سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

موت کے لمحے، امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زیارت سے ملنے والا سکون

امام حسن عسکری علیہ السلام کی ایک روایت، جس میں مؤمن کے آخری لمحات اور موت کے وقت ملنے والی قلبی تسکین کا ذکر ہے۔

آخری سانس تک مؤمن کی بے قراری

امام حسن عسکری علیہ السلام، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل فرماتے ہیں: مؤمن اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اپنے انجام کے بارے میں فکرمند رہتا ہے۔ اس کا دل اس اندیشے سے لرزتا رہتا ہے کہ کہیں وہ رضوانِ الٰہی تک نہ پہنچ سکے۔
دنیا میں اپنے مال و اسباب اور اہل و عیال کو چھوڑ جانے کا غم بھی اس کے سینے کو بوجھل کیے رکھتا ہے… لیکن اسی حالت میں ملک الموت اس کے پاس آتا ہے اور اس کی آنکھوں سے پردہ ہٹا دیتا ہے۔

اسے جنت کا نظارہ کراتا ہے

ملک الموت اس سے کہتا ہے: «کیا کوئی عاقل ایک بے قدر درہم کے کھو جانے پر غمگین ہوتا ہے، جبکہ اسے اس کے ہزاروں گنا زیادہ عطا ہونے والا ہو؟»
پھر کہتا ہے: «اپنے سر کے اوپر دیکھو۔»
مؤمن نگاہ اٹھاتا ہے؛ محلات، بلند درجات، بے شمار نعمتیں… سب کچھ اس کے لیے تیار ہوتا ہے۔

أمیرالمؤمنین علیہ السلام اور اہلِ بیت علیہم السلام کی زیارت

پھر ملک الموت دوبارہ کہتا ہے: «دیکھو!»
مؤمن دیکھتا ہے؛ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ، علی علیہ السلام اور تمام اہلِ بیت علیہم السلام کو جنت کے بلند ترین مقام پر موجود پاتا ہے۔

آخرت کا سب سے بڑا مونس، امیرالمؤمنین علیہ السلام

ملک الموت کہتا ہے: «یہ تمہارے سرور اور تمہارے ائمہ علیہم السلام ہیں۔ یہی جنت میں تمہارے ہم نشین اور مونس ہوں گے۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ دنیا کے بدلے علی علیہ السلام اور ان کے اہلِ بیت علیہم السلام کی ہم نشینی نصیب ہو؟»
مؤمن پورے وجود کے ساتھ کہتا ہے: «ہاں! خدا کی قسم!»

حقیقی اطمینان

اسی لمحے مؤمن کے دل سے خوف اور غم دور ہو جاتا ہے۔
خداوندِ متعال کا وعدہ ہے: «أَلَّا تَخَافُوا وَ لَا تَحْزَنُوا»
نہ خوف کرو اور نہ غمگین ہو۔ تمہارے لیے اس جنت کی بشارت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

پیغام

حقیقی مؤمن موت کے لمحے آنکھیں کھول کر آخرت کا استقبال کرتا ہے۔ نہ اسے خوف ہوتا ہے اور نہ غم؛ کیونکہ وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اور اہلِ بیت علیہم السلام اس کے منتظر ہیں۔
یہی وہ لمحہ ہے جب دنیا کی جدائی کا غم، ولایت کی دائمی ہم نشینی کی خوشی میں بدل جاتا ہے۔

مآخذ
التفسیر الإمام الحسن العسکری علیہ السلام، ص ۲۳۹، ح ۱۱۷

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے