سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

Hazrat-khadija-sa-1

حضرت خدیجہ سلام‌الله‌علیہا کا بہشتی مقام

یہ واقعہ نہ صرف ایک عظیم زوجۂ رسول کے فراق کا بیان ہے بلکہ ان کے بہشتی مقام کی صریح بشارت بھی ہے۔

حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا کی وفات کے بعد جنابِ سیدہ سلام‌اللہ‌علیہا آگے بڑھیں۔ آپ سلام‌اللہ‌علیہا رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے لپٹ گئیں۔ پھر آپ سلام‌اللہ‌علیہا رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے گرد طواف کرنے لگیں۔

یہ منظر جدائی اور محبت کی گواہی دیتا ہے، جہاں خانۂِ وحی میں غم کی کیفیت نمایاں تھی۔

اس گھڑی سیدہ سلام‌اللہ‌علیہا نے سوال کیا:

اے بابا! میری ماں کہاں ہیں؟

رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے پاس اس سوال کا ظاہرا کوئی جواب نہ تھا۔ سکوتِ نبوی اس سوال کی عظمت اور اس لمحے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی وقت جبرئیل علیہ‌السلام نازل ہوئے اور پیغام پہنچایا کہ پروردگار کا حکم ہے:

فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا کو سلام پہنچائیں اور کہو کہ تمھاری والدہ جنت کے ایک گھر میں ہیں۔ وہ گھر پرسکون ہے، اس کے ستون سرخ یاقوت سے بنے ہیں، اور وہ آسیہ اور مریم علیھما‌السلام کے ساتھ ہیں۔

اس بیان میں جنتی گھر، سکون، سرخ یاقوت کے ستون اور آسیہ و مریم علیہم‌السلام کی رفاقت کا ذکر ہے۔ یہ تمام اوصاف حضرت خدیجہ سلام‌اللہ‌علیہا کے بلند مقام و مرتبے کو واضح کرتے ہیں۔

آپ کا یہ مقام اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیوں نہ ہو، جبکہ آپ ہی نے دینِ خدا اور اس کے رسول کی تصدیق کی۔ آپ نے اس وقت رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی تائید کی، جب سب آپ کو جھٹلا رہے تھے۔

جب سیدۂ کونین سلام‌اللہ‌علیہا نے یہ سلامِ الٰہی سنا تو فرمایا:

یقیناً اللہ خود سلام ہے، سلام اسی سے ہے اور اسی کی طرف لوٹتا ہے۔

یہ کلمات رضائے محض کی علامت ہیں، جن میں سلام کو مبدأ اور منتہا بیان کیا گیا ہے جو کہ ذاتِ اللہ سبحانہ و تعالی کی نسبت کے ساتھ ہے۔

یوں آسمانی پیغام نے خاندان نبوت کے غم کو تسکین میں بدل دیا اور حضرت خدیجہ سلام‌الله‌علیہا کے بہشتی مقام کو واضح کر دیا۔[۱]

حوالہ‌جات
[۱]
الامالی، ج ۱، ص ۱۷۵

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے