سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ایام وداع رسول الله صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ: وہ جسارتیں جنہوں نے تاریخ کو سیاہ کر دیا

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے آخری ایام تاریخ کے نہایت حساس لمحات تھے۔ ان ایام میں ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے بعد کے تاریخی حالات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

بیماری اور گھر سے روانگی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ گزشتہ تین دن سے شدید علالت میں تھے۔ بیماری کی شدت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ سرِ اقدس پر پٹی باندھ رکھی تھی۔ امیر‌المومنین علیہ‌السلام، جو ضرورت کے سوا کبھی رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ سے جدا نہیں ہوتے تھے، اس وقت بھی آپ صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کے ساتھ تھے۔ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے اپنا دایاں ہاتھ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے کندھے پر اور بایاں ہاتھ فضل بن عباس کے کندھے پر رکھا، پھر اسی حالت میں مسجد کی طرف تشریف لے گئے۔

تاریخی خطبہ ارشا فرمایا

مسجد پہنچ کر رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فضل بن عباس کو حکم دیا کہ لوگوں کو جمع کریں۔

جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے حمد و ثنائے الٰہی کے بعد نہایت مختصر مگر تاریخ ساز خطبہ ارشاد فرمایا:

اے لوگو! میری رحلت کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب اور اپنی عترت، یعنی اپنے اہلِ بیت، چھوڑے جا رہا ہوں۔

اس کے بعد آپ صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ بلند کیا اور فرمایا:

یہ علی بن ابی طالب ہیں۔ علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔ یہ دونوں قیامت تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔[۱]

وعدوں کی وفا اور رحمتِ نبویؐا

اس کے بعد رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے فرمایا:

اے لوگو! جس سے میں نے کوئی وعدہ کیا ہو، وہ میرے پاس آئے تاکہ میں اپنا وعدہ پورا کر دوں۔[۲]

پھر آپ صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے نماز ادا فرمائی، اور دوبارہ منبر پر تشریف لے گئے، اس کے بعد اپنی گفتگو کو دہرایا۔

اسی دوران ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا:

یا رسول اللہ! آپ نے میری شادی کے موقع پر مجھے تین درہم دینے کا وعدہ فرمایا تھا۔

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے فضل بن عباس کو حکم دیا کہ اسے تین درہم ادا کر دیے جائیں۔

پھر فرمایا:

جسے اپنے بارے میں کسی چیز کا خوف ہو، وہ کھڑا ہو جائے تاکہ میں اس کے لیے دعا کروں۔

چنانچہ کئی افراد کھڑے ہوئے، اپنے حالات بیان کیے اور اپنی مشکلات عرض کیں۔

عمر بن خطاب کی سرزنش اور رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کا جواب

اسی موقع پر عمر بن خطاب کھڑے ہوئے، جنہیں اس وقت لشکرِ اسامہ میں ہونا چاہیے تھا، مگر وہ مسجد میں موجود تھے۔

اس نے وہاں موجود افراد کو ملامت کرتے ہوئے کہا:

تم نے خود کو رسوا کر لیا!

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے پہلے ان لوگوں کے لیے دعا فرمائی، پھر ارشاد فرمایا:

دنیا کی رسوائی، آخرت کی رسوائی سے کہیں بہتر ہے۔

یہ فرما کر آپ صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔[۳]

جمعرات کا وہ المناک واقعہ

اسی جمعرات کو، یعنی رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی شہادت سے چار روز قبل، آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ بسترِ علالت پر تھے۔ اس وقت عمر بن خطاب سمیت چند افراد آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے گھر میں موجود تھے،

چنانچہ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

میرے لیے قلم اور دوات لے آؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔

مگر اسی وقت عمر بن خطاب نے کہا:

رسول خدا پر بیماری کا غلبہ ہے اور وہ ہذیان بک رہے ہیں [نعوذ باللہ]، اور ہمارے لیے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے۔ اس کے بعد حاضرین میں اختلاف اور شور و غل شروع ہو گیا۔

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے یہ کیفیت دیکھی تو نہایت رنج کے ساتھ فرمایا:

اٹھ جاؤ، میرے پاس سے چلے جاؤ۔ میرے سامنے جھگڑا نہیں کرو۔

عبداللہ بن عباس اس واقعے کو یاد کر کے عمر بھر افسوس کرتے رہے، وہ فرمایا کرتے تھے:

سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ لوگوں کے اختلاف اور شور و غل نے رسول خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ اور آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی اس تحریر کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی۔[۴]

مآخذ
[۱] جواہر العقدین، ص ۲۴۰۲
[۲] مناقب آل ابی طالب، ج ۱، ص ۲۱۹؛ بحار الأنوار، ج ۲۲، ص ۴۷۲
[۳] تاریخ طبری، ج ۲، ص ۴۳۴؛ مجمع الزوائد، ج ۹، ص ۲۶؛ المعجم الأوسط، ج۳، ص ۱۰۵
[۴]صحیح البخاری، کتاب الأشربة، باب: قول المريض قوموا عني، ج ۷، ص ۹، حدیث ۵۳۴

 

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے