ہفت آسمان پر شادمانی و مسرت کا سماں
بالآخر وہ مبارک و مسعود ساعت آ پہنچی؛ بہشتِ بریں کی ایک پُرنور و منور جمعے کی صبح۔
حضرت جبرائیل ہزاروں مقرب فرشتوں کی سربراہی کرتے ہوئے، عالمِ ہستی کی سب سے عظیم اور پُرشکوہ نوید لے کر حاضرِ خدمت ہوئے:
"اللہ رب العزت نے فاطمہ سلاماللہعلیہا کا عقد علی علیہالسلام سے فرما دیا ہے!”
خالقِ کائنات کے اِذن سے جنت کے تمام در وا کر دیے گئے اور اس پاکیزہ و پُرقداست بندھن کی تکریم میں جہنم کے شعلے سرد کر دیے گئے۔
عرشِ الٰہی اور شجرِ طوبیٰ نے حسن و جمال کے نفیس ترین پیرہن زیبِ تن کیے؛
بہشتی حجلہ گاہیں آراستہ ہو گئیں، آسمانی طیور ہم نوا ہو کر نغمہ سرا ہوئے اور حورانِ بہشت فرطِ مسرت سے جھوم اٹھیں۔
اسی اثنا میں ایک ندائے ملکوتی گونجی:
"میں نے فاطمہ سلاماللہعلیہا کا عقد علی علیہالسلام کے ساتھ کر دیا ہے۔ اے جبرائیل! تم علی علیهالسلام کے وکیل بن جاؤ، کیونکہ یہ ایک آسمانی و ملکوتی عقد ہے! اور اے محمد صلیاللہعلیهوآلہ! اب آپ زمین پر بھی اس پُرنور رشتے کا اعلان فرما دیں۔”
فرش خاکی پر ایک ایسا خطبہ، جس کی وسعتیں افلاک تک محیط تھیں
رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ نے امیرالمومنین علی علیہالسلام کو اس مژدۂ جاں فزا اور نویدِ مسرت سے آگاہ فرمایا۔
مسجد نبوی کے صحن مقدس میں امیرالمومنین علیہالسلام نے خطبۂ نکاح تلاوت فرمایا اور حق مہر چار سو درہم مقرر پایا۔
اس کے بعد رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے امیرالمومنین حضرت علی علیہالسلام کی جانب رُخِ انور پھیر کر ارشاد فرمایا:
"میں نے فاطمہ سلاماللہعلیہا کو تمھاری زوجیت میں دے دیا۔”
شفاعت اور ایثار عظیم سے لبریز حقِ مہر
تاہم، اس لازوال و ابدی عشق کی اصل داستان حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کے کلامِ مبارک سے آشکار ہوئی۔
آپ سلاماللہعلیہا نے اپنے والد بزرگوار سے ایک خاص التجا کی:
"اے بابا جان! بارگاہِ خداوندی میں عرض کیجیے کہ میرا حقِ مہر، آپ کی امت کے گنہگاروں کی شفاعت قرار پائے۔”
چند ہی لمحوں بعد امین وحی حضرت جبرائیل علیہ السلام دوبارہ نازل ہوئے؛
اس مرتبہ ان کے ہاتھوں میں جنت کے ریشم کا ایک قطعہ تھا جس پر دستِ قدرت سے تحریر تھا:
"فاطمہ سلاماللہعلیہا کا مہر، امت محمد صلیاللہعلیہوآلہ کے گنہگاروں کی شفاعت ہے۔”
سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا نے وصیت فرمائی کہ اس ریشمی قطعے کو ان کے کفن مبارک میں رکھا جائے، تاکہ روزِ محشر وہ اسی الٰہی نشانی کے ہمراہ امتِ عاصی کی دستگیری اور شفاعت فرما سکیں۔
ماخذ:
کتاب شریف عوالم العلوم، جلد ۱۱، صفحہ ۴۴۸