سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Hazrat-Masooma-4

شہرِ مقدس قم امیرالمومنین علیہ‌السلام کے کلام میں

کائناتِ ہستی میں بعض خطے مشیتِ الٰہی کے تحت اور ولایت امیرالمومنین علیہ‌السلام میں سبقت لینے کی وجہ سے، خاص روحانی تشخص اور معنوی وقار کے حامل ہوتے ہیں۔

انہی سرزمینوں میں قم سرفہرست ہے، جسے خاندانِ عصمت و طہارت علیہم‌السلام نے خصوصی محبت عطا فرمائی۔

ائمہ اہلِ بیت علیہم‌السلام نے اسے اپنی پناہ گاہ اور مرکزِ ہدایت قرار دیا۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام کے کلام میں قم کا مقام

اس ارضِ مقدس کی فضیلت کا ادراک امیرالمومنین علیہ‌السلام کے ان کلماتِ قدسیہ سے ہوتا ہے جو علم و حکمت کے لافانی خزینے ہیں۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام نے اس شہر کو «تُسَمَّی الزَّهْرَاءَ» کے بصیرت افروز عنوان سے یاد فرمایا[۱]۔

یہ تسمیہ اس سرزمین کی باطنی طہارت اور اس نورانیت کی طرف اشارہ ہے جو اسے دیگر بلاد سے ممتاز کرتی ہے۔

آپ علیہ‌السلام کی نگاہِ ولایت میں یہ شہر، بارانِ رحمت کا دائمی مسکن ہے۔

چنانچہ آپ علیہ‌السلام نے دعا فرمائی:

«صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَىٰ أَهْلِ قُمَّ» اہلِ قم پر خدا کا درود ہو

اور

«سَقَى اللَّهُ بِلاَدَهُمُ الْغَيْثَ» خدا ان کے شہر کو بارانِ رحمت سے سیراب کرے[۲]۔

یہ کلمات اس خطے پر نازل ہونے والے الٰہی فیوضات کی ضمانت ہیں۔

فتنوں کے پرآشوب ادوار میں جب انسانیت جائے پناہ کی تلاش میں ہوگی، امیرالمومنین علیہ‌السلام نے قم کو امن کا گہوارہ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

«أَسْلَمُ الْمَوَاضِعِ يَوْمَئِذٍ قَصَبَةُ قُمَّ»، یعنی اس دور میں قم محفوظ ترین مقام ہوگا[۳]۔ یہ صرف ایک جائے پناہ نہیں بلکہ نصرتِ حق کا مرکز بھی ہے،
کیونکہ اسی خاکِ پاک سے «يَخْرُجُ مِنْهَا أَنْصَارُ خَيْرِ النَّاسِ» بہترینِ خلق (امام زمانہ عج اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے انصار و مددگار یہاں سے ظاہر ہوں گے۔[۴]

اس سرزمین کی قدسیت کا عالم یہ ہے کہ اسے مقامِ ملائک قرار دیا گیا۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام کے فرمان کے مطابق:

«بِهَا مَوْضِعُ قَدَمِ جَبْرَئِيلَ» یہاں جبرئیل علیہ‌السلام کے قدموں کا نشان ہے
«نَبَعَ مِنْهُ الْمَاءُ الَّذِي مَنْ شَرِبَ مِنْهُ أَمِنَ مِنَ الدَّاءِ» اور یہاں ایک ایسا چشمہ جاری ہے جس کا پانی پینے والا ہر مرض سے امان پا جاتا ہے: ۔[۵]

علاوہ ازیں، امیرالمومنین علیہ‌السلام نے قم کو انبیائے سابقین کے معجزات اور آثار کا امین قرار دیا۔

آپ علیہ‌السلام نے خبر دی:

اسی خاک سے وہ مٹی گوندھی گئی جس سے معجزہ نما پرندہ تخلیق ہوا «عُجِنَ الطِّينُ الَّذِي عُمِلَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ»۔
اور یہ وہی مقام ہے جہاں سے قربانیِ خلیل کا دنبہ «كَبْشُ إِبْرَاهِيمَ»،
عصائے موسیٰ «عَصَا مُوسَىٰ» اور انگشتریِ سلیمان «خَاتَمُ سُلَيْمَانَ» ظاہر ہوں گے۔[۶]

پس ثابت ہوتا ہے کہ شہرِ مقدس قم، امیرالمومنین علیہ‌السلام کے کلام میں، معجزاتِ الٰہی کا خزینہ ہے۔ یہ فتنوں کے حصار میں ایک الٰہی پناہ گاہ بھی ہے۔ یہ شہر تاریخ کے ہر موڑ پر اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ رہا ہے۔ قم اہلِ ایمان کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ بھی ہے۔ حق و باطل کے معرکے میں یہ نصرتِ الٰہی کا مضبوط ترین حصن قرار پاتا ہے۔

مآخذ
[۱] بحار الأنوار، ج ۵۷، ص ۲۱۷
[۲] بحار الأنوار، ج ۵۷، ص ۲۱۸
[۳] بحار الأنوار، ج ۵۷، ص ۲۲۰
[۴] بحار الأنوار، ج ۵۷، ص ۲۲۰
[۵] بحار الأنوار، ج ۵۷، ص ۲۲۳
[۶] بحار الأنوار، ج ۵۷، ص ۲۲۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے