ایک دل میں علی علیہالسلام اور دنیا دونوں نہیں آ سکتے۔ جس دل میں دنیا آتی ہے، اس میں علی علیہالسلام نہیں ہوتے اور جس میں علی علیہالسلام ہوتے ہیں، اس میں دنیا نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ علی علیہالسلام دنیا کو تین بار طلاق دے چکے ہیں۔(نہج البلاغہ، حکمت: ۷۷) حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہالسلام نے جب (اہلِ برزخ سے) پوچھا کہ تمہاری دنیا سے محبت کیسی تھی؟ تو جواب ملا: جیسے ایک بچے کی اپنی ماں سے محبت ہوتی ہے۔ قرآن نے بتایا کہ انسان جس چیز سے ماں کے بچے کی طرح محبت کرے، وہ اس کی ماں بن جاتی ہے۔ (الکافی، ج۲، ص۳۱۸) ولایتِ علی علیہالسلام ہماری ماں ہے۔ تبھی تو امام علیہالسلام نے فرمایا: جب ہمارے جد کی محبت کی ٹھنڈک اپنے دل میں پانا، تو اپنی ماں کو دعا دینا۔ (من لا يحضره الفقيه، ج۳، ص۴۹۳) اسی لیے رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا کہ ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ ہے۔ الکافی، ج۲، ص۱۵۹ اسی طرح فرمایا گیا کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ (عوالم العلوم، ج۱۱، ص۹۱۰) اور یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آیا: جو ماں کو ستائے گا، وہ اللہ کے عذاب میں آئے گا۔ (مستدرک الوسائل، ج۱۵، ص۱۹۳)