سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

GH-Tareekh-10

فرمانِ ولایتِ علی علیہ السلام؛ بدر سے غدیر تک

قال الإمام الباقر (علیه السلام) عَنْ جَابِرِ‌بْنِ‌یَزِیدَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَاجَعْفَرٍ (علیه السلام) عَنْ هَذِهِ الْآیَةِ قَالَ وَ کَرِهُوا عَلِیّاً (علیه السلام) وَ کَانَ عَلِیٌّ رِضَا اللَّـهِ وَ رِضَا رَسُولِهِ أَمَرَ اللَّـهُ بِوَلَایَتِهِ یَوْمَ بَدْرٍ وَ یَوْمَ حُنَیْنٍ وَ بِبَطْنِ نَخْلَةَ وَ یَوْمَ التَّرْوِیَةِ نَزَلَتْ فِیهِ اثْنَتَانِ وَ عِشْرُونَ آیَةً فِی الْحَجَّةِ الَّتِی صُدَّ فِیهَا رَسُولُ اللَّـهِ (صلی الله علیه و آله) عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِالْجُحْفَةِ وَ بِخُم

کیا آپ جانتے ہیں اعمال کے ضائع ہونے کی اصل وجہ کیا ہے؟ وہ دل جس نے حق کے مقابل کھڑے ہونے کا فیصلہ کر لیا ہو۔

حضرتِ باقر العلوم علیہ‌السلام نے ایک عظیم حقیقت کو آشکار فرمایا آپ سے روایت ہے کہ آپ نے کلامِ الٰہی کی تفسیر میں، جہاں خداوند فرماتا ہے: “یہ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جو خدا کے غضب کا سبب بنتی ہے اور اس کی رضا کو ناپسند کیا، پس اللہ نے ان کے اعمال کو تباہ کر دیا۔” (محمد/۲۸)

آپ نے فرمایا: “یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جنھوں نے علی علیہ السلام کی ولایت کو ناگوار سمجھا؛ حالانکہ علی علیہ السلام ہی خدا کی رضا اور اس کے رسول صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کی رضا ہیں۔”

خداوندِ متعال نے صرف ایک دن نہیں، بلکہ تاریخِ اسلام کے نہایت حساس اور فیصلہ کن مواقع پر، بہت شان سے ان کی ولایت کا اعلان فرمایا، جیسے: جنگ بدر و حنین میں… وادی نخلہ میں اور یومِ ترویہ کے اجتماع میں… نزولِ وحی حج کی غربت میں اس سال جب مشرکین نے رحمتِ عالم، حضرت محمد مصطفی صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کا راستہ روک لیا اور آپ کو مسجدِ حرام میں داخل ہونے سے منع کر دیا، آسمان نے ایک بار پھر علی علیہ السلام کی حقانیت پر گواہی دی۔ جحفہ اور غدیرِ خم کے مقامات پر اس مردِ خدا کی ولایت کے بارے میں بائیس نورانی آیات نازل ہوئیں، جس کی رضا ہی پروردگار کی رضا ہے۔

تأویل الآیات، سید شرف‌الدین استرآبادی، ج۱، ص ۵۶۹

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے