سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

GH-Tareekh-7

رسولِ خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی مخصوص مأموریت کے لیے منتخب نفسِ رسول

 امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کی امامت پر روشن ترین دلائل میں سے ایک واقعہ سورۂ براءت کے احکام کی ابلاغی ذمہ داری ہے ایسا واقعہ جس نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ الہی منصوبوں کے حساس اور اسٹریٹجک مراحل صرف ان ہستیوں کے سپرد کیے جاتے ہیں جو خدا کے خاص برگزیدہ ہوں۔

ابتدائی مأموریت جب سورۂ براءت کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، رسولِ اکرم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے سب سے پہلے ابوبکر کو ان آیات کے اعلان اور تبلیغ کے لیے مکہ کی طرف روانہ کیا۔ مگر ابھی وہ زیادہ دور نہ گیا تھا کہ جبرئیل امین نازل ہوئے اور آسمانی حکم تبدیل ہو گیا۔

رسولِ خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کو بلایا اور فرمایا: "اے علی! تم روانہ ہو، ابوبکر تک پہنچو، اس سے یہ صحیفہ لو، اور خود ان آیات کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سناؤ!۔”

جُحْفہ میں ملاقات

امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام تیزی سے روانہ ہوئے اور راستے میں ابوبکر کو جا لیا۔  آپ نے آیات والا صحیفہ اس سے لیا اور خدا و رسول کے حکم کے مطابق خود اسے مکہ پہنچانے پر مامور ہوگئے۔

جب ابوبکر مدینہ واپس پہنچا تو حیرت سے پوچھا "یا رسولَ الله!  کیا میرے بارے میں کوئی خاص آیت نازل ہوئی؟”

رسولِ خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے جواب دیا: "نہیں، لیکن جبرئیل یہ پیغام لائے ہیں کہ:" لَن يُؤَدِّيَ عَنْكَ إِلَّا أَنْتَ أَوْ رَجُلٌ مِنْكَ تمھاری طرف سے اس مأموریت کو کوئی انجام نہیں دے سکتا مگر تم خود یا تم میں سے ایک شخص۔ ایک شخص جو تمھاری جان سے ہے”

ایک نہایت اہم نکتہ یہ تعبیر "رَجُلٌ مِنْكَ” تمہاری جان سے ایک مرد صرف قربتِ نسبی یا رشتہ داری نہیں، بلکہ مقامِ روحانی، نورانی یکسانی، اور وہ یگانہ قرب الٰہی بیان کر رہی ہے جس کی بدولت علی علیہ‌السلام کو وہ ذمہ داریاں عطا ہوئیں جو براہِ راست حقیقتِ رسالت سے پیوستہ تھیں۔

یہی وہ دلیل ہے جو اعلان کرتی ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام، رسولِ خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کے نفسِ مطہر کا امتداد اور حقیقی جانشین ہیں۔

عمدة العیون، ابن بطریق، ج ۱، ص ۱۶۰

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے