سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ہجرت کے وقت امیرالمومنین علیہ‌السلام

مدینہ منورہ ہجرت کرتے وقت امیرالمومنین علیہ‌السلام کی شجاعت و دلاوری

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی یثرب یعنی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے، تاریخ کے مطابق اگر آپ علیہ‌السلام کی بہادری اور دلیری نہ ہوتی تو رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

ہجرت کے وقت امیرالمومنین علیہ‌السلام کی فداکاری اور دلیری کی ایک روشن مثال موجود ہے۔ وہ آپ علیہ‌السلام کا رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے بستر پر سونا ہے۔

اربلی لکھتے ہیں:[۱]

کہ جب خدا نے اپنے حبیب صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو قریش کی چالوں سے آگاہ کیا تو جبرئیل علیہ‌السلام یہ آیۂ مبارکہ لے کر نازل ہوئے:

وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ[۲]

(اور پیغمبر آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اس وقت کو یاد کریں جب کفار تدبیریں کرتے تھے کہ آپ کو قید کرلیں یا شہر بدر کردیں یا قتل کردیں اور ان کی تدبیروں کے ساتھ خدا بھی اس کے خلاف انتظام کررہا تھا اور وہ بہترین انتظام کرنے والا ہے۔)

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو ہجرت کا حکم دیا گیا۔ اس موقع پر آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کو بھی بلایا۔

انہیں وحی اور اللہ کے حکم کے بارے میں بتایا:

خدا نے حکم دیا ہے کہ آپ علیہ‌السلام میرے بستر پر سو جائیے تاکہ میری ہجرت پوشیدہ رہے، اب آپ علیہ‌السلام کیا کہتے ہیں؟

امیرالمومنین علیہ‌السلام نے عرض کیا:

یا رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ! کیا میرے بستر پر سونے سے آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ امان میں رہیں گے؟

آپ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے کہا: جی ہاں۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام نے تبسم فرمایا اور سجدۂ شکر بجا لائے کیونکہ رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے انہیں اپنی سلامتی کی خبر سُنا دی تھی۔

راوی کہتا ہے:

امیرالمومنین علیہ‌السلام پہلے شخص تھے جنہوں نے سجدۂ شکر کیا اور سجدے کے بعد چہرہ زمین پر رکھا۔

جب سر اٹھایا تو رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ سے کہا:

تشریف لے جائیے اور خدا کے حکم کے مطابق عمل کیجئے، میری جان قربان ہو آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر، جو چاہیں حکم کریں، جیسا آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ چائیں گے میں ویسا ہی کروں گا؛ میری کامیابی صرف خدا کی مدد سے ہے۔

رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا :

یا علی علیہ‌السلام! خدا اپنے اولیاء کو ان کے ایمان اور تقویٰ کے مطابق آزماتا ہے، اس لیے انبیاء پر آزمائشیں عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہیں، خود انبیاء بھی اپنے مقام و منزلت کے اعتبار سے آزمائیشوں میں مبتلا ہوتے ہیں،  میرے بھائی! خدا نے آپ علیہ‌السلام کو بھی آزمائش میں ڈالا ہے اور مجھے آپ علیہ‌السلام کے ذریعہ آزمایا ہے جیسے جناب ابراہیم علیہ‌السلام کو جناب اسماعیل علیہ‌السلام کے ذبح کرنے کے ذریعہ آزمایا پس صبر اختیار کیجئے کیونکہ خدا کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔

پھر رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کو اپنے سینے سے لگایا اور بہت روئے نیز امیرالمومنین علیہ‌السلام بھی رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی جدائی پر روئے۔

اسی طرح امیرالمومنین علیہ‌السلام وہ عظیم انسان تھے جنہوں نے رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ اور ان کی آسمانی رسالت کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا۔ جب رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کا خط آپ علیہ‌السلام کو ملا تو آپ علیہ‌السلام ہجرت کے لیے تیار ہو گئے۔ آپ علیہ‌السلام کے ساتھ رہ جانے والے کمزور مومنین کو حکم دیا کہ رات کے اندھیرے میں خاموشی سے وادیوں کے راستے ذی طویٰ کی طرف روانہ ہوں۔ امیرالمومنین علیہ‌السلام نے رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ بیٹی فاطمہ زهرا سلام‌الله‌علیہا، اپنی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم، فاطمہ بنت زبیر بن عبدالمطلب، اور غلام رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ ایمن بن ام ایمن کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ ابو واقد اونٹوں کا ساربان تھا۔

جب اس نے اونٹوں سختی کی تو امیرالمومنین علیہ‌السلام نے فرمایا:

نرمی رکھو، جس پر ابو واقد شرمندگی سے معذرت کرنے لگا۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام نے فرمایا:

اپنی سواری تیز کرو کہ رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے مجھ سے فرمایا ہے:

یا علی علیہ‌السلام! وہ آپ علیہ‌السلام کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

ضجنان کے نزدیک آپ علیہ‌السلام کا پیچھا کرنے والے کفار آن پہنچے جو سات نقابدار سوار ملے اور آٹھواں حارث بن امیہ کا غلام جناح تھا۔ امیرالمومنین علیہ‌السلام نے خواتین کو اُتارا اور خود تیز تلوار لیے آگے بڑھے۔

جب انہوں نے حکم دیا کہ واپس چلو، تو امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے پوچھا: اگر نہیں جاؤں گا تو کیا ہوگا؟

انہوں نے کہا: ہم یا تو آپ علیہ‌السلام کو زبردستی لے جائیں  گے یا آپ علیہ‌السلام کا سر لے جائیں گے، آپ علیہ‌السلام کو قتل کرنا بہت آسان ہے۔

اس کے بعد نقاب پوش سوار اونٹوں کی جانب بڑھے تاکہ انہیں ہتھیالیں مگر امیرالمومنین علیہ‌السلام نے اپنے آپ علیہ‌السلام کو ان کے اور انٹوں کے درمیان ڈھال بنا دیا، جب جناح نے تلوار نکالی تو امیر‌المومنین علیہ‌السلام پھرتی سے اس کے وار سے بچ نکلے اور پھر اس کے کندھے پر ایسا وار کیا کہ تلوار اس کے کندھے کو چیرتی ہوئی زین تک پہنچ گئی۔

پھر امیر‌المومنین علیہ‌السلام اپنی تلوار سے ان پر حملہ آور ہوئے اور فرما رہے تھے:

کھولو، راستہ جنگ کرنے والے کا میں نے قسم کھائی ہے کہ اس واحد ذات کے سوا کسی کی عبادت نہیں کروں گا۔

یہ دیکھتے ہی وہ لوگ یہ کہتے ہوئے بھاگ گئے کہ اے ابو طالب کے بیٹے! ہم سے بچ کر رہنا۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے فرمایا:

میں اپنے چچا زاد، رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے پاس یثرب جا رہا ہوں، جسے اپنےگوشت کے چتھڑےکروانا اور خون بہانا ہو وہ میرے پیچھے آئے یا میرے قریب آئے۔

پھر آپ علیہ‌السلام نے اپنے دو ساتھیوں کی جانب رخ کیا اور فرمایا: اونٹوں کو ہانکو۔

پھر وہ ضجنان کے مقام پر قیام کیا اور وہاں ایک رات اور ایک دن ٹھہرے۔ کچھ معذور مؤمن حضرات جن میں رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی کنیز ام ایمن بھی شامل تھی، ان کے ساتھ مل گئے۔ انہوں نے پوری رات نماز و ذکر و عبادت میں مشغول رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوئی امیرالمومنین علیہ‌السلام نے اُن کے ساتھ نماز فجر ادا کی اور پھر روانہ ہوئے۔ ہر منزل پر یہی حالت رہی حتیٰ کہ وہ مدینہ (یثرب) پہنچے۔

اس سے پہلے ہی اللہ نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کی شأن میں وحی نازل فرمائی دی تھی:

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَىٰ بِهِ ۗ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ ﴿٩١﴾‏لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ ‎﴿٩٢﴾‏ ۞ كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ ۗ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ‎﴿٩٣﴾‏ فَمَنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ‎﴿٩٤﴾‏ قُلْ صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴿٩۵﴾‏[۳]

(جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور اسی کفر کی حالت میں مرگئے ان سے ساری زمین بھر کر سونا بھی بطور فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ تم نیکی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہِ خدا میں انفاق نہ کرو اور جو کچھ بھی انفاق کرو گے خدا اس سے بالکل باخبر ہے۔ بنی اسرائیل کے لئے تمام کھانے حلال تھے سوائے اس کے جسے توریت کے نازل ہونے سے پہلے اسرائیل نے اپنے اوپر ممنوع قرار دے لیا تھا، اب تم توریت کو پڑھو اگر تم اپنے دعوٰی میں سچّے ہو۔ اس کے بعد جو بھی خدا پر بہتان باندھے گا اس کا شمار ظالمین میں ہوگا۔ پیغمبر صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کہہ دیجئے کہ خدا سچاّ ہے، تم سب ملّت ابراہیم علیہ‌السلام کا اتباع کرو وہ باطل سے کنارہ کش تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔)

جب رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو امیرالمومنین علیہ‌السلام کے آنے کی خبر ملی تو آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا: علی علیہ‌السلام سے کہو کہ میرے پاس آئیں۔

لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ! علی علیہ‌السلام چل نہیں سکتے چلنے۔

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ خود ان کے پاس گئے۔ انہیں باپ کی طرح سینے سے لگایا اور جب آپ علیہ‌السلام نے حضرت کے زخمی پیروں کو دیکھا جن سے خون ٹپک رہا تھا تو اشکبار ہوگئے۔

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمومنین علیہ‌السلام سے فرمایا:

یا علی علیہ‌السلام! آپ علیہ‌السلام میری امت کے پہلے ہیں شخص ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی اور اپنے رسول کے ساتھ عہد کرنے سب سے آخری شخص بھی آپ علیہ‌السلام ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، آپ علیہ‌السلام سے وہی محبت کرتا ہے جو مومن ہے جس نے اپنے دل کو ایمان کے لیے آزمایا ہو اور سوائے منافق یا کافر کے کوئی آپ علیہ‌السلام سے دشمنی نہیں کرتا۔[۴]

مأخذ
[۱] كشف الغمه فی معرفه الائمه علیهم‌السلام: ج۱، ص۳۸۷-۳۸۸
[۲] سوره انفال: آیه ۳۰
[۳] سوره آل عمران: آیات ۱۹۱ – ۱۹۵
[۴] امالی، شیخ طوسی: جلد۲ ، ص ۸۳ – ۸۶ ،  دار الثقافه: ص ۴۷۲، مناقب آل ابی‌طالب: جلد ۱ ص ۱۸۳ و۱۸۴، ۵۳، بحار الانوار: جلد ۱۹ ص ۶۴ – ۶۷ و۸۵ ، کشف الغمه: جلد ۲ ص ۳۳

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے