امام جعفر صادق علیہالسلام کی روایات واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ ایمان کا جوہر اور بندگی کا حقیقی معیار، امیرالمؤمنین علیہالسلام کی محبت اور ان کی پیروی ہے؛ وہ نعمت جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسان سے اس کی شکرگزاری کے بارے میں سوال کرے گا۔
اپنی مبارک زندگی کے آخری سالوں میں، امام جعفر صادق علیہالسلام پہلے سے کہیں زیادہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہالسلام کی محبت اور ولایت پر زور دیتے تھے۔ یہ نورانی بیانات، جو عباسی حکومت کے سخت دباؤ اور آپ کی شہادت کے نزدیکی زمانے میں صادر ہوئے، اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ امام صادق علیہالسلام نے اپنے پیغام کی بنیاد اسی حقیقت کے تسلسل پر رکھی جس کا محور امیرالمؤمنین علیہالسلام ہیں۔
تاریخ اور مقامِ شہادت
امام جعفر صادق علیہالسلام، جو مکتبِ جعفری کے سربراہ اور شیعوں کے چھٹے پیشوا ہیں، اپنی امامت کے دوران دوبارہ مکتبِ شیعہ کو زندہ کرنے کا باعث بنے۔ آپ ۲۵ شوال ۱۴۸ ہجری قمری میں پینسٹھ برس کی عمر میں منصور دوانیقی کے ذریعے زہر دیے جانے سے شہید ہوئے۔ آپ کا مبارک پیکر قبرستانِ بقیع میں اپنے بزرگوار والد کے مزار کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔[1]
امام جعفر صادق علیہالسلام کی علمی تحریک اور خدمات
امام صادق علیہالسلام نے مناسب سیاسی موقع اور معاشرے کی شدید علمی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اپنے بابا امام باقر علیہ السلام کی علمی اور فکری تحریک کو جاری رکھا، اور مختلف عقلی اور نقلی علوم میں بڑے بڑے شاگرد تربیت کیے۔ آپ کے شاگردوں کی تعداد چار ہزار سے بھی زیادہ تھی، اور آپ نے شیعہ فقہ، اور امیرالمؤمنین علیہالسلام کی تعلیمات کو فروغ دیا اور ان کے اصول و مبانی کو واضح کیا۔
کلامِ امام جعفر صادق علیہالسلام میں امیرالمؤمنین علیہالسلام کا مقام
امام صادق علیہالسلام نے آیاتِ الٰہی کی تفسیر کے ذریعے مولائے متقیان کے بےمثال مقام کو روزِ قیامت کے تناظر میں بیان کیا ہے۔
روایت میں ہے کہ یونس بن عبدالرحمن، ابی یعقوب سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے یہ آیت امام صادق علیہالسلام کی خدمت میں تلاوت کی:
فَلَمّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذينَ كَفَرُوا وَ قيلَ هَذَا الَّذي كُنْتُمْ بِهِ تَدَّعُونَ (الملک: ۲۷)
جب وہ اُس کو قریب سے دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے سیاہ اور بگڑ جائیں گے، اور کہا جائے گا: یہ وہی چیز ہے جسے تم جلدی مچا کر مانگا کرتے تھے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا:
جب فلاں، فلاں قیامت کے دن امیرالمؤمنین علیہالسلام کے مقام اور مرتبے کو دیکھیں گے، اور جب اللہ تعالیٰ پرچمِ حمد کو رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے حوالے کرے گا، جب کہ تمام مقرب فرشتے اور تمام انبیا اس پرچم کے نیچے ہوں گے، تو رسول خدا وہ پرچم علی بن ابی طالب علیہماالسلام کو سپرد کریں گے۔
پھر کافروں کے چہرے غم و رسوائی سے سیاہ ہوجائیں گے، اور انہیں کہا جائے گا: یہی وہ مقام ہے جسے تم جلدی جلدی مانگتے تھے؛ یعنی وہی مرتبہ جس کے نام سے تم پکارے جانے کی تمنا رکھتے تھے اور جس عنوان امیرالمؤمنین کا تم بےجا دعویٰ کرتے تھے۔[2]
ولایتِ امیرالمؤمنین علیہالسلام
امام جعفر صادق علیہالسلام نے ایسے دور میں—جب سیاسی فتنوں اور فکری انحرافات نے معاشرے کو گھیر رکھا تھا—ولایت کے پرچم کو بلند کیا اور علم و معرفت کی زبان سے امیرالمؤمنین علیہالسلام کے حق کو یاد دلایا۔ آپ فرماتے ہیں:
جو شخص امیرالمؤمنین علیہالسلام سے محبت رکھتا ہو اور ان کی ولایت قبول کرتا ہو، قیامت کے دن اس کا چہرہ نورانی ہوگا اور اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔[3]
نعمتِ واقعی — کلامِ امام جعفر صادق علیہالسلام
امام جعفر صادق علیہالسلام اپنی متعدد روایات میں بیان فرماتے ہیں کہ حقیقی نعمت، مادی زندگی کے مظاہر نہیں، بلکہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی محبت اور ولایت ہے۔
سدیر کہتا ہے:
میں امام جعفر صادق علیہالسلام کی خدمت میں تھا۔ آپ نے فرمایا:
اے سدیر! نعمت جس کے بارے میں سوال کیا جائے گا لذیذ کھانوں، نرم لباسوں اور خوشبودار چیزیں نہیں بلکہ یہ سب تو ہمارے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور ہم ان کے لیے نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان نعمتوں کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کریں۔
میں نے عرض کیا:
آپ پر قربان ہو جاؤں، پھر حقیقی نعمت کیا ہے؟
فرمایا:
حقیقی نعمت، امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیماالسلام اور ان کے اہل بیت کی محبت ہے۔ قیامت کے دن خدا بندوں سے پوچھے گا: جب میں نے تمہیں علی اور ان کے اہل بیت کی محبت کی نعمت عطا کی تھی، تو تم نے اس نعمت کا شکر کس طرح ادا کیا؟[4]
مولائے متقیان کی اطاعت و ہمراہی
امام جعفر صادق علیہالسلام فرماتے ہیں:
امیرالمؤمنین علیہالسلام کی دعوت میں ان کے مددگار اور ساتھی بنو؛ ان کے دوستوں کے ساتھ صلح میں رہو، اور ان کے دشمنوں کے خلاف لڑو۔ کیونکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ہدایت کی طرف بلایا، اللہ کی راہ میں قدم بڑھایا، رسول نے انہیں دوست رکھا، اور اللہ نے بھی انہیں محبوب بنایا؛ اور جسے اللہ دوست رکھے، اسے عذاب نہیں کرتا۔[5]
قیامت میں بہشت اور جہنم کے صاحبِ اختیار
امام جعفر صادق علیہالسلام نے ایک حیرت انگیز حقیقت بیان فرمائی:
قیامت کے دن ایک بلند منبر نصب کیا جائے گا، جسے تمام خلائق دیکھیں گے۔ پھر ایک شخص اس پر چڑھے گا۔ اس کے دائیں طرف ایک فرشتہ اور بائیں طرف ایک اور فرشتہ کھڑا ہوگا۔
دائیں جانب والا فرشتہ ندا دے گا:
اے بندگانِ خدا! دیکھو! یہ علی بن ابی طالب علیہماالسلام ہیں؛ یہ بہشت کے صاحبِ اختیار ہیں۔ جسے چاہیں، اللہ کی اجازت سے جنت میں داخل کریں گے۔
اور بائیں جانب والا فرشتہ ندا دے گا:
اے بندگانِ خدا! جان لو! یہ علی بن ابی طالب علیہماالسلام ہیں؛ یہ دوزخ کے صاحبِ اختیار بھی ہیں۔ جسے چاہیں، اللہ کے حکم سے جہنم میں داخل کریں گے۔[6]
کن لوگوں کو جہنم سے نہیں نکالا جائے گا؟
امام صادق علیہالسلام کے نزدیک، مولائے متقیان علیہالسلام کے دشمن دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ منصور بن حازم کہتا ہے کہ میں نے پوچھا:
کیا ایسے لوگ بھی ہوں گے جو (دوزخ میں جانے کے بعد) کبھی باہر نہیں آئیں گے؟
حضرت نے فرمایا:
ہاں، امیرالمؤمنین علیہالسلام کے دشمن؛ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے۔[7]
دشمنِ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی عاقبت
امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا:
اگر دشمنِ امیرالمؤمنین علیہالسلام—خواہ فرات کے کنارے سے گزرے، جہاں پانی اللہ کی بےپایان نعمت کے طور پر فراوان جاری ہو—اس سے پئے اور شروع میں بسم اللہ اور بعد میں الحمدللہ بھی کہہ دے، تب بھی یہ اسی کے برابر ہے جیسے اس نے مردار کا گوشت، یا بہا ہوا خون، یا خنزیر کا گوشت کھایا ہو۔[8]
امام جعفر صادق علیہالسلام نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کے بےمثال مقام کو یاد دلاتے ہوئے، بہشت و جہنم کے اختیار سے لے کر شیعیانِ علی کے نورانی چہروں تک، نجات کا راستہ واضح کر دیا۔ آپ کے یہ بیانات، جو شہادت سے پہلے صادر ہوئے، نسلوں کے لیے ایک اعتقادی وصیت ہیں:
جو امیرالمؤمنین علیہالسلام کی ولایت کو محفوظ رکھے، وہ دنیا میں ہدایت اور آخرت میں نجات پائے گا۔
[1] ۔ الارشاد، شیخ مفید، ج ۲، ص ۱۸۰ و بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج ۴۷، ص ۱
[2]۔ الیقین، سید ابن طاووس، ج ۱، ص ۱۸۲
[3]۔ مستدرک الوسائل، محدث نوری، ج ۱۶، ص ۲۵
[4] ۔ بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج ۱۰۰، ص ۳۳۰
[5]۔ ۔بحارالانوار، علامه مجلسی، ج 39، ص 201
[6]۔ بصائر الدرجات، محمد بن حسن صفّار، ج 8، باب 18
[7]۔ تفسیر العیاشی، محمد بن مسعود عیاشی، ج 1، ص 317
[8]۔ الکافی، شیخ کلینی، ج ۸، ص ۱۶۱
