امام موسیٰ بن جعفر علیہالسلام کے زمانے میں حدیث نقل کرنا انتہائی دشوار تھا، لیکن حضرت معصومہ سلاماللہعلیہا سے ایسی احادیث بھی نقل ہوئی ہیں جن کا محور امامت و ولایت ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ سلاماللہعلیہا ان احادیث کے ذریعے معاشرے کے افکار و اذہان کو اس امامت و ولایت کی جانب متوجہ کرنا چاہتی تھیں جو اُس دور میں مظلومیت اور گمنامی کا شکار تھی۔
روایات فاطمیات
حضرت معصومہ سلاماللہعلیہا کی فضیلتوں میں سے ایک آپ سلاماللہعلیہا کا محدثہ ہونا ہے۔ ولایت امیرالمومنین علیہالسلام کے دفاع میں نقل ہونے والی روایات میں حدیث غدیر بھی شامل ہے۔ جسے حضرت معصومہ سلاماللہعلیہا نے معتبر سند کے ساتھ حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا سے روایت کیا ہے:
حضرت فاطمہ معصومہ، دختر امام کاظم علیہالسلام، حضرت فاطمہ، دختر امام صادق علیہالسلام سے؛ وہ حضرت فاطمہ، دختر امام باقر علیہالسلام سے؛ وہ حضرت فاطمہ، دختر امام سجاد علیہالسلام سے؛ وہ حضرت فاطمہ، دختر امام حسین علیہالسلام سے؛ وہ حضرت ام کلثوم، دختر امیرالمومنین علیہالسلام سے؛ اور وہ حضرت فاطمہ، دختر رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ سلاماللہعلیہا نے فرمایا:
«کیا تم غدیر خم کے دن رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کا یہ فرمان بھول گئے ہو کہ آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا تھا: جس کا میں مولا ہوں، علی علیہالسلام بھی اس کے مولا ہیں؟ کیا تم رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کا وہ فرمان بھی بھول گئے ہو جو آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے امیرالمومنین علی علیہالسلام سے فرمایا تھا: تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی؟»[۱]
حدیث معراج اور مولا کے چاہنے والے
حضرت معصومہ سلاماللہعلیہا نے بصیرت کے ساتھ حدیث معراج کے ایک حصے کو روایت کیا ہے، جس میں مولائے متقیان علیہالسلام کی ولایت اور آپ علیہالسلام کے شیعوں کے بلند مقام کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اس حدیث کو اس عظیم المرتبت خاتون کی جانب سے نقل کیا جانا، اسلامی معارف سے آپ سلاماللہعلیہا کی گہری بصیرت اور فہم کی عکاسی کرتا ہے۔
حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا، دختر امام سجاد علیہالسلام، حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا، دختر امام حسین علیہالسلام سے؛ وہ حضرت ام کلثوم سلاماللہعلیہا، دختر امیرالمومنین علیہالسلام سے؛ اور وہ حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا، دختر رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ سے روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کو فرماتے ہوئے سنا:
«جب مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک ایسا محل دیکھا جو ایک ہی سفید موتی سے بنا ہوا اوراندر سے خالی تھا ۔ اس محل کا ایک دروازہ تھا جسے موتیوں اور یاقوت سے آراستہ کیا گیا تھا اور اس دروازے پر ایک پردہ لٹک رہا تھا۔
میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس دروازے پر لکھا تھا: ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد صلیاللہعلیہوآلہ اللہ کے رسول ہیں اور علی علیہالسلام لوگوں کے ولی اور سرپرست ہیں۔‘‘
اور اس پردے پر لکھا تھا: ’’واہ! علی علیہالسلام کے شیعوں جیسا کون ہے؟‘‘
میں اس محل کے اندر داخل ہوا تو ایک اور محل دیکھا جو سرخ عقیق سے بنا ہوا تھا اور اندر سے خالی تھا۔ اس کا دروازہ چاندی کا تھا اور اسے سبز زبرجد سے آراستہ کیا گیا تھا، اس پر بھی ایک پردہ لٹک رہا تھا۔
میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ اس دروازے پر لکھا تھا: ’’محمد اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کے رسول ہیں، علی علیہالسلام مصطفیٰ کے وصی ہیں۔‘‘
اور اس پردے پر لکھا تھا: ’’علی علیہالسلام کے شیعوں کے لیے پاکیزہ ولادت کی خوشخبری ہے!‘‘
میں اس کے اندر داخل ہوا تو ایک اور محل دیکھا جو سبز زمرد سے بنا ہوا تھا۔ میں نے اس سے زیادہ خوب صورت محل کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس محل کا دروازہ سرخ یاقوت کا تھا جسے موتیوں سے آراستہ کیا گیا تھا اور اس دروازے پر بھی ایک پردہ لٹک رہا تھا۔
میں نے سر اٹھایا تو دیکھا کہ اس پردے پر لکھا تھا: ’’علی علیہالسلام کے شیعے ہی کامیاب ہونے والے ہیں!‘‘
میں نے کہا: ’’میرے دوست جبرئیل! یہ محل کس کے لیے ہے؟‘‘
انہوں نے کہا: ’’اے محمد صلیاللہعلیہوآلہ! یہ آپ صلیاللہعلیہوآلہ کے چچا زاد اور وصی، علی بن ابی طالب علیہالسلام کے لیے ہے۔ قیامت کے دن تمام لوگ ننگے پاؤں اور برہنہ بدن محشر میں حاضر ہوں گے، سوائے علی علیہالسلام کے شیعوں کے۔ اس دن لوگوں کو ان کی ماؤں کے نام سے پکارا جائے گا، مگر علی علیہالسلام کے شیعوں کو ان کے والد کے نام سے پکارا جائے گا۔‘‘
میں نے کہا: ’’جبرئیل! یہ کیسے ہوگا؟‘‘
انہوں نے کہا: ’’اس لیے کہ وہ علی علیہالسلام سے محبت کرتے ہیں، پس ان کی ولادت پاکیزہ ہے اور وہ حلال زادے ہیں۔»[۲]
ہجرت: ایک تمدن ساز قدم
لیکن حضرت معصومہ سلاماللہعلیہا کا دفاع امامت صرف احادیث کی روایت تک محدود نہیں رہا۔ اپنے بھائی امام رضا علیہالسلام کی مرو کی جانب جبری ہجرت کے بعد آپ سلاماللہعلیہا بھی خراسان کی طرف روانہ ہوئیں۔ لیکن سفر کے دوران قم کی جانب تشریف لے گئیں۔ خاتم النبیین صلیاللہعلیہوآلہ اور مولائے متقیان علیہالسلام سے منقول روایات بھی واضح طور پر اہلبیت علیہمالسلام کے فکری و اعتقادی نظام میں شہر قم کے گہرے تعلق اور اس کے خصوصی مقام کی نشان دہی کرتی ہیں۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
«اہل قم میرے شیعہ اور میرے وصی علی بن ابی طالب علیہالسلام کے شیعہ ہیں۔»[۳]
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
«اہل قم پر اللہ کا درود ہو، اہل قم پر خدا کی رحمت ہو! اللہ ان کے علاقوں کو بارش سے سیراب فرمائے۔»[۴]
انس بن مالک، رسول خاتم صلیاللہعلیہوآلہ کے ایک صحابی سے ، روایت کرتے ہیں:
«ایک روز میں رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہالسلام آپ صلیاللہعلیہوآلہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا: ’’اے ابوالحسن! میرے قریب آؤ۔‘‘
پھر آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے انہیں گلے سے لگایا، ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا:
’’اے علی! اللہ تعالیٰ نے تمہاری ولایت کو آسمانوں کے سامنے پیش کیا تو ساتویں آسمان نے سبقت حاصل کی اور اللہ نے اسے بیت المعمور سے آراستہ کیا۔ پھر آسمان دنیا نے اس ولایت پر سبقت حاصل کی اور اللہ نے اسے ستاروں سے آراستہ فرمایا۔ اس کے بعد اسے زمینوں کے سامنے پیش کیا گیا تو مکہ نے سبقت حاصل کی اور اللہ نے اسے کعبہ سے آراستہ کیا۔ پھر مدینہ نے سبقت حاصل کی اور اللہ نے اسے میرے وجود سے آراستہ کیا۔ اس کے بعد کوفہ نے سبقت حاصل کی اور اللہ نے اسے تمہارے وجود سے آراستہ کیا۔ پھر قم نے سبقت حاصل کی اور اللہ نے اسے عرب سے آراستہ کیا اور وہاں جنت کا ایک دروازہ کھول دیا۔‘‘»[۵]
مآخذ
[۱] ۔ اسنیالمطالب فی مناقب علی بن ابی طالب (علیهالسلام)، ابنجزری، صفحۀ ۴۹ / الغدیر، جلد ۱، صفحۀ ۱۹۶ / عوالم العلوم، جلد ۲۱، صفحۀ ۳۵۴
[۲] ۔ بحار الانوار، جلد ۶۵، صفحۀ ۷۹ / المسلسلات، صفحۀ ۲۴۱
[۳] ۔ بحار الانوار، جلد ۵۷، صفحۀ ۲۱۸
[۴] ۔ بحار الانوار، جلد ۵۷، صفحۀ ۲۲۸
[۵] ۔ بحار الانوار، جلد ۵۷، صفحۀ ۲۱۲