امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کے مقام اور آپ کو عطا ہونے والی الٰہی نعمتوں کے بارے میں امام جعفر صادق علیہالسلام کی روایت نہایت واضح اور معتبر انداز میں نقل ہوئی ہے۔ اس روایت میں اُن خصوصی عنایتوں کا ذکر ہے جو خداوند متعال نے امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کو عطا فرمائیں اور جن کے ذریعے آپ کے منصب ولایت کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔
اس روایت میں امیرالمؤمنین علی علیہالسلام خود اُن نعمتوں کو بیان فرماتے ہیں اور آخر میں اُن سب کو خداوند متعال کی عطا قرار دیتے ہیں۔[1]
امیرالمؤمنین علی علیہالسلام فرماتے ہیں: فُتحَتْ ليَ السُّبُلُ، یعنی میرے لیے الٰہی علوم اور باطنی حقائق کے دروازے کھول دیے گئے۔ پھر فرمایا: عُلّمْتُ الْأَنْسَابَ، یعنی مجھے مخلوقات کے باہمی ربط اور اصل و نسب کی حقیقت سے آگاہی عطا ہوئی۔ اسی طرح فرمایا: أُجْريَ ليَ السَّحَابُ، یعنی بادل میرے ہی حکم سے برستے ہیں۔ پھر فرمایا: عُلّمْتُ الْمَنَايَا وَالْبَلَايَا، یعنی میں ہر شخص کے مقدر، آزمائش اور انجام سے واقف ہوں۔ اور فرمایا: فَصْلَ الْخطَاب، یعنی مجھے حق و باطل میں فرق کرنے اور فیصلہ کن کلام کی قوت عطا کی گئی۔
اسی تسلسل میں امیرالمؤمنین علی علیہالسلام فرماتے ہیں: نَظَرْتُ في الْمَلَكُوت بإذْن رَبّي، یعنی میں نے اذن پروردگار سے عالم غیب کا مشاہدہ کیا۔ پھر فرمایا: مَا غَابَ عَنّي مَا كَانَ قَبْلي، یعنی میرے سامنے وہ سب ظاہر کیا گیا جو مجھ سے پہلے گزر چکا تھا۔ اور فرمایا: مَا فَاتَني مَا يَكُونُ منْ بَعْدي، یعنی جو کچھ میرے بعد پیش آنے والا ہے، وہ بھی مجھ سے پوشیدہ نہیں۔ پھر فرمایا: بوَلَايَتي أَكْمَلَ اللَّهُ لهٰذه الْأُمَّة دينَهُمْ، یعنی میری ولایت سے اس امت کا دین خدا نے مکمل فرمایا۔
آخر میں امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا: وَ كُلُّ ذٰلكَ مَنّاً منَ اللَّه مَنَّ به عَلَيَّ فَلَهُ الْحَمْدُ، یعنی یہ تمام نعمتیں خداوند متعال کی مجھ پر عنایت ہیں جو اُس نے مجھ پر کیں؛ پس حمد و ثنا اُسی کے لیے ہے۔ یہ بیان واضح کرتا ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کو عطا ہونے والی یہ تمام نعمتیں الٰہی عطیہ ہیں اور انہی کے ذریعے دین الٰہی کی تکمیل ظاہر ہوئی۔
ہم بھی بارگاہ الہی میں شکر بجا لائیں کہ اس نے امیرالمومنین علی علیہ السلام جیسا مولا ہمیں عطا فرمایا۔
[۱] بصائر الدرجات، شیخ صفار، ج ۱، ص ۲۰۱
