سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

دو نور کا پیوند اور محبین کی نجات

اس پُرنور دن کا تصور کیجیے، جب سرورِ کائنات، ختمیِ مرتبت صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کا چہرۂ مبارک چودہویں کے چاند کی طرح دمک رہا تھا اور اس رخِ انور سے بے مثال نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں ۔

عبدالرحمن بن عوف نے حیرت سے پوچھا: "یا رسول اللہ! یہ کیسا درخشاں اور تابناک نور ہے؟”

فضا ساکت ہوگئی اور دلوں کی دھڑکنیں تھم گئیں، جب رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے فرمایا: یہ میرے پروردگار کی جانب سے ایک عظیم بشارت ہے؛ میرے بھائی علی اور میری لختِ جگر فاطمہ صوات‌اللہ علیہما کے آسمانی بندھن کی خوشخبری…

جب آسمانوں پر اس ملکوتی رشتے کا عقد ہوا، تو کائنات کے حقیقی حاکم کا فرمان جاری ہوا! اللہ تعالیٰ نے رضوانِ جنت کو حکم دیا کہ وہ شجرِ طوبٰی کو جنبش دے ۔

اس آسمانی جنبش سے، شجرِ طوبٰی سے اہل‌بیت علیہم‌السلام کے چاہنے والوں کی تعداد کے برابر پتے جھڑنے لگے! پھر پروردگار نے خالص نور سے فرشتے پیدا کیے اور ہر فرشتے کو ایک بہشتی پتا بطورِ امانت سونپ دیا ۔

اب ذرا چشمِ تصور سے دیکھیے، وہ دن جب محشر کے میدان میں ہر طرف ہول و ہراس کا عالم ہوگا ۔ اس قیامت خیز ہنگامے میں، اچانک وہ نورانی فرشتے میدانِ حشر میں اپنی پُرکشش آواز میں ندا دیں گے:

اے علی بن ابی طالب علیہم‌السلام کے چاہنے والو! آگے آؤ… بڑھو اور اپنی قیمتی امانت وصول کر لو!

اور اس فیصلہ کن دن، ہمارا کوئی بھی محب ایسا نہ ہوگا جس کے ہاتھ میں جہنم کی آگ سے آزادی کی وہ سند موجود نہ ہو؛ وہ تحریر جو امام علی، حضرت فاطمہ صلوات اللہ علیہما و آلہما اور ان کی پاک اولاد سے والہانہ عشق کے صلے میں انہیں عطا کی جائے گی ۔

ماخذ: مائۃ منقبۃ، ابن شاذان، جلد ۱، صفحہ ۱۶۶

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے