حضرت عبدالمطلب کی زندگی اور ایمان
جناب عبدالمطلب کی سرپرستی نے رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا اور آپ کی زندگی میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ حضرت عبدالمطلب کو اپنے پوتے سے بے حد محبت تھی اور اُنہوں نے آپ صلیاللہعلیہوآلہ کی پرورش و تربیت میں خصوصی توجہ دی۔ مزید یہ کہ حضرت عبدالمطلب کی زندگی اور ایمان کا اثر بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
امیرالمومنین علیہالسلام بھی اپنے جدِ بزرگوار عبدالمطلب کو صاحبِ ایمان شخصیت سمجھتے تھے، جنہوں نے اپنے قبیلے میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے سرپرست
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے دادا، جنابِ عبدالمطلب بن ہاشم، مکہ میں قریش کی ایک ممتاز اور باوقار شخصیت تھے۔ وہ نہ صرف قریش کے سربراہ تھے بلکہ کعبہ کے انتظام و تولیت کی ذمہ داری بھی ان کے پاس تھی۔ یہاں حضرت عبدالمطلب کی زندگی اور ایمان کا ذکر ارزاں ہے۔
رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے والدِ گرامی جنابِ عبداللہ کے انتقال کے بعد حضرت عبدالمطلب نے اپنے پوتے حضرت محمد صلیاللہعلیہوآلہ کی سرپرستی سنبھالی اور نہایت محبت و شفقت سے ان کی نگہداشت کی۔ رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی زندگی کا یہ دور جناب عبدالمطلب کی محبت، سرپرستی اور نگہداشت میں گزرا، یہاں تک کہ آپ کی عمر آٹھ برس ہوئی۔ ۱۰ ربیع الاول، ہجرت سے ۴۵ سال قبل، جناب عبدالمطلب اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔[۱]
جناب عبدالمطلب کی پیش گوئی
رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کے جدِ بزرگوار کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ سے غیر معمولی محبت تھی۔ حضرت عبدالمطلب کی یہ خصوصی توجہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ اپنے پوتے کے بلند و ممتاز مقام سے کسی حد تک آگاہ تھے۔ اس وقت بھی حضرت عبدالمطلب کی زندگی اور ایمان کو اہمیت دی گئی۔
ابن عباس نقل کرتے ہیں:
«کعبہ کے سائے میں حضرت عبدالمطلب کے لیے ایک فرش بچھایا جاتا تھا اور ان کے احترام میں کوئی دوسرا شخص اس پر نہیں بیٹھتا تھا۔ حضرت عبدالمطلب کے بیٹے بھی اس فرش کے گرد بیٹھ کر ان کے آنے کا انتظار کرتے۔ رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ اس وقت کم سن تھے۔ آپ تشریف لاتے اور اسی فرش پر بیٹھ جاتے۔ آپ کے چچا اس پر ناراض ہوتے اور آپ کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کرتے۔
لیکن جب حضرت عبدالمطلب نے انہیں ایسا کرتے دیکھا تو فرمایا:
میرے بیٹے کو چھوڑ دو! خدا کی قسم، اس کا مقام بہت بلند ہوگا۔ میں وہ دن دیکھ رہا ہوں جب یہ تم سب کا سردار ہوگا۔ مجھے اس کی پیشانی میں لوگوں کی قیادت کی نشانی دکھائی دیتی ہے۔[۲]
ایمانِ عبدالمطلب
ایک روایت میں امیرالمومنین علیہالسلام نے اپنے والد اور جدِ بزرگوار کے توحیدی دین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں صاحبِ ایمان شخصیات میں سے قرار دیا ہے۔ اس طرح حضرت عبدالمطلب کی زندگی اور ایمان اہل بیت کے ہاں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
اصبغ بن نباتہ، جو امیرالمومنین علیہالسلام کے اصحاب میں سے تھے، امیرالمومنین علی علیہالسلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
«خدا کی قسم! نہ میرے والد نے کبھی کسی بت کی پرستش کی، نہ میرے جد عبدالمطلب نے، نہ ہاشم نے اور نہ عبد مناف نے۔»
عرض کیا گیا:
«پھر وہ کس کی عبادت کرتے تھے؟»
فرمایا:
«وہ دینِ ابراہیم سے وابستہ تھے اور کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔»[۳]
پسندیدہ سنتوں کے بانی
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ جنابِ عبدالمطلب نے زمانۂ جاہلیت میں پانچ ایسی پسندیدہ روایات اور سنتیں قائم کیں جنہیں اسلام نے بھی برقرار رکھا اور ان میں سے بعض کو احکامِ شریعت کا حصہ قرار دیا۔
امام صادق علیہالسلام نے رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے امیرالمومنین علی علیہالسلام سے فرمایا:
«…اے علی! عبدالمطلب نے زمانۂ جاہلیت میں پانچ سنتیں قائم کیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسلام میں بھی جاری اور برقرار رکھا۔
اول: انہوں نے باپ کی بیویوں سے بیٹوں کے نکاح کو حرام قرار دیا اور اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلے میں سورۂ نساء کی آیت ۲۲ نازل فرمائی: «وَ لا تَنْکِحُوا ما نَکَحَ آباؤُکُمْ مِنَ النِّساءِ»
یعنی: اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں۔
دوم: انہوں نے ایک خزانہ دریافت کیا تو اس کا پانچواں حصہ صدقہ کردیا، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورۂ انفال کی آیت ۴۱ نازل فرمائی: «وَ اعْلَمُوا أَنَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبی وَالْیَتامی وَالْمَساکینِ وَابْنِ السَّبیلِ»
یعنی: اور جان لو کہ تمہیں جو کچھ بھی غنیمت میں حاصل ہو، اس کا پانچواں حصہ اللہ، رسول، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔
سوم: جب انہوں نے زمزم کا کنواں کھودا تو اسے حاجیوں کے لیے سیرابی کا ذریعہ بنایا، اور اللہ تعالیٰ نے سورۂ توبہ کی آیت ۱۹ میں فرمایا: «أَ جَعَلْتُمْ سِقایَهَ الْحاجِّ وَ عِمارَهَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ»
یعنی: کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کو آباد رکھنے کو اس شخص کے برابر قرار دے دیا ہے جو اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لایا ہے؟
چہارم: انہوں نے قتلِ نفس کے لیے سو اونٹ بطورِ کفارہ مقرر کیے اور اسلام نے بھی اسے برقرار رکھا۔
پنجم: قریش طواف کے لیے کوئی تعداد مقرر نہیں کرتے تھے، لیکن عبدالمطلب نے طواف کو سات چکروں تک محدود کیا اور اسلام نے بھی اسے برقرار رکھا۔
اے علی! عبدالمطلب بتوں اور ازلام کے ذریعے فال نہیں نکالتے تھے، بتوں کی پرستش نہیں کرتے تھے، اور ان قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے جو ان بتوں کے لیے نصب کیے گئے پتھروں پر ذبح کی جاتی تھیں۔
وہ فرمایا کرتے تھے:
میں دینِ ابراہیم پر قائم ہوں۔»[۴]
جناب عبدالمطلب پر امیرالمومنین علیہالسلام کا فخر
امیرالمومنین علی علیہالسلام نے معاویہ کے نام ایک خط میں اپنے آباؤ اجداد کی برتری اور اولادِ عبدالمطلب کی شجاعت و استقامت کی طرف اشارہ فرمایا۔ اور ایک اور بات یہ ہے کہ حضرت عبدالمطلب کی زندگی اور ایمان آج بھی اہل اسلام کے لیے تقلید اور سبق کا باعث ہیں۔
معاویہ نے کہا تھا:
«ہم سب عبد مناف کی اولاد ہیں۔»
امیرالمومنین علیہالسلام نے جواب میں فرمایا:
«رہا تمہارا یہ کہنا کہ ہم سب اولادِ عبد مناف ہیں، تو بے شک ایسا ہی ہے؛ لیکن امیہ کبھی ہاشم کے برابر نہیں ہوسکتا، حرب کبھی عبدالمطلب کے برابر نہیں ہوسکتا اور ابوسفیان کبھی ابوطالب کے برابر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح آزاد کیے گئے لوگ، مہاجروں کے برابر نہیں ہوسکتے۔»[۵]
پھر امیرالمومنین علیہالسلام نے اپنے آباؤ اجداد کی شجاعت پر زور دیتے ہوئے معاویہ کو لکھا:
«تم نے کب دیکھا ہے کہ اولادِ عبدالمطلب دشمن کے سامنے سے بھاگ جائیں یا تلوار سے خوف زدہ ہوجائیں؟»[۶]
جناب عبدالمطلب کی وفات پر رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کا گریہ
جناب عبدالمطلب ۸۲ برس کی عمر میں، جبکہ ایک روایت میں ۱۱۰ برس بھی منقول ہے، مکہ میں وفات پا گئے۔ یہ واقعہ ۱۰ ربیع الاول، ہجرت سے ۴۵ سال قبل پیش آیا۔ اس وقت رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی عمر مبارک صرف آٹھ برس تھی۔
رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ اپنے جدِ بزرگوار کی وفات سے شدید متاثر ہوئے اور ان کے جنازے کے پیچھے روتے ہوئے چل رہے تھے۔ اُمِ ایمن، جو رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی پرورش و نگہداشت کرتی تھیں، نقل کرتی ہیں کہ اس دن رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری تھے۔
یہ گریہ اپنے شفیق دادا عبدالمطلب سے رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی گہری محبت اور والہانہ وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔[۷]
مآخذ
[۱] السیره النبویه، جلد ۱ صفحۀ ۱۶۹
[۲] بحار الانوار، جلد ۱۵، صفحۀ ۱۴۲ / اصول کافی، جلد ۱، صفحۀ ۴۴۸
[۳] بحار الانوار، جلد ۱۵، صفحۀ ۱۴۴
[۴] بحار الانوار، جلد ۷۴، صفحه ۴۶
[۵] نامۀ ۱۷ نهج البلاغه
[۶] نامۀ ۲۸ نهج البلاغه
[۷] الطبقات الکبری جلد ۱ صفحۀ ۹۴