حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کی جانب سے لبنان اور ایران کے عوام کی حمایت کے لیے جاری مہم میں چند ہفتوں کے دوران 16 ہزار سے زائد عطیات جمع ہوئے جبکہ شفاف اور منظم نظام کے تحت عطیات کی وصولی ابھی جاری ہے۔
حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام میں شعبہ ہدایاجات و نذورات اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عطیات کی وصولی کے عمل کو ایک منظم، دقیق اور منظور شدہ نظام کے تحت انجام دیا جا سکے جو مرجع عالیقدر آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کی ہدایات کے مطابق ہو اور اس طرح کہ لبنان اور ایران کے عوام کے لیے فراہم کی جانے والی امداد کی مکمل شفافیت اور درست دستاویز بندی یقینی بنائی جا سکے۔
شعبے کے سربراہ خادم فاتح الکرمانی نے حرم مقدس کے نیوز سینٹر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عطیات جمع کرنے کے لیے متعدد طریقہ کار اور ذرائع وضع کیے گئے ہیں، جو چار بنیادی اقسام پر مشتمل ہیں، جن کا مقصد لبنانی اور ایرانی عوام کو امداد فراہم کرنا ہے، اس کے علاوہ دونوں ممالک کے لیے شرعی رقوم بھی مختص کی گئی ہیں،یہ امر عطیہ دینے والوں کے لیے مختلف طریقوں سے حصہ ڈالنے کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ شعبہ عید الفطر کے دوسرے دن، جو 22 مارچ 2026 کے مطابق ہے، سے لے کر مسلسل مختلف ذرائع کے ذریعے ہر قسم کے عطیات وصول کر رہا ہےجن میں الیکٹرانک نظامِ ہدایاجات و نذورات بھی شامل ہے۔
اس نظام کے ذریعے عطیہ دہندگان کا ڈیٹا، عطیات کی تفصیلات کو درست طور پر درج کیا جاتا ہے۔ عطیہ دہندگان کو ایک الیکٹرانک رسید بھی فراہم کی جاتی ہے، جس میں تمام ضروری معلومات شامل ہوتی ہیں اور جو وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر دستاویزی شکل دیتی ہے۔
الکرمانی نے وضاحت کی کہ حرم مقدس کے صحنِ بالا میں واقع شعبہ ہدایات و نذورات چوبیس گھنٹے عطیہ دہندگان کے استقبال کے لیے کھلا رہتا ہے، جبکہ عطیات کی ادائیگی کو آسان بنانے کے لیے POS ڈیوائسز کے ذریعے ماسٹر کارڈ کارڈز کے ساتھ الیکٹرانک ادائیگی کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ21 مارچ سے 9 اپریل 2026 کے دوران عطیہ دہندگان کی تعداد تقریباً 16008 تک پہنچ گئی، جن میں 15699 نقد عطیات، 308 سونے اور چاندی کے عطیات اور ایک ملکیتی عطیہ بھی شامل ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کا شعبہ ہدایاجات و نذورات چوبیس گھنٹے ہر قسم کے عطیات وصول کر رہا ہے، جو حرم مقدس کے زائرین کی جانب سے پیش کیے جانے والے انسانی ہمدردی اور یکجہتی کے جذبے کی واضح عکاسی کرتا ہے۔





