عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ (علیه السلام) فِی قَوْلِهِ عَزَّوَجَلَّ وَ إِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ أَشْهَدَهُمْ عَلی أَنْفُسِهِمْ أَ لَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالَ أَخْرَجَ اللَّهُ مِنْ ظَهْرِ آدَمَ ذُرِّیَّتَهُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَهِ کَالذَّرِّ فَعَرَّفَهُمْ نَفْسَهُ وَ لَوْ لَا ذَلِکَ لَمْ یَعْرِفْ أَحَدٌ رَبَّهُ وَ قَالَ أَ لَسْتُ بِرَبِّکُمْ قالُوا بَلی وَ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ (صلیاللهعلیهوآله) وَ عَلِیّاً أَمِیرُالْمُؤْمِنِینَ(علیهالسلام)۔
امام صادق علیہالسلام آیۂ میثاق کی تفسیر میں، اس لمحے کے بارے میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی ذریت کو گواہ بنایا، فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی تمام اولاد کو قیامت کے دن تک کے لیے، ذرات کی صورت میں ان کی پشت سے نکالا اور اپنی پہچان کروائی۔
اگر اس دن وہ الہیٰ معرفت نہ ہوتی، تو کوئی بھی اپنے پروردگار کو نہ پہچان پاتا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے پوچھا: "کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟”
سب نے جواب دیا: "ہاں! تو ہی ہمارا رب ہے”
اسی مقام پر اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے دو دیگر ارکان کا بھی تعارف کروایا: "اور یہ محمد صلیاللہعلیهوآلہ اللہ کے رسول ہیں اور علی علیہالسلام امیر المؤمنین ہیں۔”
بصائر الدرجات، محمد بن حسن صفار، ج۱، ص۷۲