اُس نے نماز پڑھی خانۂِ کعبہ میں۔ علی علیہ السلام دیکھ رہے تھے۔ پڑھ چکا تو بُلایا۔ کہا: بہت اچھی نماز پڑھی تُو نے، بہت ہی خضوع اور خشوع کی نماز پڑھی۔ ایک تو نماز ہی مِعراجِ مؤمن ہے، پھر تُو نے کعبہ میں پڑھی اور بلند ہو گئی تیری نماز۔ کیا کہنا تیری نماز کا! لیکن یہ بتا، جو تُو نے ابھی عمل کیا ہے، اِس کے باطن سے واقف ہے؟ (یہ تفسیرِ قرآن سے سنا رہا ہوں آپ کو)۔ مولا علیہ السلام نے فرمایا: اِس کے باطن سے واقف ہے؟ کہا: مولا علیہ السلام، کیا نماز کا بھی باطن ہے؟ کہا: میرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ پر کوئی ایسی تنزیل نہیں ہوئی جس کی تأویل نہ ہو، کوئی ظاہر ایسا نہیں جس کا باطن نہ ہو! کہا: مولا علیہ السلام، مجھے نہیں معلوم کہ نماز کا باطن کیا ہے؟ أَنَا صَلاَةُ اَلْمُؤْمِنِ، أَنَا حَيَّ عَلَى اَلصَّلاَةِ، أَنَا حَيَّ عَلَى اَلْفَلاَحِ، أَنَا حَيَّ عَلَى خَيْرِ اَلْعَمَلِ فرمایا: تُو نے جو عمل کیا اِس کا نام نماز ہے، اِس کا باطن میں ہوں۔
الفضائل، ابن شاذان، ج۱، ص۸۳