سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

دستارِ ولایت

روزِ غدیر، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کے سر پر  ایک عمامہ باندھا اور اس کے دونوں سِرے آپ نے حضرت کے شانوں کے درمیان چھوڑ دیے۔

پھر نہایت پُرمعنا انداز میں ایک آسمانی راز آشکار فرمایا: “میرے پروردگار نے مجھے جنگوں میں اُن فرشتوں کے ذریعے نصرت عطا کی جنھوں نے اسی طرح عمامہ باندھا ہوا تھا۔”

رسول اللہ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی دعا اس کے بعد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کا ہاتھ بلند کیا، اورمنبر پر یہ آفاقی اعلان فرمایا: “اے لوگو! جس کا میں مولا ہوں، اس کے لیے یہ علی بھی مولا ہیں۔”

اور پھر دعا فرمائی: "اے اللہ! جو اس سے محبت کرے، تُو بھی اس سے محبت فرما، اور جو اس سے دشمنی کرے، تُو اس کا دشمن ہو جا۔”

الأمان من الأخطار، سید بن طاووس، ج۱، ص۱۰۳

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے