ابنِ عباس سے روایت ہے کہ رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہماالسلام سے فرمایا: تاریخ کی گہرائیوں میں، جب رسالت کا سورج آسمانِ ہدایت پر پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ افروز تھا اور آنے والی نسلوں کے لیے راستہ ہمیشہ کے لیے روشن کر رہا تھا۔
اس وقت رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی زبانِ مبارک سے ایک ایسا نورانی بیان صادر ہوا جس نے حق اور باطل، نجات اور ہلاکت کی حدیں ہمیشہ کے لیے متعین کر دیں۔
خطابِ نبوی تھا اور مخاطب، علی بن ابی طالب علیہالسلام یہ وہ جملے تھے جنھوں نے حقیقت کا رخ ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا: “اے علی! میں حکمت کا شہر ہوں اور آپ اس کا دروازہ ہیں۔ کیا کوئی شخص کسی شہر میں اس کے دروازے کے علاوہ داخل ہو سکتا ہے؟”
پھر رسولِ رحمت نے بڑی صراحت اور عظمت کے ساتھ اعلان کیا: “جھوٹا ہے وہ جو یہ کہے کہ وہ مجھ سے محبت رکھتا ہے مگر اپنے دل میں آپ کی دشمنی پالے!”
یہ جملہ صرف ایک خبر نہ تھی، بلکہ ایک اٹل اصول تھا۔ یہ نسبت خاکی نہیں، افلاکی ہے؛ دو روحیں ایک ہی نور کی تجلی ہیں۔
“آپ مجھ سے ہیں اور میں آپ سے ہوں۔ آپ کا گوشت، میرا گوشت آپ کا خون، میرا خون آپ کی روح، میری روح آپ کا باطن، میرا باطن اور آپ کا ظاہر، میرا ظاہر ہے۔
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدھی راہ کہاں سے گزرتی ہے اور حق کا میزان کیا ہے۔ وہ جو امت کے امام اور رسول کے برحق جانشین ہیں، وہی الٰہی کسوٹی ہیں: “سعادت مند وہ ہے جو آپ کی فرمانبرداری کرے، اور بدبخت وہ ہے جو آپ کی نافرمانی کرے۔”
یہ کلامِ نبوی آج بھی ہمارے سامنے ہے، جو ہمارے لیے مشعل راہ، اور میزان ہے، اور ہمارے لیے فیصلہ کن ہے کہ سعادت مندی کا راستہ اطاعت ولی خدا سے جدا نہیں ۔
کمالُ الدین و تمامُ النِّعمة، شیخ صدوق، ج ۱، ص ۲۴۱