عباسی دور میں ایسے واقعات پیش آئے جن میں اہل بیت علیہمالسلام کی نسبت سے جھوٹے دعوے، گھر پر حملہ ، قتل کا منصوبہ اور شیعوں پر سختیاں نمایاں طور پر سامنے آئیں۔ ان حالات کا ذکر معتبر روایات میں محفوظ ہے، جو اس دور کی کیفیت کو واضح کرتے ہیں۔
معلی بن خنیس بیان کرتے ہیں کہ جب بنو عباس کالے پرچم اٹھائے قیام کرنا چاہتے تھے لیکن ابھی اقتدار میں نہیں آئے تھے تو امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا: افسوس! افسوس! میں ان لوگوں کا امام نہیں ہوں۔ کیا انھیں معلوم نہیں کہ سفیانی کو صرف وہی(امام مہدی) قتل کریں گے؟۔[۱]
اس روایت سے بلکل واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت علیہمالسلام کے نام سے کیے جانے والے دعوے حقیقت امامت سے جدا تھے۔
اسی دور میں منصور دوانیقی نے اپنے گورنر حسن بن زید کو حکم دیا کہ جعفر بن محمد( امام جعفر صادق علیہ السلام) کے گھر کو آگ لگا دی جائے۔ چنانچہ گھر میں آگ لگادی گئی اور آگ دروازے اور دہلیز تک پہنچ گئی۔[۲] اسی طرح امام رضا علیہالسلام اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ منصور دوانیقی نے امام جعفر صادق علیہالسلام کو قتل کرنے کے ارادے سے دربار میں طلب کیا اور ربیع کو حکم دیا کہ اشارہ ملتے ہی آپؑ گردن اڑا دی جائے۔[۳]
فرزندان امیرالمومنین علیہالسلام ہمیشہ سے ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں ظلم کا شکار رہے۔ شیخ الائمہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے بھی دشمنی دراصل امیرالمؤمنین علیہ السلام سے دشمنی تھی جس کا بدلہ آپ سے بھی لیا گیا۔
ایسا دور کہ وصیت میں بھی حضرت علیہ السلام کو تقیہ کرنا پڑا کہ منصور دوانیقی نے حکم دیا کہ اگر وصیت میں کسی ایک شخص کو وصی مقرر کیا گیا ہو تو اسے پیش کیا جائے اور قتل کر دیا جائے، لیکن اطلاع دی گئی کہ امام جعفر صادق علیہالسلام نے پانچ افراد کو وصی مقرر کیا ہے جن میں منصور، محمد بن سلیمان، عبد اللہ، امام موسیٰ کاظم اور حمیدہ شامل تھے۔[۴]
اسی دور میں سادات حسنی اور شیعوں پر بھی سختیاں کی گئیں، یہاں تک کہ گرفتار ہوئے افراد کو عمارتوں کی دیواروں میں چن دیا جاتا تھا۔[۵]
آج بھی دشمنان اہلبیت اپنے آباؤ اجداد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، شیعوں پر اسی طرح ظلم و ستم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ تمام روایات امام جعفر صادق علیہالسلام کی مظلومیت اور اس دور کے سخت حالات کی عکاسی کرتی ہیں۔
[۱] الکافی، شیخ کلینی، ج ۸، ص۳۳۱
[۲] الکافی، شیخ کلینی، ج ۱، ص ۴۷۳
[۳] عیون أخبار الرضا علیہالسلام، شیخ صدوق، ج ۱، ص ۳۰۴
[۴] الکافی، شیخ کلینی، ج ۱، ص ۳۱۰
[۵] عیون أخبار الرضا علیہالسلام، شیخ صدوق، ج ۱، ص۱۱۱
