مولاۓ کائنات پر خدا کا فخر
روایات کے مطابق، امیرالمومنین علیہالسلام کے اس عظیم ایثار پر خداوند متعال نے فرشتوں کے سامنے فخر فرمایا۔ جبرئیل و میکائیل علیہمالسلام کو آپ علیہالسلام کی حفاظت کے لیے زمین پر بھیجا گیا۔
اس پرعظمت شب میں، خداوند عزّوجل نے جبرئیل اور میکائیل کی طرف وحی فرمائی:
«میں نے تم دونوں میں سے ایک کی موت مقدر کی ہے؛ تم میں سے کون اپنے ساتھی کی خاطر ایثار کرتے ہوئے موت کو قبول کرے گا؟»
جبرئیل اور میکائیل، دونوں نے زندگی کو ترجیح دی اور ان میں سے کسی نے بھی موت قبول کرنے پر آمادگی ظاہر نہ کی۔
فرشتوں کے سامنے خداوند کی حجّت
پھر خداوند نے ان دونوں کی طرف وحی فرمائی:
«تم علی بن ابیطالب کی مانند کیوں نہ ہوئے؟ میں نے علی اور محمد کے درمیان برادری کا عہد قائم کیا اور ان دونوں میں سے ایک کی عمر دوسرے سے زیادہ مقرر کی۔ علی نے موت کو اختیار کیا اور محمد کے زندہ رہنے کو اپنی جان پر ترجیح دی اور ان کے بستر پر سو گئے۔»
علی نے صرف موت کو قبول ہی نہیں کیا، بلکہ محبت و اطمینان کے ساتھ رسول خدا کے بستر پر جا سوئے، تاکہ دشمن رسول خدا کو تلاش نہ کر سکیں۔
مولا علی علیہالسلام کی حفاظت: جبرئیل و میکائیل کی ذمہ داری
خداوند نے فرشتوں سے فرمایا:
«زمین پر جاؤ اور اسے اس کے دشمن سے محفوظ رکھو۔»
چنانچہ جبرئیل اور میکائیل نازل ہوئے؛ ان میں سے ایک علی کے سرہانے بیٹھ گیا اور دوسرا قدموں کی جانب، اور جو پتھر ان کی طرف پھینکے جاتے، وہ انہیں علی سے دور کر دیتے تھے۔
فرشتوں کے سامنے مولا پر خداوند متعال کی مباہات
اس شب جبرئیل نے تحسین کرتے ہوئے کہا:
«بَخٍ بَخٍ لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! مَنْ مِثْلُكَ يُبَاهِي اللَّهُ بِكَ مَلَائِكَةَ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ؟»
«واہ! واہ! اے ابوطالب کے فرزند! آپ جیسا کون ہے؟ کون آپکی مانند ہے کہ خداوند جس کے سبب ساتوں آسمانوں کے فرشتوں پر فخر فرماتا ہے؟»
مآخذ
شواهد التنزیل، حاکم حسکانی، ج ۱، ص ۱۲۳