روزِ عاشورا، امامِ حسین علیہالسلام نے دشمن کے لشکر کی طرف رخ کیا اور فرمایا: ”وائے ہو تم پر! کس جرم کی خاطر مجھ سے جنگ کر رہے ہو؟ کیا میں نے کسی حق کو ترک کیا ہے؟ کسی سنت کو تبدیل کیا ہے؟ یا شریعت میں کوئی بدعت ایجاد کی ہے؟“
انھوں نے بغیر کسی پردہ پوشی کے جواب دیا: ہم تمھارے باپ سے دشمنی کی وجہ سے تم سے لڑ رہے ہیں۔ اس کام کے بدلے جو انھوں نے بدر اور حنین میں ہمارے بزرگوں کے ساتھ کیا تھا۔
واقعہ کربلا پیش آنے کی وجہ امیرالمؤمنین علیہالسلام سے بغض و کینہ تھا جو ان کے دلوں میں موجود تھا، جس کا بدلہ انھوں نے امام حسین علیہالسلام سے لیا۔ وہ خدا کے دشمن تھے، کیوں کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کو خدا نے چنا تھا۔ وہ دین کے مخالف تھے، کیوں کہ پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کو منصوب کیا۔ جو کوئی امیرالمؤمنین علیہالسلام کا دشمن ہے، وہ خدا کا دشمن ہے اور دین سے برسرِ پیکار ہے۔ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے ان کی مادرِ گرامی فاطمہ زہرا سلاماللهعلیہا کو در و دیوار کے درمیان کچل دیا یہاں تک کہ جناب محسن علیہالسلام سقط ہو گئے۔ یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے ان کے برادرِ بزرگوار امامِ حسن علیہالسلام کو زہرِ ہلاہل دیا اور شہید کر دیا۔ اور یہی لوگ اب امامِ حسین علیہالسلام کو کربلا میں، تین دن کی بھوک اور پیاس کے عالم میں، اپنی بے رحم شمشیر سے خاک و خون میں تڑپا رہے ہیں۔ پس واضح ہوا یہ سارا جھگڑا اس کینے کی وجہ سے ہے جو وہ امیرالمؤمنین علیہالسلام سے رکھتے ہیں۔ وہی کینہ جو بدر اور حنین سے دل میں لیے بیٹھے تھے اور اب انھوں نے اس کو ان کے فرزند کے خون سے تازہ کیا ہے۔ امامِ حسین علیہالسلام کسی گناہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ صرف امیرالمؤمنین علیہالسلام کے بیٹے ہونے کے جرم میں شہید کیے گئے۔
مآخذ
مقتلِ ابو مخنف، ص ۱۳۲