سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امام علی کا نور

 نورِ امیرالمومنین علیہ‌السلام: وہ روشنی جو کبھی بجھ نہیں سکتی

سوره اعراف کی آخری آیات میں اللہ تعالیٰ ایک ایسے گروہ کا ذکر فرماتا ہے جو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ کے حقیقی پیروکار ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا ذکر گزشتہ آسمانی کتابوں، تورات اور انجیل میں پایا اور آپ پر ایمان لائے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان حقیقی مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: «وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ...» اور اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ’’نور‘‘ کیا ہے جو رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے ساتھ نازل ہوا؟

امام جعفر صادق علیہ‌السلام اس آیت کی تفسیر میں ایک عظیم حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

«النُّورُ فِي هٰذَا الْمَوْضِعِ، عَلِيٌّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عليه‌السلام وَالْأَئِمَّةُ عليهم‌السلام»

یعنی اس مقام پر قرآن جس نور کا ذکر کر رہا ہے، وہ امیرالمومنین علی علیہ‌السلام اور ائمہ معصومین علیہم‌السلام ہیں۔

یہ وہ نور ہے جو سورج اور چاند کی روشنی نہیں، بلکہ ہدایت، ولایت اور معرفت کا نور ہے۔ ایسا نور جو انسان کو تاریکیوں سے نکال کر حق کی راہ دکھاتا ہے۔

وہ نور جو خدا کے نور سے وابستہ ہے

یہ نور چونکہ اللہ تعالیٰ کے لازوال نور سے وابستہ ہے۔ اس لیے یہ نور کبھی فنا نہیں ہو سکتا اور نہ تاریکی اسے چھپا سکتی ہے۔ دشمنان امیرالمومنین علی علیہ‌السلام نے اس نور کو بجھانے کی بہت کوششیں کیں۔ کبھی خاموشی کے ذریعے، کبھی تحریف کے ذریعے، کبھی حق غصب کرنے کے ذریعے اور کبھی تلوار کے ذریعے۔

لیکن وہ یہ حقیقت بھول گئے کہ:

«يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ» (سورۂ صف، آیت ۸)

وہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، مگر اللہ اپنے نور کو کامل کر کے رہے گا، اگرچہ کافروں کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔

علی علیہ‌السلام: زمین پر نور خدا

امیرالمومنین علی علیہ‌السلام نہ صرف اس آیت کی تفسیر میں، بلکہ قرآن و سنت کے متعدد مقامات پر نورِ ہدایت کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ علیہ‌السلام کی پیروی، نور کی پیروی ہے، اور آپ سے دوری گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹکنے کے مترادف ہے۔ یہی وہ کامیابی ہے جس کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے۔ ایسی کامیابی جو اس الٰہی نور سے وابستگی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔

نور علی علیہ‌السلام ہمیشہ باقی ہے

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس نور کو مٹانے کے لیے بے شمار سازشیں کی گئیں، لیکن ہر بار یہ نور پہلے سے زیادہ روشن ہو کر حق کے افق پر نمایاں ہوا۔ آج بھی حضرت امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کا نام مناروں کی بلندیوں پر اور مؤمنوں کے دلوں کی گہرائیوں میں زندہ و جاری ہے۔ جن لوگوں نے گمان کیا تھا کہ علی علیہ السلام کے ذکر کو مٹا دیا جائے گا، وہ خود فراموشی کی تاریکیوں میں گم ہو گئے، جبکہ نام امیرالمومنین علی علیہ‌السلام آج بھی ہدایت کے متلاشیوں کے لیے روشنی کا چراغ ہے۔

اسی حقیقت کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے:

دشمن نے آپ کو شہید تو کر دیا، مگر آپ کا نور خاموش نہ ہو سکا؛ بے شک وہ جلوہ جو کبھی فنا نہ ہو، وہی نورِ خدا ہے۔

مآخذ
الکافی، ج۱، ص۱۹۴

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے