سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ازدواجِ نبوی سے نصرت علوی تک؛ خدیجۂ کبریٰ سلام‌اللہ‌علیہا اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کا کردار

دورِ جاہلیت کی تاریک فضا میں حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا، حجاز کی پاکدامن خاتون، کا حضرت محمد مصطفیٰ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے نکاح، اندھیروں میں امید کی ایک روشن کرن اور جہالت و ناانصافی کے مقابل عشق و ایمان کی قوت کا مظہر تھا۔ وہ عظیم خاتون جو اخلاص و وفاداری سے سرشار دل کے ساتھ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی رفیق و غمگسار بنیں اور اس عظیم تحریک کی بنیادوں کو مضبوط کیا جس نے نورِ ہدایت و معنویت سے پوری دنیا کو منور کر دیا۔

اس دور میں جب مکہ، جزیرۂ عرب میں بت پرستی کا مرکز سمجھا جاتا تھا، ایک ایسا گھر آباد ہوا جس کی ہر اینٹ ایمان کی گواہی دیتی تھی۔ اس گھر میں محبتیں ایک دوسرے سے جڑ گئیں۔ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو ایسی شریکِ حیات نصیب ہوئیں جو سب سے پہلی مؤمنہ اور آپ کی مخلص ترین مددگار تھیں، جبکہ امیر المومنین علیہ‌السلام نے اسی پُرمحبت گھرانے میں پرورش پائی۔ حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا اپنے مال کے ذریعے اور امیرالمومنین علیہ‌السلام اپنی تلوار کے ذریعے اسلام کے وہ دو مضبوط ستون بنے جن پر اسلام کی عمارت استوار رہی۔ مزید یہ بھی کہ خدیجۂ کبریٰ کی حیثیت سے گھر کا مقام اسلامی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مولا کے لیے حضرت خدیجہ کبریٰ سلام‌اللہ‌علیہا کا مادرانہ مقام

حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا ایک اعتبار سے بارہ آئمہ کی والدہ ہیں، کیونکہ امیرالمومنین علیہ‌السلام نے کئی سال آپ کے گھر میں اور اس عظیم خاتون کی سرپرستی و تربیت میں گزارے۔ یہاں حضرت خدیجۂ کبریٰ کی تربیت کا بڑا اثر نظر آتا ہے۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام کی تربیت و پرورش کی ذمہ داری رسولِ خاتم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا نے سنبھالی۔

جب امیرالمومنین علیہ‌السلام چھ برس کے تھے تو رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے ان کی سرپرستی قبول فرمائی؛ یعنی عین اسی عمر میں جس عمر میں ابوطالب علیہ‌السلام نے ان کی پرورش کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔

اس کے بعد حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا اور رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے آغازِ بعثت سے پہلے تک ان کی تربیت فرمائی اور اس انداز سے ان کی نگہداشت کی جو ابوطالب علیہ‌السلام اور فاطمہ بنت اسد سلام‌اللہ‌علیہا کی تربیت و سرپرستی سے بھی کہیں بڑھ کر تھی۔ [۱]

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا سے، اپنی امیرالمومنین علیہ‌السلام سے بے پناہ محبت کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا کی محبت بھی مولا کے لیے مزید بڑھ گئی اور وہ ان کی تعظیم و تکریم کا خاص اہتمام کرتیں۔ ویسے بھی خدیجۂ کبریٰ اسلام کی عظیم خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔

انہیں بہترین انداز میں آراستہ کرتیں، عمدہ لباس پہناتیں، اپنی کنیزوں کو ان کے ہمراہ بھیجتیں اور اپنے خادموں کو ان کی خدمت اور آمدورفت میں مدد کا حکم دیتیں۔

لوگ یہ مناظر دیکھ کر کہتے:

«یہ محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے بھائی اور ان کے نزدیک سب سے محبوب شخص ہیں؛ خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا کی آنکھوں کا نور ہیں اور ان کے لیے تمام خوش بختیاں جمع کر دی گئی ہیں۔»[۲]

حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا کا ایمان

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر پہلی وحی نازل ہونے کے بعد حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا نے کسی تردد کے بغیر آپ کی تصدیق کی آپ  سب سے پہلی خاتون تھی جنہوں نے اسلام قبول کیا۔ آپ نے نہ صرف رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی تصدیق کی بلکہ دعوتِ اسلام کے ہر مرحلے میں آپ کا ساتھ دیا اور مشرکین کی مخالفتوں کے مقابلے میں آپ کے لیے باعثِ تسلی و اطمینان بنیں۔ اپنے پختہ ایمان کے ذریعے حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا نے رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو راہِ رسالت میں تقویت بخشی اور اولین مسلمان کی حیثیت سے دوسروں کے لیے ایک بے مثال نمونہ بن گئیں۔ [۳] اس موقع پر یہ کہنا ضروری ہے کہ خدیجۂ کبریٰ کا کردار ایمان و قربانی میں بے مثال ہے۔

سب سے پہلے نماز ادا کرنے والے

دعوتِ اسلام کو علانیہ پیش کرنے کے حکم سے پہلے کے ایام میں رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور آپ کے اولین پیروکاروں کا نماز میں ایک ساتھ کھڑا ہونا، ان کے باہمی ایمان و وفاداری کی روشن تصویر تھا۔

ایک روز رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نماز ادا فرما رہے تھے کہ ابوطالب علیہ‌السلام وہاں پہنچے۔ انہوں نے دیکھا کہ امیرالمومنین علیہ‌السلام آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے ہیں۔ ابوطالب علیہ‌السلام نے اپنے ہمراہ موجود فرزند جعفر سے فرمایا کہ رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے دوسرے جانب کھڑے ہو جائیں۔ چنانچہ جعفر بھی رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔

اس موقع پر رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ قدرے آگے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد امیرالمومنین علیہ‌السلام، جعفر، حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا اور زید بن حارثہ سب رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے پیچھے نماز ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

«فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ» پس جس بات کا تمہیں حکم دیا گیا ہے، اسے علانیہ بیان کرو۔[۴]

ولایت پر پہلی بیعت

ولایت کا اعلان باقاعدہ طور پر منظرِ عام پر آنے سے پہلے، محبت کی خلوت اور نبوت و امامت کے باہمی رشتے کے درمیان ایک عظیم خاتون کی زبان سے امیرالمومنین علیہ‌السلام کی حقانیت کی گواہی سامنے آئی۔

امام موسیٰ کاظم علیہ‌السلام نے امام صادق علیہ‌السلام سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا سے فرمایا:

«اے خدیجہ! یہ علی تمہارے مولا، تمام مؤمنین کے مولا اور میرے بعد ان کے پیشوا ہیں۔»

حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا نے پختہ ایمان کے ساتھ عرض کیا:

«اے رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ! میں آپ کے فرمان کی تصدیق کرتی ہوں اور اسی حقیقت کی بنیاد پر مولاے متقیان سے بیعت کرتی ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے حضور اور آپ کی موجودگی میں اس مقام کی گواہی دیتی ہوں۔»[۵]

اسلام کے دو عظیم حامیوں کا بلند مقام

خاندانِ وحی کا دینِ خدا کی استواری میں بلند مقام اور پروردگار کے نزدیک ان کی عظمت، امیرالمومنین علیہ‌السلام کی بے مثال جہاد و مجاہدت اور حضرت خدیجہ کبریٰ سلام‌اللہ‌علیہا کی رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے بے دریغ حمایت میں نمایاں ہوتی ہے۔ درحقیقت خدیجۂ کبریٰ کو اسلام کے دو عظیم ستونوں میں خاص نمایاں مقام حاصل ہے۔

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

«میرا دین، خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا کے مال اور علی بن ابی‌طالب علیہ‌السلام کی تلوار کے سوا قائم و مستحکم نہ ہوا۔»[۶]

رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے قرآنِ کریم کی ایک آیت تلاوت کرتے ہوئے تاریخ کی عظیم ترین خواتین کے درمیان امیرالمومنین علیہ‌السلام کے مقام و مرتبے کو بھی بیان فرمایا۔

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ آیتِ کریمہ: «إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاکِ وَطَهَّرَکِ» بے شک اللہ نے تمہیں برگزیدہ کیا اور پاکیزہ بنایا ہے، تلاوت فرما رہے تھے کہ امیرالمومنین علیہ‌السلام سے فرمایا:

«اے علی! دنیا کی بہترین خواتین چار ہیں: مریم بنتِ عمران، خدیجہ بنتِ خویلد، فاطمہ بنتِ محمد اور آسیہ بنتِ مزاحم۔»[۷]

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے منقول ایک روایت کے مطابق، تسنیم جنت کا سب سے اعلیٰ مشروب ہے، جس میں رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور ان کے  اہلِ بیت کا خصوصی حصہ ہے۔

خداوندِ متعال کے فرمان: «وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ» اور اس میں تسنیم کی آمیزش ہوگی۔ (سورۂ مطففین، آیت ۲۷) کے بارے میں روایت ہے کہ تسنیم جنت کا سب سے شریف مشروب ہے، جس سے اللہ کے مقرب اولیاء، یعنی رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور ان کا پاکیزہ خاندان، سیراب ہوگا۔ یہ گوارا مشروب ان کے بلند ترین مقام سے جاری ہوگا۔

ان برگزیدہ ہستیوں میں رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ، علی بن ابی‌طالب علیہ‌السلام، ائمۂ معصومین علیہم‌السلام، فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا اور حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا شامل ہیں۔ [۸]

دو عظیم حامیوں کی وفات پر امیرالمومنین علیہ‌السلام کا سوگ

حضرت امیرالمومنین علیہ‌السلام نے حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا، اسلام کی اولین خاتون، اور حضرت ابوطالب علیہ‌السلام، مکہ کے عظیم سردار، کی وفات کو اہلِ آسمان و زمین کے لیے ایک عظیم مصیبت قرار دیتے ہوئے گہرے رنج و الم کا اظہار فرمایا۔

حضرت امیرالمومنین علی علیہ‌السلام نے حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا اور حضرت ابوطالب علیہ‌السلام کے سوگ میں فرمایا:

«اے میری آنکھو! آنسو بہاؤ، اللہ تمہارا مددگار ہو! ان دو ہستیوں کی وفات پر روؤ، کہ ان جیسی ہستیوں کو تم پھر کبھی نہیں دیکھ سکو گی۔ مکہ کے سردار اور اس کے بزرگ ابوطالب کی وفات پر، اور خواتین کی سردار، خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا کی وفات پر؛ وہ پاکیزہ خُو خاتون جن کی سرشت اللہ نے پاکیزہ بنائی اور جنہیں بے شمار فضائل عطا فرمائے، اور جنہوں نے سب سے پہلے رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے ساتھ نماز ادا کی۔ ان دونوں کی وفات کا غم اہلِ زمین کی نسبت اہلِ آسمان کے لیے کہیں زیادہ ہے۔ اسی لیے میں ان کی مصیبت پر اس ماں کی طرح سوگوار ہوں جس نے اپنا بچہ کھو دیا ہو۔ ان دونوں بزرگوں نے اللہ کی رضا کے لیے حضرت محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے دین کی مدد کی اور ان لوگوں کے مقابل ڈٹ گئے جنہوں نے اس دین کو مٹانے کے لیے عہدنامہ تحریر کیا تھا۔»[۹]

مآخذ
[۱] المناقب، جلد ۲، صفحۀ ۱۷۹
[۲] بحار الانوار، جلد ۳۵، صفحۀ ۳۹
[۳] السیره النبویه، جلد ۱، صفحۀ ۲۴۰
[۴] تفسیر قمی، صفحۀ ۳۵۳، بحار الانوار، جلد ۳۵، صفحۀ ۸۰
[۵] طرف من الانباء و المناقب، صفحۀ ۲۳۳، بحار الانوار، جلد ۱۸، صفحۀ ۲۳۳
[۶] شجره طوبی، جلد ۲، صفحۀ ۲۳۳
[۷] المناقب، جلد ۳، صفحۀ ۳۲۲
[۸] تأویل الآیات الظاهره، جلد ۱، صفحۀ ۷۵۳
[۹] الصحاح، جلد ۱، صفحۀ ۱۰۶، بحار الانوار، جلد ۳۵، صفحۀ ۱۴۳ 

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے