سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حضرت فاطمہ معصومہ کے فضائل

کریمۂ اہلبیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا: فضیلت و جلالت کا تابندہ ستارہ

بیتِ نبوت اور خانوادۂ امامت کے آسمان فضل و کمال پر حضرت فاطمہ معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا وہ درخشندہ ماہتاب ہیں، جن کی الہی عظمت کا تذکرہ ائمۂ طاہرین علیہ‌السلام نے آپ کی ولادت با سعادت بلکہ آپ کے والدِ بزرگوار کی ولادت سے بھی قبل فرمایا۔ آپ کی شخصیت علم، طہارت اور قرب الٰہی کا وہ بحر بیکراں ہے جس کی گہرائی کا ادراک عام عقول کے لیے ممکن نہیں۔ ائمہ علیہم‌السلام کے فرامین کی روشنی میں آپ کی ۹ نمایاں فضیلتیں کا ذکر کرتے ہیں جو آپ کے جلیل القدر مقام کی شاہد ہیں۔

حضرت معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کا سب سے پہلا کمال آپ کا وہ روحانی اجر ہے جو آپ کے زائر کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے۔

امام رضا علیہ‌السلام نے ارشاد فرمایا:

«مَنْ زَارَهَا، فَلَهُ الْجَنَّةُ»، یعنی جو حضرت معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کی زیارت کرے گا، اس کے لیے بہشت واجب ہے۔[۱]

آپ کی ایک منفرد خصوصیت آپ کا "بلافصل امام زادی” ہونا ہے۔ آپ امامِ کاظم علیہ‌السلام کی بیٹی ہیں اور اسی بلافصل نسبت نے آپ کے وجود کو ایک خاص تقدس عطا کیا ہے۔[۲]

آپ کا مقام عصمت وہ بلند مرتبہ ہے جس کی گواہی خود امام وقت نے دی۔

امامِ رضا علیہ‌السلام نے فرمایا:

«مَنْ زَارَ الْمَعْصُومَةَ بِقُمْ كَمَنْ زَارَنِي»، یعنی جس نے قم میں معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کی زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی۔[۳]

اس فرمان میں امام علیہ‌السلام نے آپ کو "معصومہ” کے لقب سے نواز کر آپ کے بلند روحانی مقام کو متعین فرما دیا۔

بارگاہِ الٰہی میں حضرت معصومہ کا مقام

مزید برآں، بارگاہِ الٰہی میں آپ کے تقرب کا یہ عالم ہے کہ امام رضا علیہ‌السلام فرماتے ہیں:

«فَإِنَّ لَكِ عِنْدَ اللَّهِ شَأْناً مِنَ الشَّأْنِ»، کہ بے شک اللہ کے نزدیک آپ کی ایک خاص شان اور منزلت ہے۔[۴]

حضرت معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کا علمی مقام

وہ خاندان خود علمِ الٰہی کا منبع اور وحیِ الٰہی کے نزول کا مرکز تھا۔

آپ علمی کمالات اور بلند مرتبے کی حامل تھیں، حتیٰ کہ امام کاظم علیہ‌السلام کی عدم موجودگی میں بھی شیعیان کی رہنمائی فرماتی تھیں۔

آپ نے ان کے پیچیدہ سوالات کے درست جوابات تحریر فرمائے۔

تو آپ کے والدِ بزرگوار نے کمالِ مسرت میں تین بار ارشاد فرمایا:

«فِدَاهَا أَبُوهَا»، یعنی آپ کا باپ آپ پر قربان ہو جائے۔[۵]

حضرت معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کی شفاعت

شفاعت کے باب میں امامِ صادق علیہ‌السلام نے وہ عظیم خوشخبری سنائی:

«تُدْخَلُ بِشَفَاعَتِهَا شِيعَتِي الْجَنَّةَ بِأَجْمَعِهِمْ»، یعنی ہمارے تمام کے تمام شیعہ ان کی شفاعت سے جنت میں داخل ہوں گے۔[۶]

یاد رہے کہ روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ‌السلام جیسے جلیل القدر انبیاء بھی امیرالمومنین علیہ‌السلام کے شیعوں میں شمار ہوتے ہیں۔[۷]

اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس شفاعت کا فیض انبیاء علیہم‌السلام تک بھی پہنچتا ہے۔

تعجب خیز امر یہ ہے کہ آپ کی فضیلت کا غلغلہ آپ کی آمد سے عشروں پہلے بلند ہو چکا تھا۔

ولادت حضرت معصومہ کی بشارت

امام صادق علیہ‌السلام نے امامِ کاظم علیہ‌السلام کی ولادت سے بھی پہلے بشارت دی کہ:

میری اولاد میں سے ایک بی بی جن کا نام فاطمہ ہوگا، قم میں مدفون ہوں گی، جن کی زیارت جنت کو واجب کر دیتی ہے۔[۸]

حضرت معصومہ؛ راویۂ احادیث اہل بیت

آپ نہ صرف صاحبِ فضیلت ہیں بلکہ خود "راویۂ احادیثِ اہلبیت” بھی ہیں۔

آپ نے سلسلہ وار فاطمیات کے ذریعے حدیثِ غدیر اور حدیثِ منزلت جیسی اہم احادیث کو روایت کیا ہے۔[۹]

قم؛ حرم اہل بیت علیہم‌السلام

آخر میں آپ کی عظمت کا یہ پہلو نمایاں ہے کہ آپ کا مدفن "حرمِ اہلبیت” ہے۔

امام صادق علیہ‌السلام نے فرمایا:

خدا کا حرم مکہ، رسول اللہ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کا حرم مدینہ، امیرالمومنین علیہ‌السلام کا حرم کوفہ اور ہم اہلبیت کا حرم "قم” ہے۔[۱۰]

یوں حضرت معصومہ سلام‌اللہ‌علیہا کی ذات گرامی ہدایت و برکت کا دائمی مرکز بن گئی۔ جہاں سے آج بھی علم و معرفت کے چشمے جاری ہیں۔

مآخذ
[۱] کامل الزیارات، ص۳۲۴
[۲] بحار الانوار، ج۹۹، ص۲۶۵
[۳] زاد المعاد، ج۱، ص۵۴۷
[۴] بحار الانوار، ج۹۹، ص۲۶۵
[۵] کریمۂ اہلبیت، ص۱۷۰
[۶] بحار الانوار، ج۵۷، ص۲۲۸
[۷] البرھان فی تفسیر القرآن، ج۴، ص۶۰۰
[۸] بحار الانوار، ج۵۷، ص۲۱۶
[۹] عوالم العلوم، ج۲۱، ص۳۵۴
[۱۰] بحار الانوار، ج۹۹، ص۲۶۷

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے