جسے اللہ نے منتخب کر کے دنیا میں بھیجا تھا، جب وہ تختِ حکومتِ ظاہری پر آیا تو محدِّثِ دہلوی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اِس علی علیہالسلام کے آنے سے پہلے، علی علیہالسلام کے حکومت میں آنے سے پہلے طریقہ سابقہ حکمرانوں کا یہ تھا کہ جب وہ منبر پر خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب پہلے حاکم بر سرِ اقتدار آئے تو اُنہوں نے احترامِ رسالت میں منبر کا پہلا زینہ چھوڑا اور دوسرے زینے پر بیٹھے؛ وہاں نہیں بیٹھے جہاں رسول صلیاللہعلیہوآلہ بیٹھا کرتے تھے۔ جب دوسرے حاکم آئے، اُنہوں نے دو زینے چھوڑے اور تیسرے زینے پر بیٹھے۔ جب تیسرے حاکم آئے، اُنہوں نے تین زینے چھوڑے اور چوتھے زینے پر بیٹھے۔ محدّثِ دہلوی لکھتے ہیں کہ جب علی علیہالسلام تختِ حکومتِ ظاہری پر آئے، علی علیہالسلام نے پہلے زینے پر قدم رکھا، دوسرے زینے پر قدم رکھا، تیسرے زینے پر قدم رکھا اور چوتھے زینے پر قدم رکھا۔ آپ علیہالسلام وہاں جا کر بیٹھے جہاں رسول صلیاللہعلیہوآلہ بیٹھا کرتے تھے اور بیٹھ کر کہا: "ایُّہا الناس! خدا کا شکر کرو کہ آج حق اپنے مرکز پر آ گیا۔”