سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امام علی سے دشمنی

امام حسین علیہ‌السلام کی مظلومیت کی اصل وجہ، امیرالمومنین علیہ‌السلام سے دیرینہ دشمنی

واقعہ کربلا پیش آنے کی وجہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام سے بغض و کینہ تھا جو ان کے دلوں میں موجود تھا، جس کا بدلہ انھوں نے امام حسین علیہ‌السلام سے لیا۔

روز عاشورا، امام حسین علیہ‌السلام نے دشمن کے لشکر کی طرف رخ کیا اور فرمایا:

وائے ہو تم پر! کس جرم کی خاطر مجھ سے جنگ کر رہے ہو؟ کیا میں نے کسی حق کو ترک کیا ہے؟ کسی سنت کو تبدیل کیا ہے؟ یا شریعت میں کوئی بدعت ایجاد کی ہے؟

انھوں نے بغیر کسی پردہ پوشی کے جواب دیا:

ہم تمھارے باپ سے دشمنی کی وجہ سے تم سے لڑ رہے ہیں۔ اس کام کے بدلے جو انھوں نے بدر اور حنین میں ہمارے بزرگوں کے ساتھ کیا تھا۔

واقعۂ کربلا کے پس پردہ امیرالمومنین علیہ‌السلام سے موجود بغض و کینہ بھی ایک بنیادی سبب تھا۔ ان دشمنیوں کا بدلہ امام حسین علیہ‌السلام اور اہل بیت علیہم‌السلام سے لیا گیا۔

وہ خدا کے دشمن تھے، کیونکہ امیرالمومنین علیہ‌السلام کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا تھا۔ وہ دین کے مخالف تھے، کیونکہ رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمومنین علیہ‌السلام کو مقرر فرمایا تھا۔

جو کوئی امیرالمومنین علیہ‌السلام کا دشمن ہے، وہ خدا کا دشمن ہے اور دین سے برسر پیکار ہے۔

یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے ان کی مادر گرامی، حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا، کو در و دیوار کے درمیان اذیت پہنچائی۔ اس المناک واقعے کے نتیجے میں جناب محسن علیہ‌السلام سقط ہو گئے۔

یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے ان کے برادر بزرگوار امام حسن علیہ‌السلام کو زہر ہلاہل دیا اور شہید کر دیا۔ یہی لوگ اب کربلا میں امام حسین علیہ‌السلام کو تین دن کی بھوک اور پیاس میں تڑپا رہے تھے۔

وہ اپنی بے رحم شمشیروں سے فرزند رسول صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو خاک و خون میں تڑپا رہے تھے۔ پس واضح ہوا یہ سارا جھگڑا اس کینے کی وجہ سے ہے جو وہ امیرالمومنین علیہ‌السلام سے رکھتے ہیں۔

وہی کینہ جو بدر اور حنین سے دل میں لیے بیٹھے تھے اور اب انھوں نے اس کو ان کے فرزند کے خون سے تازہ کیا ہے۔

امام حسین علیہ‌السلام کسی گناہ کی وجہ سے نہیں، بلکہ صرف امیرالمومنین علیہ‌السلام کے بیٹے ہونے کے جرم میں شہید کیے گئے۔

مآخذ
مقتل ابو مخنف، ص ۱۳۲

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے