امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی ولایت اسلامی عقیدے میں ایک بنیادی اور فیصلہ کن حقیقت کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے امام جعفر صادق علیہالسلام کی ایک نہایت بلیغ اور معنیخیز روایت نقل ہوئی ہے، جس میں اعمال کی قبولیت اور ان کی باطنی حقیقت کو ولایت کے معیار پر پرکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص امیرالمؤمنین علی علیہالسلام سے محبت نہ رکھتا ہو، اور وہ دریائے فرات کے کنارے کھڑا ہو جب کہ پانی کناروں تک لبریز ہو، پھر اپنے ہاتھ سے پانی پیے اور پیتے وقت بسم اللہ کہے اور اختتام پر الحمدللہ بھی ادا کرے، تو اس کا یہ عمل اس شخص کے مانند ہے جس نے مردار، خون یا سور کا گوشت کھایا ہو۔ یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ عمل کی ظاہری صورت کے ساتھ اس کا باطنی معیار بھی ضروری ہے۔[۱]
اس ارشاد کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی ولایت اعمال کی قبولیت کا بنیادی معیار ہے۔ عبادت، ذکر اور دیگر نیک اعمال اگرچہ اپنی ظاہری صورت میں کامل دکھائی دیں، لیکن اگر وہ ولایت کے رشتے سے خالی ہوں تو ان کی حقیقی قدر باقی نہیں رہتی۔ اسی لیے ولایت کو دین کے باطنی نظام میں میزانِ اعمال قرار دیا گیا ہے، جس کے بغیر عمل اپنی حقیقت تک نہیں پہنچ پاتا۔
اسی طرح اس روایت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انسان کا ہر عمل عالمِ ظاہر کے ساتھ ساتھ عالمِ ملکوت میں بھی ایک خاص اثر رکھتا ہے۔ جب عمل ولایت کے نور سے محروم ہو جائے تو اس کی باطنی صورت پاکیزگی سے خالی رہتی ہے، اور وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطلوب اثر پیدا نہیں کرتا۔ اس طرح ولایت امیرالمؤمنین علی علیہالسلام نہ صرف ایمان کی بنیاد ہے بلکہ اعمال کی روح اور ان کی قبولیت کا اصل معیار بھی ہے۔
[۱] الکافی، شیخ کلینی، ج ۸، ص ۱۶۱