دسویں حصے میں حلال و حرام اور احکامِ شریعت کا تذکرہ تھا۔ اس گیارہویں اور آخری حصے میں امت سے باقاعدہ اور رسمی طور پر بیعت لینے کا مرحلہ بیان فرمایا گیا ہے:
گیارہواں حصہ: بیعت لینے کا رسمی طریقہ اور اختتامِ خطبہ
مَعاشِرَالنّاسِ ، إِنَّکمْ أَکثَرُ مِنْ أَنْ تُصافِقُونی بِکفٍّ واحِدٍ فی وَقْتٍ واحِدٍ، وَقَدْ أَمَرَنِی الله عَزَّوَجَلَّ أَنْ آخُذَ مِنْ أَلْسِنَتِکمُ الْإِقْرارَ بِما عَقَّدْتُ لِعَلِی أَمیرِالْمُؤْمنینَ ، وَلِمَنْ جاءَ بَعْدَهُ مِنَ الْأَئِمَّةِ مِنّی وَ مِنْهُ، عَلی ما أَعْلَمْتُکمْ أَنَّ ذُرِّیتی مِنْ صُلْبِهِ ۔ فَقُولُوا بِأَجْمَعِکمْ : « إِنّا سامِعُونَ مُطیعُونَ راضُونَ مُنْقادُونَ لِما بَلَّغْتَ عَنْ رَبِّنا وَرَبِّک فی أَمْرِ إِمامِنا عَلِی أَمیرِالْمُؤْمِنینَ وَ مَنْ وُلِدَ مِنْ صُلْبِهِ مِنَ الْأَئِمَّةِ ۔ نُبایعُک عَلی ذالِک بِقُلوُبِنا وَأَنْفُسِنا وَأَلْسِنَتِنا وَأَیدینا ۔ علی ذالِک نَحْیی وَ عَلَیهِ نَموتُ وَ عَلَیهِ نُبْعَثُ ۔ وَلانُغَیرُ وَلانُبَدِّلُ ، وَلا نَشُک ( وَلانَجْحَدُ ) وَلانَرْتابُ، وَلا نَرْجِعُ عَنِ الْعَهْدِ وَلا نَنْقُضُ الْمیثاقَ۔
اے لوگو! تمھاری تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کہ تم سب ایک ہی وقت میں میرے ایک ہاتھ پربیعت کر سکو، اسی لیے اللہ عزوجل نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھاری زبانوں سے اس عہد و پیمان کا اقرار لوں جو میں نے علی امیرالمؤمنین کی ولایت اور ان کے بعد آنے والے ان اماموں کے لیے باندھا ہے جو مجھ سے اور ان سے ہیں؛ جیسا کہ میں تمھیں بتا چکا ہوں کہ میری نسل علی کے صلب سے ہے۔ پس تم سب مل کر یکصدا ہو کر کہو: "ہم نے سنا، ہم اطاعت گزار ہیں، راضی ہیں اور سرِ تسلیم خم کیے ہوئے ہیں اس پیغام کے سامنے جو آپ نے ہمارے اور اپنے پروردگار کی طرف سے ہمارے امام، امیرالمؤمنین علی علیہالسلام اور ان کی صلب سے آنے والے دیگر اماموں کی امامت کے بارے میں ہمیں پہنچایا ہے۔ ہم اپنے دلوں، اپنی جانوں، اپنی زبانوں اور اپنے ہاتھوں سے اس بات پر آپ کی بیعت کرتے ہیں۔ اسی عہد پر ہم زندہ ہیں، اسی پر مریں گے اور اسی عقیدے کے ساتھ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ ہم اس میں کبھی کوئی رد و بدل یا تبدیلی نہیں کریں گے، نہ شک و انکار کریں گے، نہ وسوسے میں پڑیں گے، نہ اس عہد سے پھریں گے اور نہ اس میثاق کو توڑیں گے۔
وَعَظْتَنا بِوَعْظِ الله فی عَلِی أَمیرِالْمؤْمِنینَ وَالْأَئِمَّةِ الَّذینَ ذَکرْتُ مِنْ ذُرِّیتِک مِنْ وُلْدِهِ بَعْدَهُ، الْحَسَنِ وَالْحُسَینِ وَ مَنْ نَصَبَهُ الله بَعْدَهُما ۔ فَالْعَهْدُ وَالْمیثاقُ لَهُمْ مَأْخُوذٌ مِنَّا، مِنْ قُلُوبِنا وَأَنْفُسِنا وَأَلْسِنَتِنا وَضَمائِرِنا وَأَیدینا ۔ مَنْ أَدْرَکها بِیدِهِ وَ إِلاَّ فَقَدْ أَقَرَّ بِلِسانِهِ، وَلا نَبْتَغی بِذالِک بَدَلاً وَلایرَی الله مِنْ أَنْفُسِنا حِوَلاً ۔ نَحْنُ نُؤَدّی ذالِک عَنْک الّدانی والقاصی مِنْ اَوْلادِنا واَهالینا، وَ نُشْهِدُالله بِذالِک وَ کفی بِالله شَهیداً وَأَنْتَ عَلَینا بِهِ شَهیدٌ » ۔ مَعاشِرَالنّاسِ، ماتَقُولونَ؟ فَإِنَّ الله یعْلَمُ کلَّ صَوْتٍ وَ خافِیةَ کلِّ نَفْسٍ، (فَمَنِ اهْتَدی فَلِنَفْسِهِ وَ مَنْ ضَلَّ فَإِنَّما یضِلُّ عَلَیها)، وَمَنْ بایعَ فَإِنَّما یبایعُ الله، ( یدُالله فَوْقَ أَیدیهِمْ ) ۔ مَعاشِرَالنّاسِ ، فَبایعُوا الله وَ بایعُونی وَبایعُوا عَلِیاً أَمیرَالْمُؤْمِنینَ وَالْحَسَنَ وَالْحُسَینَ وَالْأَئِمَّةَ (مِنْهُمْ فِی الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ) کلِمَةً باقِیةً ۔
آپ نے ہمیں اللہ کا حکم سنا کر امیرالمؤمنین علیہ السلام اور ان کے بعد آپ کی نسل اور ان کی اولاد میں سے آنے والے اماموں کے بارے میں نصیحت فرمائی، یعنی حسن و حسین اور ان کے بعد جنھیں اللہ نے منصبِ امامت پر فائز کیا ہے۔ پس ہماری طرف سے ان سب کے لیے ہمارے دلوں، ہماری جانوں، ہماری زبانوں، ہمارے ضمیروں اور ہمارے ہاتھوں کا عہد و پیمان پکا ہو چکا ہے۔ جس کے لیے ہاتھ سے بیعت کرنا ممکن تہا اس نے ہاتھ سے کی، ورنہ زبان سے اس کا اقرار کیا۔ ہم اس عہد کا کوئی بدل نہیں چاہتے اور اللہ کبھی ہمارے دلوں میں اس عہد سے انحراف نہ دیکہے۔ ہم آپ کا یہ فرمان اپنے بچوں اور اپنے خاندان کے نزدیک و دور کے تمام لوگوں تک پہنچائیں گے اور ہم اس پر اللہ کو گواہ بناتے ہیں، اور اللہ کی گواہی کافی ہے اور آپ بھی ہم پر اس بات کے گواہ ہیں۔ اے لوگو! تم کیا کہتے ہو؟ یقیناً اللہ ہر آواز کو سنتا ہے اور ہر نفس کے چھپے ہوئے راز کو جانتا ہے۔ پس جس نے ہدایت پائی اس نے اپنے ہی بھلے کے لیے پائی، اور جو گمراہ ہوا اس نے اپنا نقصان کیا۔ اور جس نے بیعت کی، اس نے حقیقت میں اللہ سے بیعت کی؛ "اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے”۔ اے لوگو! پس اللہ کی بیعت کرو، میری بیعت کرو اور امیرالمؤمنین علیہالسلام، حسن، حسین اور ان کی نسل سے آنے والے اماموں کی بیعت کرو جو دنیا اور آخرت میں ایک باقی رہنے والا کلمے ہیں۔
یهْلِک الله مَنْ غَدَرَ وَ یرْحَمُ مَنْ وَ فی، ( وَ مَنْ نَکثَ فَإِنَّما ینْکثُ عَلی نَفْسِهِ وَ مَنْ أَوْفی بِما عاهَدَ عَلَیهُ الله فَسَیؤْتیهِ أَجْراً عَظیماً ) ۔ مَعاشِرَالنّاسِ، قُولُوا الَّذی قُلْتُ لَکمْ وَسَلِّمُوا عَلی عَلی بِإِمْرَةِ الْمُؤْمِنینَ، وَقُولُوا: ( سَمِعْنا وَ أَطَعْنا غُفْرانَک رَبَّنا وَ إِلَیک الْمَصیرُ )، وَ قُولوا: (اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذی هَدانا لِهذا وَ ما کنّا لِنَهْتَدِی لَوْلا أَنْ هَدانَا الله ) الآیة ۔ مَعاشِرَالنّاسِ، إِنَّ فَضائِلَ عَلی بْنِ أَبی طالِبٍ عِنْدَالله عَزَّوَجَلَّ – وَ قَدْ أَنْزَلَهافِی الْقُرْآنِ – أَکثَرُ مِنْ أَنْ أُحْصِیها فی مَقامٍ واحِدٍ، فَمَنْ أَنْبَاَکم_ بِها وَ عَرَفَها فَصَدِّقُوهُ ۔ مَعاشِرَالنّاسِ، مَنْ یطِعِ الله وَ رَسُولَهُ وَ عَلِیاً وَ الْأَئِمَةَ الَّذینَ ذَکرْتُهُمْ فَقَدْ فازَفَوْزاً عَظیماً ۔
اللہ دغا بازوں اور عہدشکنوں کو ہلاک کر دیتا ہے اور وفا کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے۔ "اور جس نے عہد توڑا، اس نے اپنے ہی نقصان کے لیے توڑا، اور جس نے اس عہد کو پورا کیا جو اس نے اللہ سے کیا تھا، تو اللہ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا”۔ اے لوگو! جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہی زبان سے دہرواؤ اور علی کو "امیرالمؤمنین” کے لقب سے سلام کرو، اور کہو: "ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلبگار ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹ کر جانا ہے”۔ اور کہو: "تمام حمد اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس راستے کی ہدایت فرمائی، اور اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ فرماتا تو ہم کبھی ہدایت نہ پا سکتے”۔ اے لوگو! اللہ عزوجل کے ہاں علی ابن ابی طالب کے فضائل و مناقب جو اس نے قرآن میں نازل فرمائے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ میں ایک ہی جگہ ان سب کا شمار کر سکوں؛ لہٰذا جو کوئی بھی تمہیں ان کے مقامات و فضائل سے آگاہ کرے اور ان کی معرفت رکہتا ہو، اس کی تصدیق و تائید کرو۔ اے لوگو! جو کوئی اللہ، اس کے رسول ،علی اور ان اماموں کی اطاعت کرے ،جن کا میں نے ذکر کیا ہے، تو وہ یقیناً بہت بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
مَعاشِرَالنَّاسِ ، السّابِقُونَ إِلی مُبایعَتِهِ وَ مُوالاتِهِ وَ التَّسْلیمِ عَلَیهِ بِإِمْرَةِ الْمُؤْمِنینَ أُولئک هُمُ الْفائزُونَ فی جَنّاتِ النَّعیمِ ۔ مَعاشِرَالنّاسِ ، قُولُوا ما یرْضَی الله بِهِ عَنْکمْ مِنَ الْقَوْلِ، فَإِنْ تَکفُرُوا أَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْأَرْضِ جَمیعاً فَلَنْ یضُرَّالله شَیئاً ۔ اللهمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنینَ ( بِما أَدَّیتُ وَأَمَرْتُ ) وَاغْضِبْ عَلَی ( الْجاحِدینَ ) الْکافِرینَ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمینَ ۔
اے لوگو! علی کی بیعت کرنے، ان سے محبت و ولایت کا دم بھرنے اور انہیں "امیرالمؤمنین” کہہ کر سلام کرنے میں پہل کرنے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں اور وہی نعمتوں سے بھری جنتوں میں ہوں گے۔ اے لوگو! وہی بات زبان پر لاؤ جس سے اللہ تم سے راضی ہو جائے، کیونکہ اگر تم اور روئے زمین کے تمام لوگ مل کر بھی کفر اختیار کرلو، تب بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ خدایا! جو کچھ میں نے پہنچایا اور جس کا حکم دیا، اس پر ایمان لانے والے مومنین کو بخش دے اور انکار کرنے والے کافروں پر اپنا غضب نازل فرما!
والحمد للّٰہ ربِّ العالمین (اور تمام حمد کائنات کے پالنے والے اللہ ہی کے لیے ہیں)۔
حوالہجات
علامه امینی، الغدیر، ج۱ص۱۲-۱۵۱و۲۹۴-۳۲۲۔
شیخ عبدالله، بحرانی، عوالم العلوم، ج۱۵/۳ص ۳۰۷-۳۲۷۔
علامه مجلسی، بحارالانوار، ج۳۷ص۱۸۱-۱۸۲۔
حر عاملی، اثبات الهداة، ج۲ص۲۰۰-۲۵۰۔
سید ابن طاووس، الطرائف، ص۳۳۔
