سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

اتحاد ناکثین

جنگ جمل کیسے برپا ہوئی؟ ناکثین کی سازش سے میدان جنگ تک

امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی خلافت کے آغاز میں طلحہ اور زبیر کی اقتدار طلبی اورامیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کے ساتھ عائشہ کی دیرینہ دشمنی نے ایسی فتنہ انگیزی کی راہ ہموار کی، جس نے جنگ جمل کی آگ بھڑکا دی، تاہم امیرالمومنین علیہ‌السلام نے بصیرت اور استقامت کے ساتھ فتنے کی آنکھ پھوڑ دی اور سازشوں کی گردوغبار میں سے حق کو نمایاں کر دیا۔

امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی خلافت مستحکم ہونے کے بعد آپ علیہ‌السلام کو ایسے لوگوں کی جانب سے مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا، جو اپنے دنیاوی مفادات اور سیاسی عہدوں کے پیچھے تھے۔ امیرالمومنین علیہ‌السلام کی بیعت کرنے کے بعد جب طلحہ اور زبیر کی حکومتی عہدے حاصل کرنے کی خواہش پوری نہ ہوئی تو وہ بے بنیاد بہانے کر کے مکہ روانہ ہوئے، تاکہ عائشہ کے ساتھ مل کر مولائے متقیان امیرالمومنین علیہ‌السلام کی حکومت کے خلاف ایک محاذ کھڑا کریں۔

۳۵ ہجری قمری میں عثمان بن عفان کو مدینہ میں قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ان کی پالیسیوں کے خلاف عوام کے وسیع احتجاج کے بعد پیش آیا۔ تاریخ اسلام میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ اس وقت رسول اسلام صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی زوجہ عائشہ مکہ میں مقیم تھیں اور مدینہ واپس آنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

عثمان کے قتل کی خبر

حج مکمل کرنے کے بعد عائشہ جب مدینہ واپس جا رہی تھی تو راستے میں اسے ایک ایسی خبر ملی جس نے تاریخی واقعات کا رخ یکسر بدل دیا۔ ذیل میں اس کی ایک مسافر کے ساتھ گفتگو بیان کی گئی ہے۔ اس میں عائشہ نے عثمان کے قتل اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کی خلافت کے بارے میں اپنا موقف ظاہر کیا۔

جب عائشہ نے مناسک حج مکمل کر لیے اور مدینہ کی جانب روانہ ہوئی تو راستے میں ان کی ملاقات عبید بن سلمہ لیثی نامی شخص سے ہوئی۔ عائشہ شہر کے حالات سے بے خبر تھی، اس لیے اس نے اس سے مدینہ اور وہاں کے لوگوں کے حالات دریافت کیے۔

عبید نے جواب دیا: عثمان قتل کر دیا گیا ہے۔

یہ خبر سن کر عائشہ نے پوچھا: ان کے بعد لوگوں نے کیا کیا؟

عبید نے کہا: انہوں نے امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ‌السلام کی بیعت کر لی ہے۔

عائشہ نے کہا: کاش آسمان زمین پر آ گرتا اور میں تم سے یہ بات کبھی نہ سنتی۔ خدا کی قسم! عثمان مظلومانہ طور پر قتل کیے گیا ہے اور میں یقینا اس کے خون کا بدلہ لوں گی۔ خدا کی قسم! عثمان کی زندگی کا ایک دن بھی میرے نزدیک امیرالمومنین علیہ‌السلام کی پوری زندگی سے بہتر ہے۔

عبید بن سلمہ نے ان سے کہا: کیا تم وہی نہیں ہو جو ہمیشہ امیرالمومنین علیہ‌السلام کی تعریف کرتی تھی اور کہتی تھی کہ روئے زمین پر اللہ کے نزدیک ان سے زیادہ عزت والا کوئی نہیں؟ اب کیا ہو گیا کہ تم ان کی خلافت پر راضی نہیں ہو؟ کیا تم بھول گئی کہ تم خود لوگوں کو عثمان کے قتل پر ابھارتی تھی اور کہتی تھی کہ اس نعثَل (عثمان) کو قتل کر دو، کیونکہ وہ کافر ہو گیا ہے؟

عائشہ نے جواب دیا: میں نے جو کچھ کہا تھا، وہ درست تھا، لیکن بعد میں میں نے اس نیک آدمی پایا اور اپنی سابقہ بات واپس لے لی، لوگوں نے اسے توبہ کرنے پر مجبور کیا، اس نے بھی توبہ کر لی اور اس بخش دیا گیا![۱]

عائشہ پر اعتراض

عبید بن ابی سلمہ نے جرأت کے ساتھ عائشہ کے موقف میں موجود تضادات پر تنقید کی۔ ان کا یہ بدلتا ہوا موقف نہ صرف ناقابل قبول تھا، بلکہ لوگوں کے درمیان شک و تردید پیدا کرنے کا سبب بھی بن رہا تھا۔

عبید بن سلمہ، جو ابن ام کلاب کے نام سے معروف تھے، نے عائشہ کے جواب میں یہ اشعار پڑھے:

اس معاملے کی ابتدا تمہاری طرف سے ہوئی اور تبدیلی بھی تمہاری ہی جانب سے آئی؛ ہوا کا چلنا اور بارش کا برسنا بھی تمہاری ہی طرف سے تھا۔

تم ہی نے ہمیں اپنے پیشوا کو قتل کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ وہ کافر ہو گیا ہے۔

اگر ہم نے اسے قتل کرنے میں تمہاری اطاعت کی تو ہمارے نزدیک اس کا قاتل وہی ہے جس نے اس کا حکم دیا تھا۔

تو پھر اس وقت ہمارے سروں پر گھر کی چھت کیوں نہ گر پڑی؟ سورج اور چاند نے اپنی گردش کیوں نہیں روک دی؟

آج لوگوں نے ایسے شخص سے بیعت کی ہے جو اختلافات دور کرتا ہے، کجی کو درست کرتا ہے اور معاملات کو ٹھیک کرتا ہے۔

اس نے عدل قائم کرنے کے لیے جنگ کا لباس پہن لیا ہے؛ اور اس شخص کی وفاداری جیسی کوئی وفاداری نہیں جو اپنے عہد سے خیانت کر چکا ہو۔

اس گفتگو کے بعد عائشہ مکہ لوٹ گئی۔ مسجد الحرام کے قریب اتریں اور حجر اسود کی جانب گئی۔ جب لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے تو اس نے بلند آواز سے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

اے لوگو! عثمان مظلومانہ طور پر قتل کیا گیا ہیں اور خدا کی قسم! میں اس کے خون کا مطالبہ کروں گی۔[۲]

مخالفین کی روانگی

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی خلافت کے مخالف افراد عائشہ کے گرد جمع ہوئے۔ مختلف امکانات پر غور کرنے کے بعد بالآخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کا مقابلہ کرنے کے لیے بصرہ روانہ ہوں گے۔

ان کے مخالفین عائشہ کے پاس جمع ہوئے اور اس معاملے پر مشورہ کرنے لگے۔ بعض نے تجویز دی:

مدینہ چلیں اور امیرالمومنین علیہ‌السلام سے جنگ کریں، کچھ دوسرے لوگوں نے کہا: تم مدینہ کے لوگوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

اس کے بعد شام کی جانب روانہ ہونے کی تجویز پیش کی گئی اور کہا گیا کہ وہاں فوجی قوت اور مالی وسائل بھی کافی تھے اور اہل شام عثمان کے حامی بھی ہیں، ہم ان سے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ کریں گے اور اس مقصد کے لیے ہمیں مددگار، پشت پناہ اور ساتھی بھی مل جائیں گے۔

تاہم، ان میں سے ایک شخص نے کہا: معاویہ وہاں موجود ہے؛ وہ شام کا حاکم ہے اور لوگ اس کے احکامات کی پیروی کرتے ہیں۔ تم اپنے مقصد تک نہیں پہنچ سکو گے، کیونکہ عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے معاملے میں وہ تم سے زیادہ حق دار ہے، اس لیے کہ وہ عثمان کا چچا زاد بھائی ہے۔

آخر کار ایک گروہ نے عراق جانے کی تجویز پیش کی، ان کی دلیل یہ تھی کہ کوفہ میں طلحہ کے پیروکار اور حامی موجود ہیں، جبکہ زبیر کو بصرہ میں مقبولیت حاصل ہے اور وہاں بھی کچھ لوگ ان کی طرف مائل ہیں۔ آخرکار سب نے بصرہ کی جانب روانہ ہونے پر اتفاق کر لیا۔[۳]

اقتدار میں حصہ طلب کرنا

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی خلافت مستحکم ہونے کے بعد طلحہ اور زبیر، جنہیں توقع تھی کہ عثمان کی حکومت میں اپنے سابقہ تعلقات کی بنا پر انہیں اہم عہدے حاصل ہوں گے۔ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے پاس آئے تاکہ اقتدار میں اپنا حصہ طلب کریں۔

بیعت کے چند روز بعد طلحہ اور زبیر امیرالمومنین علیہ‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا:

اے امیر‌المومنین علیہ‌السلام! آپ علیہ‌السلام نے خود دیکھا ہے کہ عثمان کے دور حکومت میں ہمارے ساتھ کس قدر بے توجہی اور سختی برتی گئی، آپ علیہ‌السلام جانتے ہیں کہ وہ حکومت میں صرف بنی امیہ کے مفادات کا خیال رکھتے تھے، اب جب اللہ نے خلافت آپ علیہ‌السلام کے سپرد کر دی ہے تو اپنی بعض ذمہ داریاں اور حکومتیں ہمارے حوالے کر دیجیے۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام نے ان سے فرمایا:

اللہ نے تمہارے لیے جو حصہ مقرر اور مقدر کیا ہے، اس پر راضی رہو، تاکہ میں اس معاملے پر غور کروں۔ جان لو کہ میں اپنی ذمہ داریوں میں صرف انہیں لوگوں کو شریک کروں گا جن کے دین اور امانت داری پر مجھے اعتماد ہو اور جن کے سابقہ کردار سے میں اچھی طرح واقف ہوں۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام کے جواب سے مایوس ہو کر وہ آپ علیہ‌السلام کے پاس سے واپس چلے گئے اور عمرہ ادا کرنے کے بہانے مدینہ سے مکہ روانہ ہونے کا فیصلہ کیا۔[۴]

امیرالمومنین علیہ‌السلام کا انتباہ

طلحہ اور زبیر کے مدینہ سے نکلنے پر اصرار کا سامنا امیرالمومنین علیہ‌السلام کی بصیرت اور ان کے باطنی ارادوں سے آگاہی سے ہوا۔

طلحہ اور زبیر امیرالمومنین علیہ‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ علیہ‌السلام سے درخواست کی کہ انہیں عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ جانے کی اجازت دی جائے۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام نے فرمایا: تم کون سا عمرہ ادا کرنا چاہتے ہو؟

انہوں نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کو یقین دلانے کے لیے قسم کھائی کہ عمرہ ادا کرنے کے سوا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام نے فرمایا: درحقیقت تم خیانت اور عہد شکنی کا ارادہ رکھتے ہو اور اپنی بیعت توڑنا چاہتے ہو۔

ان دونوں نے دوبارہ خدا کی قسم کھائی کہ نہ تو ان کا مخالفت کا ارادہ ہے اور نہ ہی بیعت توڑنا چاہتے ہیں، بلکہ ان کا مقصد صرف عمرہ ادا کرنا ہے۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام نے فرمایا: اگر ایسا ہے تو ایک مرتبہ پھر سے میری بیعت کرو۔

انہوں نے سخت ترین قسمیں کھا کر اور مضبوط ترین عہد باندھ کر دوبارہ حضرت کی بیعت کی۔

اس کے بعد آپ علیہ‌السلام نے انہیں جانے کی اجازت دی۔ جب وہ دونوں امیرالمومنین علیہ‌السلام کے پاس سے چلے گئے تو امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے وہاں موجود لوگوں سے فرمایا:

خدا کی قسم! تم انہیں دوبارہ نہیں دیکھو گے، مگر ایسے فتنے میں جس کے باعث وہ جنگ اور خونریزی پر اتر آئیں گے۔

حاضرین نے پوچھا: اے امیرالمومنین علیہ‌السلام! پھر حکم دیجیے کہ انہیں واپس آپ علیہ‌السلام کے پاس لایا جائے۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے جواب میں فرمایا: اللہ اس کام کو پورا کر کے رہے گا جس کا وقوع پذیر ہونا ضروری ہے۔[۵]

فتنے کی تیاریاں

جب بصرہ کو حتمی منزل قرار دے دیا گیا تو اس تحریک کے سرکردہ افراد، یعنی بنی امیہ، یعلی بن منیہ، طلحہ اور زبیر نے عثمان کے خون کا مطالبہ کرنے اور فوجی مقابلے کے لیے اپنی حتمی منصوبہ بندی کر لی۔

مکہ میں جمع ہونے والے بزرگوں اور سرکردہ افراد نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے پر اتفاق کیا۔ اگرچہ عائشہ نے ابتدا میں انہیں مدینہ کی جانب جانے کی دعوت دی، لیکن انہوں نے مخالفت کی اور بصرہ جانے پر اصرار کیا۔

طلحہ اور زبیر نے عائشہ سے کہا:

ہم ایسی سرزمین کی طرف جا رہے ہیں جہاں معاملات بے یار و مددگار پڑے ہیں اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کے اختیار میں آ گئے ہیں۔ علی نے ہمیں بیعت کرنے پر مجبور کیا اور اب اسی بیعت کی بنیاد پر ہمارے خلاف دلیل پیش کرتے ہیں۔ جب تک آپ خود باہر نہیں نکلتیں اور مکہ میں کیے گئے اعلان کی طرح دوٹوک موقف اختیار نہیں کرتیں، وہ ہمارے معاملے سے دست بردار نہیں ہوں گے۔

اس گفتگو کے بعد ایک منادی نے اعلان کیا کہ عائشہ بصرہ جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تقریباً چھ سو اونٹوں پر مشتمل ایک قافلہ تیار کیا گیا۔ بدوی عربوں اور مدد کے لیے آمادہ کیے گئے غلاموں پر مشتمل ایک لشکر روانہ ہو گیا۔ عائشہ نے حفصہ کو بھی پیغام بھیجا۔ حفصہ نے اس کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن عبداللہ بن عمر نے اسے روک دیا اور وہ مکہ ہی میں رہ گئی۔

اس طرح عائشہ، طلحہ اور زبیر کے ہمراہ روانہ ہوئی۔ عائشہ نے عبدالرحمن بن عتاب کو نماز کی امامت کی ذمہ داری سونپی تھی۔ مروان اور بنی امیہ کے دیگر افراد چھ سو سواروں پر مشتمل لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے۔[۶]

عائشہ کا تذبذب

طلحہ، زبیر اور عائشہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک خاص مقام پر پہنچنے سے عائشہ کو رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ایک پرانا انتباہ یاد آگیا۔ اس کے بعد اسوں نے واپس لوٹنے کا پختہ ارادہ کر لیا، لیکن اس کے ساتھیوں نے اسے اس فیصلے سے روک دیا۔

طلحہ، زبیر اور عائشہ اپنے گرد جمع ہونے والے لوگوں کے ہمراہ آگے بڑھے۔ ان کی مجموعی تعداد تین ہزار تھی۔ ان میں سے نو سو افراد مدینہ اور مکہ کے رہنے والے تھے۔

راستے میں عائشہ نے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی۔

اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: اس تالاب کا نام کیا ہے جس کے قریب ہم موجود ہیں؟

انہوں نے جواب دیا: یہ حوأب ہے۔

یہ نام سن کر عائشہ پریشان ہو گئی اور کہنے لگی:

إِنّا لِلّٰهِ وَإِنّا إِلَیْهِ رَاجِعُونَ؛ مجھے واپس لے چلو، مجھے واپس لے چلو! کیونکہ میں نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو اپنی ازواج کے درمیان یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم میں سے ایک ایسی ہوگی جس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے۔ عائشہ کو رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا انتباہ یاد آ گیا۔ اس لیے اس نے اسی مقام سے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔

لیکن اسی وقت عبداللہ بن زبیر ان کے پاس آئے اور کہا:

جس شخص نے دعوی کیا ہے کہ یہ تالاب حوأب ہے، اس نے جھوٹ بولا ہے۔ عائشہ کو یقین دلانے کے لیے وہ بنی عامر کے خاندان کے پچاس افراد کو لے آئے۔ ان سب نے قسم کھائی اور گواہی دی کہ عبداللہ بن زبیر کی بات سچ ہے اور یہ مقام حوأب نہیں ہے۔[۷]

خاتم النبیین صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی پیش گوئی

رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی یہ پیش گوئی کہ جب آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ازواج میں سے ایک امیرالمومنین علیہ‌السلام سے جنگ کرنے کے لیے نکلے گی تو حوأب کے کتے اس پر بھونکیں گے۔ تاریخ اسلام کے اہم حقائق میں سے ہے۔ اس واقعے کے ساتھ ہی اسلام میں پہلی جھوٹی گواہی کا واقعہ بھی پیش آیا۔

امام جعفر صادق علیہ‌السلام نے فرمایا:

اسلام میں پہلی جھوٹی گواہی ستر مردوں کی تھی، جب عائشہ کا لشکر حوأب نامی مقام پر پہنچا تو وہاں کے کتوں نے اس پر بھونکنا شروع کر دیا۔ عائشہ نے جب کتوں کی آواز سنی تو واپس لوٹنا چاہا اور کہا:

میں نے رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو اپنی ازواج سے یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم میں سے ایک ایسی ہوگی جس پر حوأب کے کتے اس وقت بھونکیں گے، جب وہ میرے وصی، امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ‌السلام سے جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوگی۔

چنانچہ ستر آدمیوں نے اس خاتون کے حق میں گواہی دی کہ یہ حوأب کا پانی نہیں ہے، یہ اسلام میں پہلی گواہی تھی جو جھوٹ کی بنیاد پر دی گئی۔[۸]

مآخذ
[۱] الفتوح ابن‌اعثم، جلد ۲، صفحۀ ۴۳۷: بحار الانوار، جلد ۳۲، صفحہ ۱۴۲
[۲] تاریخ طبری، جلد ۳، صفحہ ۴۵۸
[۳] أنساب الأشراف، جلد ۲، صفحہ ۲۲۱
[۴] شرح نهج البلاغه، جلد ۱، صفحہ ۲۳۱
[۵] شرح نهج البلاغه، جلد ۱، صفحہ ۲۳۲
[۶] تاریخ طبری، جلد ۴، صفحہ ۴۵۴
[۷] أنساب الأشراف، جلد ۲، صفحہ ۲۲۴
[۸] إثبات الهداه، جلد ۱، صفحہ ۲۷۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے