سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

کشتی نجات

کشتی نجات: وصایت علی علیہ‌السلام اور ان کے بعد ائمہ علیہم‌السلام کا راستہ

تمہید

انسان ہمیشہ گمراہی، شک اور فتنوں کے طوفانوں میں نجات کی راہ تلاش کرتا رہا ہے۔ وہ ایسی راہ کا متلاشی رہا ہے جو اسے سلامتی کے ساحل تک پہنچا سکے۔ رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ، جو اپنی امت کے لیے سب سے زیادہ مہربان تھے۔ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے ہدایت کا واضح راستہ متعین فرما گئے۔ تاکہ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے بعد کوئی شخص ہدایت کی روشنی سے محروم ہوکر تاریکیوں میں نہ بھٹکے۔ یہ وہ نورانی روایت ہے جسے امام رضا علیہ‌السلام نے اپنے بزرگ آباؤ اجداد کے واسطے سے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے نقل فرمایا ہے۔

امام رضا علیہ‌السلام کی رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے روایت

حسین بن خالد کہتے ہیں:

امام رضا علیہ‌السلام نے اپنے آبائے کرام سے اور انہوں نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے روایت کی کہ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

جو شخص چاہتا ہے کہ میرے دین سے وابستہ رہے اور میرے بعد کشتیِ نجات میں سوار ہو، اسے چاہیے کہ علی بن ابی‌طالب کی پیروی کرے، ان کے دشمن کو اپنا دشمن اور ان کے دوست کو اپنا دوست قرار دے۔ کیونکہ علی علیہ‌السلام میرے وصی اور جانشین ہیں۔ میری زندگی میں بھی اور میرے بعد بھی۔ وہ ہر مسلمان کے امام اور ہر مؤمن کے پیشوا ہیں۔

علی علیہ‌السلام کا فرمان، رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا فرمان ہے

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے مزید وضاحت فرمائی:

«قَوْلُهُ قَوْلِي، وَأَمْرُهُ أَمْرِي، وَنَهْيُهُ نَهْيِي»

علی کا قول میرا قول ہے، ان کا حکم میرا حکم ہے، اور ان کی ممانعت میری ممانعت ہے۔

اور فرمایا:

«تَابِعُهُ تَابِعِي، وَنَاصِرُهُ نَاصِرِي، وَخَاذِلُهُ خَاذِلِي»

علی کا پیروکار میرا پیروکار ہے، علی کا مددگار میرا مددگار ہے، اور علی کو تنہا چھوڑنے والا مجھے تنہا چھوڑنے والا ہے۔

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی سخت تنبیہات

پھر رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امت کو امیرالمومنین علی علیہ‌السلام سے جدائی اختیار کرنے کے انجام سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:

جو شخص میرے بعد علی سے جدا ہو جائے گا، قیامت کے دن نہ وہ مجھے دیکھ سکے گا اور نہ میں اسے دیکھوں گا۔ جو علی کی مخالفت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم قرار دے گا۔ جو علی کی مدد سے دستبردار ہو جائے گا، اللہ تعالیٰ حساب کے دن اس کی مدد نہیں کرے گا۔ اور جو علی کی مدد کرے گا، اللہ تعالیٰ اپنے دیدار کے دن اس کی مدد فرمائے گا اور اس دن اسے حجت (حق کی دلیل) عطا فرمائے گا۔

حسن و حسین علیہماالسلام؛ امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کے بعد امت کے امام

پھر رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کے بعد ائمۂ اطہار کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا:

حسن اور حسین اپنے والد کے بعد میری امت کے امام ہیں۔ وہ دونوں اہلِ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ ان کی والدہ فاطمہ، تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں۔ اور ان کے والد علی، تمام اوصیاء کے سردار ہیں۔

امام حسین علیہ‌السلام کی نسل سے نو ائمہ علیہم‌السلام

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امام حسین علیہ‌السلام کی نسل میں آنے والے ائمہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

حسین کی اولاد میں نو امام ہوں گے، جن میں آخری میرے فرزندوں میں سے قائم ہوں گے۔ ان کی اطاعت میری اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی میری نافرمانی ہے۔

عترت رسول کے منکرین کے بارے میں شکایت

آخر میں رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امت کے بعض افراد سے اپنی شکایت کا اظہار فرمایا:

میں اللہ کی بارگاہ میں ان لوگوں کی شکایت کرتا ہوں جو میرے بعد ان کے فضائل کا انکار کریں گے اور ان کے حق کو پامال کریں گے۔ اللہ میری عترت کی مدد اور ان کے حق کا انکار کرنے والوں سے انتقام کے لیے کافی ہے۔

پھر رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے یہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی:

«وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ»(سوره شعراء، آیت ۲۲۷)

ترجمہ

اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے، وہ عنقریب جان لیں گے کہ وہ کس انجام کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

مآخذ
کمال الدین و تمام النعمة، ج۱، ص۲۶۰

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے