان عمار یاسر کے ہاتھ میں تھی اور پیادہ فوج کی کمان محمد بن ابی بکر کے پاس تھی۔ حسن بن علی علیہ‌السلام لشکر کے دائیں بازو کے سپہ سالار تھے اور حسین بن علی علیہ‌السلام بائیں بازو کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ عبداللہ بن عباس لشکر کے اگلے دستوں اور پیش قدمی کرنے والی فوج کے کمانڈر تھے، جبکہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے لشکر کا پرچم اپنے فرزند محمد بن حنفیہ کے سپرد کیا۔ دوسری طرف طلحہ اور زبیر کا پرچم عبداللہ بن حکیم بن حزام کے ہاتھ میں تھا۔ ان کے گھڑ سوار دستے کا کمانڈر طلحہ اور پیادہ فوج کا کمانڈر عبداللہ بن زبیر تھا۔ ان کے لشکر کے دائیں بازو کا کمانڈر عبداللہ بن عامر بن کریز اور بائیں بازو کاکمانڈر مروان بن حکم تھا۔یہ جنگ جمعہ کے دن بصرہ شہر سے باہر عبیداللہ بن زیاد کے محل کے قریب ہوئی۔[۲]

سپاہ بصرہ کا محور

سپاہ بصرہ میں جذبات کو ابھارنے اور فوجیوں کے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنے میں علامتوں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ عائشہ کا اونٹ اس فتنے کا مرکزی محور تھا۔ عائشہ کا اونٹ سپاہ بصرہ کا بنیادی پرچم اور نشان تھا۔اس محاذ کے سپاہی اونٹ کی حفاظت کے لیے اسی طرح جان کی بازی لگا رہے تھے۔ وہ اس کی حفاظت کرتے ہوئے یوں مارے جا رہے تھے، جیسے جنگجو اپنے پرچم تلے لڑتے ہوئے جان قربان کرتے ہیں۔[۳]

جنگ کا آغاز

جنگِ جمل کے میدان میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے اس وقت تک حملہ کرنے کا حکم صادر نہیں فرمایا، جب تک مخالف لشکر پر اتمام حجت نہیں ہو گیا۔ درج ذیل روایت میں نصرت پروردگار کے نزول کے حیرت انگیز لمحات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔

ابوعبداللہ عنزی روایت کرتے ہیں:

جنگ جمل کے دن میں امیر‌المومنین علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔

کچھ لوگ آپ علیہ‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا امیر‌المومنین علیہ‌السلام!دشمن کی طرف سے ہماری جانب تیر اور نیزے پھینکے جا رہے ہیں۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے ان گزارشات کے جواب میں خاموشی اختیار فرمائی۔

پھر ایک اور گروہ آیا اور اس نے بھی وہی بات کی اور عرض کیا: ہمارے بعض ساتھی زخمی ہو چکے ہیں۔

اس وقت امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام نے فرمایا: مجھے اس قوم سے جنگ کرنے سے کون معذور قرار دے سکتا ہے، جبکہ ابھی تک فرشتے نازل نہیں ہوئے؟!

عنزی کہتے ہیں:

میں بدستور امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور اس وقت کوئی ہوا نہیں چل رہی تھی۔ اچانک ہماری پشت کی جانب سے ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ خدا کی قسم! میں نے اس ہوا کی ٹھنڈک کو اپنے لباس اور زرہ کے نیچے اپنے پورے وجود سے محسوس کیا۔ جب یہ ہوا چلی تو امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے اپنی زرہ اتاری اور دشمن کی طرف روانہ ہو گئے۔ خدا کی قسم! میں نے اس وقت تک اتنی جلدی اور ایسی بھرپور قوت کے ساتھ حاصل ہونے والی فتح و نصرت نہیں دیکھی تھی۔[۴]

مولائے متقیان علیہ‌السلام کی شجاعت

جنگِ جمل کی ہنگامہ خیز صورت حال میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ثابت قدمی اور بے پایاں قوت تمام دشمنوں پر غالب تھی۔

معاذ بن عبداللہ تمیمی (جو جنگ جمل میں شریک تھے) روایت کرتے ہیں:

میں نے دیکھا کہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے اپنے ہاتھ سے ان دس افراد کو ہلاک کر دیا جو اونٹ کی مہار تھامے ہوئے تھے۔ آپ علیہ‌السلام جب بھی کسی شخص کو اپنی تلوار سے قتل کرتے تو تلوار کی دھار کو اس کے لباس سے مل کر صاف کرتے۔ پھر ہم آگے بڑھے، یہاں تک کہ ہم ان کے ہاتھوں میں گرفتار ہو گئے۔ اس وقت ہماری حالت ایسی تھی گویا ہم بھیڑیں ہوں جنہیں وہ ہانک رہے ہوں۔ اس موقع پر ہم میدان جنگ سے بھاگ گئے اور ایک دوسرے کو ملامت کی اور پشیمان ہوئے۔[۵]

امام حسن علیہ‌السلام  کو پرچم سونپنا

جنگِ جمل کے واقعات میں امیرالمومنین علیہ‌السلام کا محمد بن حنفیہ سے پرچم لے کر امام حسن علیہ‌السلام کے سپرد کرنا ایک اہم واقعہ ہے۔ آپ علیہ‌السلام کے ہاتھوں نصرت الٰہی کا ظہور ایک بلند تر حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے۔ اس سے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے یگانہ فرزند کا مقام و مرتبہ نمایاں ہوتا ہے۔ اس موقع پر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے کلام نے اہل‌بیت علیہم‌السلام کے نسب اور مقام و منزلت کے درمیان ایک ظریف  اور گہرا فرق واضح کیا۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے ہر پرچم کو ان کے مقررہ مقامات پر نصب کیا۔ بڑا اور مرکزی پرچم، جو سفید رنگ کا تھا۔ اس کی چوڑائی ایک نیزے کے برابر تھی۔اسے اپنے فرزند محمد بن حنفیہ کے سپرد کیا۔

آپ علیہ‌السلام نے محمد بن حنفیہ کو بلایا۔ اپنا نیزہ ان کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا:

اس نیزے سے اس اونٹ کا کام تمام کر دو۔

محمد بن حنفیہ اپنے ہدف کی جانب بڑھے، لیکن بنی ضبہ کے قبیلے نے انہیں اونٹ کے قریب جانے کی اجازت نہ دی۔ جب محمد بن حنفیہ امیر‌المومنین  امام علی علیہ‌السلام کے پاس واپس آئے تو امام حسن علیہ‌السلام نے ان کے ہاتھ سے نیزہ لے لیا اور اونٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ پھر آپ علیہ‌السلام نے اونٹ کو نیزہ مارا اور اپنے والد کے پاس واپس آگئے۔ جب نیزے پر اونٹ کے خون کے آثار نمایاں ہوئے تو اپنے بھائی کے اس اقدام پر محمد بن حنفیہ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ اس موقع پر امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے محمد حنفیہ سے فرمایا:

تعجب نہ کرو، وہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے فرزند ہیں اور تم علی کے فرزند ہو۔[۶]

میدان جنگ میں وفاداری

مولائے متقیان امام علی علیہ‌السلام  کے وفادار ساتھیوں میں سے زید بن صوحان نے جنگ جمل میں لشکر کے حوصلے مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ علیہ‌السلام کے ہمراہ جنگ کی اور شہید ہوگئے۔

امام صادق علیہ‌السلام نے فرمایا:

جب جنگ جمل میں زید بن صوحان زمین پر گرے تو امیر‌المومنین علیہ‌السلام ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:

اے زید! خدا تم پر رحم فرمائے۔ تم دین کے لئے کم ہزینہ  اور کم خرچ انسان تھے، لیکن تم نے بہت زیادہ مدد کی ۔

زید نے اپنا سر اٹھایا اور عرض کیا:

یا امیر‌المومنین علیہ‌السلام! خدا آپ علیہ‌السلام کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ میں نے آپ علیہ‌السلام کو خدا کی معرفت رکھنے والا، بلند مرتبے کا حامل اور قرآن کے معاملے میں حکیم پایا، اور خدا نے آپ علیہ‌السلام کے سینے میں عظمت ودیعت کی ہے۔ خدا کی قسم! میں نے آپ علیہ‌السلام کے رکاب میں جہالت اور نادانی کی بنیاد پر جنگ نہیں کی۔ میں نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی زوجہ ام سلمہ سے سنا تھا کہ وہ کہتی تھیں:

میں نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:

جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں، خدایا! جو ان سے محبت کرے، تو اس سے محبت کر، جو ان سے دشمنی رکھے، تو اس سے دشمنی رکھ، جو ان کی مدد کرے، تو اس کی مدد کر اور جو انہیں بے یار و مددگار چھوڑے، تو  اسے ذلیل و خوار کر۔ میں ہرگز یہ نہیں چاہتا تھا کہ آپ علیہ‌السلام کو بے یار و مددگار چھوڑ دوں تاکہ خدا مجھے بھی ذلیل و خوار کردے۔[۷]

حوالہ‌جات
[۱] وقعه الجمل، جلد ۱، صفحہ ۱۱۳
[۲] تاریخ الاسلام ذهبی، جلد ۲، صفحہ ۲۷۰
[۳] شرح نهج البلاغه، جلد ۱، صفحہ ۲۵۲
[۴] امالی طوسی، صفحہ ۲۱۳؛ بحار الانوار، جلد ۳۲، صفحہ ۲۰۵
[۵] الجمل شیخ مفید، صفحہ ۱۹۸
[۶] بحار الانوار، جلد ۳۲، صفحہ ۱۸۷
[۷] بحار الانوار، جلد ۳۲، صفحہ ۱۸۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے