نویں حصے میں بیعت کا مسئلہ پیش کیا گیا تھا۔ دسویں حصے میں حلال و حرام اور واجبات و محرمات کے احکام بیان فرمائے گئے ہیں:
دسواں حصہ: حلال و حرام، واجبات اور محرمات
مَعاشِرَالنّاسِ ، إِنَّ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مِنْ شَعائرِالله، (فَمَنْ حَجَّ الْبَیتَ أَوِاعْتَمَرَ فَلاجُناحَ عَلَیهِ أَنْ یطَّوَّفَ بِهِما) الآیة ۔ مَعاشِرَالنّاسِ ، حُجُّواالْبَیتَ، فَماوَرَدَهُ أَهْلُ بَیتٍ إِلاَّ اسْتَغْنَوْا وَ أُبْشِروا، وَلاتَخَلَّفوا عَنْهُ إِلاّبَتَرُوا وَ افْتَقَرُوا ۔ مَعاشِرَالنّاسِ ، ماوَقَفَ بِالْمَوْقِفِ مُؤْمِنٌ إِلاَّغَفَرَالله لَهُ ماسَلَفَ مِنْ ذَنْبِهِ إِلی وَقْتِهِ ذالِک، فَإِذا انْقَضَتْ حَجَّتُهُ اسْتَأْنَفَ عَمَلَهُ ۔ مَعاشِرَالنَّاسِ ، الْحُجّاجُ مُعانُونَ وَ نَفَقاتُهُمْ مُخَلَّفَةٌ عَلَیهِمْ وَالله لایضیعُ أَجْرَالُْمحْسِنینَ ۔ مَعاشِرَالنّاسِ ، حُجُّوا الْبَیتَ بِکمالِ الدّینِ وَالتَّفَقُّهِ، وَلاتَنْصَرِفُوا عَنِ الْمشَاهِدِإِلاّ بِتَوْبَةٍ وَ إِقْلاعٍ ۔ مَعاشِرَالنّاسِ ، أَقیمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّکاةَ کما أَمَرَکمُ الله عَزَّوَجَلَّ، فَإِنْ طالَ عَلَیکمُ الْأَمَدُ فَقَصَّرْتُمْ أَوْنَسِیتُمْ فَعَلِی وَلِیکمْ وَمُبَینٌ لَکمْ، الَّذی نَصَبَهُ الله عَزَّوَجَلَّ لَکمْ بَعْدی أَمینَ خَلْقِهِ ۔ إِنَّهُ مِنِّی وَ أَنَا مِنْهُ، وَ هُوَ وَ مَنْ تَخْلُفُ مِنْ ذُرِّیتی یخْبِرونَکمْ بِماتَسْأَلوُنَ عَنْهُ وَیبَینُونَ لَکمْ ما لاتَعْلَمُونَ
اے لوگو! یقیناً حج اور عمرہ اللہ کی نشانیوں (اور شعائر) میں سے ہیں۔ "پس جو شخص بھی خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان طواف (آمد و رفت) کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے”(بقرہ: 158)۔ اے لوگو! خانۂ خدا کا حج بجا لاؤ؛ کیونکہ کوئی بھی خاندان ایسا نہیں جس نے اس گھر کا رخ کیا ہو اور وہ غنی و مالامال نہ ہوا ہو اور اسے خوشخبری نہ ملی ہو، اور کسی نے اس سے منہ نہیں موڑا مگر یہ کہ وہ بے برکت، لاوارث اور محتاج ہو گیا۔ اے لوگو! کوئی بھی مومن جب موقف (عرفات، مشعر اور منا) میں ٹھہرتا ہے، تو اللہ اس کے پچھلے تمام گناہوں کو اس وقت تک معاف کر دیتا ہے، لہٰذا حج کے اعمال ختم ہونے کے بعد اس کے اعمال کا نئے سرے سے آغاز ہوتا ہے۔ اے لوگو! حاجیوں کی مدد کی جاتی ہے، ان کے اخراجات کا بدل دیا جاتا ہے اور جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں وہ انہیں واپس مل جاتا ہے، اور بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ اے لوگو! دین کے کامل فہم اور گہرے شعور کے ساتھ حجِ بیت اللہ کا شرف حاصل کرو، اور ان مقدس زیارت گاہوں سے صرف سچی توبہ اور گناہوں کو ترک کر کے ہی واپس لوٹو۔ اے لوگو! نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو جس طرح اللہ عزوجل نے تمہیں حکم دیا ہے۔ پس اگر طویل مدت گزرنے کی وجہ سے تم سے کوئی کوتاہی ہو جائے یا تم بھول جاؤ، تو علی تمہارے ولی، سرپرست اور احکام کو واضح کرنے والے ہیں۔ اللہ عزوجل نے میرے بعد انہیں اپنی مخلوق میں اپنا امین مقرر فرما کر تمہارے لیے نامزد کیا ہے۔ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں؛ وہ اور میری نسل سے آنے والے ان کے جانشین، تمہارے ہر سوال کا جواب دیں گے اور جو کچھ تم نہیں جانتے وہ تمہیں سکھائیں گے۔
أَلا إِنَّ الْحَلالَ وَالْحَرامَ أَکثَرُمِنْ أَنْ أُحصِیهُما وَأُعَرِّفَهُما فَآمُرَ بِالْحَلالِ وَ اَنهَی عَنِ الْحَرامِ فی مَقامٍ واحِدٍ، فَأُمِرْتُ أَنْ آخُذَ الْبَیعَةَ مِنْکمْ وَالصَّفْقَةَ لَکمْ بِقَبُولِ ماجِئْتُ بِهِ عَنِ الله عَزَّوَجَلَّ فی عَلِی أمیرِالْمُؤْمِنینَ وَالأَوْصِیاءِ مِنْ بَعْدی الَّذینَ هُمْ مِنِّی وَمِنْهُ إمامَةٌ فیهِمْ قائِمَةٌ، خاتِمُها الْمَهْدی إِلی یوْمٍ یلْقَی الله الَّذی یقَدِّرُ وَ یقْضی ۔ مَعاشِرَالنّاسِ، وَ کلُّ حَلالٍ دَلَلْتُکمْ عَلَیهِ وَکلُّ حَرامٍ نَهَیتُکمْ عَنْهُ فَإِنِّی لَمْ أَرْجِعْ عَنْ ذالِک وَ لَمْ أُبَدِّلْ ۔ أَلا فَاذْکرُوا ذالِک وَاحْفَظُوهُ وَ تَواصَوْابِهِ، وَلا تُبَدِّلُوهُ وَلاتُغَیرُوهُ ۔ أَلا وَ إِنِّی اُجَدِّدُالْقَوْلَ: أَلا فَأَقیمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّکاةَ وَأْمُرُوا بِالْمَعْروفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْکرِ
آگاہ رہو! حلال اور حرام کی فہرست اس سے کہیں زیادہ طویل ہے کہ میں ایک ہی مقام پر ان سب کا شمار کروں اور ان کی پہچان کروا کر تمام حلال کا حکم دوں اور تمام حرام سے منع کروں۔ اسی لیے مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں تم سے اس بات پر بیعت لوں اور تمہارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لوں کہ جو کچھ میں اللہ عزوجل کی جانب سے لایا ہوں تم اسے قبول کرو؛ یعنی علی اور ان کے بعد آنے والے اوصیا کی امامت کا اقرار کرو، جو مجھ سے اور ان سے ہیں، اور یہ امامت ان کے درمیان قائم رہے گی یہاں تک کہ اس کا اختتام مہدی پر ہوگا، اس دن تک جب وہ تقدیر اور فیصلہ کرنے والے اللہ سے ملاقات کریں گے۔ اے لوگو! میں نے تمہیں جس حلال کی رہنمائی کی ہے اور جس حرام سے روکا ہے، میں اس سے ہرگز نہیں پھرا اور نہ ہی میں نے اس میں کوئی تبدیلی کی ہے۔ سن لو! اس بات کو یاد رکھو، اس کی حفاظت کرو اور ایک دوسرے کو اس کی وصیت کرو، اور احکامِ الٰہی میں کوئی رد و بدل یا تبدیلی نہ کرنا۔ آگاہ رہو! میں اپنی بات کی تکرار کرتا ہوں: خبردار! نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو۔
أَلاوَإِنَّ رَأْسَ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ أَنْ تَنْتَهُوا إِلی قَوْلی وَتُبَلِّغُوهُ مَنْ لَمْ یحْضُرْ وَ تَأْمُروُهُ بِقَبُولِهِ عَنِّی وَتَنْهَوْهُ عَنْ مُخالَفَتِهِ ، فَإِنَّهُ أَمْرٌ مِنَ الله عَزَّوَجَلَّ وَمِنِّی ۔ وَلا أَمْرَ بِمَعْروفٍ وَلا نَهْی عَنْ مُنْکرٍ إِلاَّمَعَ إِمامٍ مَعْصومٍ ۔ مَعاشِرَالنّاسِ ، الْقُرْآنُ یعَرِّفُکمْ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ بَعْدی وُلْدُهُ، وَعَرَّفْتُکمْ إِنَّهُمْ مِنِّی وَمِنْهُ، حَیثُ یقُولُ الله فی کتابِهِ : ( وَ جَعَلَها کلِمَةً باقِیةً فی عَقِبی ) ۔ وَقُلْتُ : « لَنْ تَضِلُّوا ما إِنْ تَمَسَّکتُمْ بِهِما» ۔ مَعاشِرَالنّاسِ ، التَّقْوی ، التَّقْوی ، وَاحْذَرُوا السّاعَةَ کما قالَ الله عَزَّوَجَلَّ : ( إِنَّ زَلْزَلَةَ السّاعَةِ شَیءٌ عَظیمٌ ) ۔ اُذْکرُوا الْمَماتَ ( وَالْمَعادَ ) وَالْحِسابَ وَالْمَوازینَ وَالُْمحاسَبَةَ بَینَ یدَی رَبِّ الْعالَمینَ وَالثَّوابَ وَالْعِقابَ ۔ فَمَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ أُثیبَ عَلَیها وَ مَنْ جاءَ بِالسَّیئَةِ فَلَیسَ لَهُ فِی الجِنانِ نَصیبٌ
اور جان لو کہ امر بالمعروف کی اصل اور اس کی چوٹی یہ ہے کہ تم میری اس بات کی گہرائی تک پہنچو، اور اسے ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں موجود نہیں ہیں، اور انھیں میری طرف سے اسے قبول کرنے کا حکم دو اور میری مخالفت کرنے سے منع کرو؛ کیونکہ یہ اللہ عزوجل کا اور میرا حکم ہے۔ اور کوئی بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کسی معصوم امام کی سرپرستی کے بغیر کامل اور محقق نہیں ہو سکتا۔ اے لوگو! قرآن تمھیں بتاتا ہے کہ علی کے بعد آنے والے امام ان کی اولاد ہیں، اور میں نے تمھیں پہچان کروا دی ہے کہ وہ ان سے اور مجھ سے ہیں، جیسا کہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: "اور اس نے اسے اپنی نسل میں ایک باقی رہنے والا کلمہ قرار دیا۔۔۔”۔ اور میں نے بھی تم سے کہا ہے کہ: "جب تک تم ان دونوں (قرآن اور عترت) سے متمسک رہو گے، ہرگز گمراہ نہ ہو گے”۔ اے لوگو! تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ! اور قیامت کی ہولناکی سے ڈرو، جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا: "بیشک قیامت کا زلزلہ ایک بہت بڑی اور ہولناک چیز ہے۔۔۔”۔ موت، بارگاہِ الٰہی میں بازپرس ،حساب و کتاب، ترازوئے عدل اور رب العالمین کے حضور محاسبے کو یاد رکھو، اور ثواب و عذاب کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھو۔ پس جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اسے اس کا بہترین صلہ دیا جائے گا، اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا، جنت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
اس خطبے کا تسلسل گیارہویں حصے میں ملاحظہ فرمائیں۔
منابع
علامه امینی، الغدیر، ج۱ص۱۲-۱۵۱و۲۹۴-۳۲۲۔
شیخ عبدالله، بحرانی، عوالم العلوم، ج۱۵/۳ص ۳۰۷-۳۲۷۔
علامه مجلسی، بحارالانوار، ج۳۷ص۱۸۱-۱۸۲۔
حر عاملی، اثبات الهداة، ج۲ص۲۰۰-۲۵۰۔
سید ابن طاووس، الطرائف، ص۳۳۔
