سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی کوفہ یونیورسٹی میں یادداشت افزائی کے سالانہ جشن میں شرکت

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے کوفہ یونیورسٹی میں منعقدہ یادداشت افزائی کے سالانہ دوسرے فیسٹیول کی سرگرمیوں میں شرکت کی۔

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے کوفہ یونیورسٹی میں منعقدہ یادداشت افزائی فیسٹیول میں شرکت کی، جس کا مقصد عراقی عوام پر ہونے والے مظالم کی دستاویز بندی اور اجتماعی یادداشت کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ شرکت اس مقصد کے تحت کی گئی کہ عراقی عوام پر ڈھائے گئے جرائم کو دستاویزی شکل دی جائے اور زندہ اجتماعی یادداشت کو تقویت دی جائے۔ یہ فیسٹیول کوفہ یونیورسٹی کے کالج آف سائنس کی جانب سے حرم مقدس حضرت عباس علیہ‌السلام سے وابستہ الوافی فاؤنڈیشن کے تعاون سے منعقد کیا گیا، جس میں حرم مقدس امام حسین علیہ‌السلام، حرم امامین عسکریین علیہماالسلام، فاؤنڈیشن برائے سیاسی قیدیان اور شہداء فاؤنڈیشن نے بھی شرکت کی، جبکہ اس موقع پر وسیع تعلیمی اور ثقافتی شخصیات کی موجودگی دیکھنے میں آئی۔

مرکز علوی برائے اسلامی تحقیق و مطالعات کے سربراہ، شیخ سلام الناصری نے نیوز سینٹر سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ شرکت حرم مقدس کے اس کردار کا تسلسل ہے جو تاریخی حقائق کے تحفظ کے لیے ادا کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اجتماعی یادداشت کو مضبوط بنانا معاشرے کے لیے ایک حفاظتی حصار ہے، جو المیوں کی تکرار کو روکنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں عدل اور شعور کی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حرم مقدس سائنسی اور ثقافتی فورمز میں فعال شرکت کا خواہاں ہے، کیونکہ یہ پلیٹ فارمز اجتماعی شعور کی تشکیل اور نسلوں کو ان کی حقیقی تاریخ سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خصوصاً جدید دستاویزی طریقوں کے ذریعے جو فکری انداز اور بصری اثرات کو یکجا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نمائش میں ظالم بعثی حکومت کے دور کی دستاویزات شامل ہیں، جو اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ اس نے عوام کے خلاف مختلف اقسام کے تشدد اور ظلم روا رکھے، حتیٰ کہ حرمھائے مقدس کی زیارت، مذہبی رسومات کی ادائیگی، حتیٰ کہ حکومت کے خلاف مزاحیہ جملوں کو بھی بہانہ بنا کر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں بے گناہ اور مظلوم افراد کو سزائے موت دی گئی،نمائش میں ان اذیتی آلات کو بھی پیش کیا گیا ہے جو بعثی اولمپک کمیٹی میں موجود تھے، جس کی سربراہی سابق آمر کے پاس تھی، نیز ان علمائے دین کی تصاویر بھی موجود تھیں جنہیں ظالم کے کارندوں نے قید یا شہید کیا۔

حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی یہ شرکت اس کے مسلسل اقدامات کا حصہ ہے، جن کا مقصد قومی یادداشت کو محفوظ بنانا اور معاشرتی شعور کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں میں قومی شناخت کو مضبوط کرنا ہے۔

پانچ روزہ اس فیسٹیول کا مقصد بعثی حکومت اور انتہاپسند گروہوں کے ہاتھوں عراقی عوام پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنا ہے۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے