قاضی عبدالجبّار، جو ۴۱۵ ہجری میں وفات پانے والے اہلِ سنت کے نامور عالم تھے، جنہیں «علامہ متکلم»، «شیخ معتزلہ» اور «اصولی» جیسے القاب سے یاد کیا گیا، اور جو شیعہ مکتبِ فکر سے کسی قسم کی مخالفت یا موافقت نہیں رکھتے تھے، اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
«اس زمانے میں ان میں ابو جبلہ ابراہیم بن غسان، جابر، ابو الفوارس حسن بن محمد میمدی، ابو الحسین احمد بن محمد بن کمیت، ابو محمد طبری، ابو الحسن حلبی، ابو یتیم رلبائی، ابو القاسم نجاری، ابو الوفا دیلمی، ابن ابی الدیس، خزیمہ، ابو خزیمہ اور ابو عبداللہ محمد بن نعمان جیسے افراد موجود تھے۔
یہ لوگ مصر، رملہ، صور، عکّا، عسقلان، دمشق، بغداد اور جبلِ بسماق میں موجود تھے۔
یہ سب ان علاقوں میں تشیع اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے اہلِ بیت سے محبت کا دعویٰ کرتے تھے۔ وہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ان کے فرزند محسن پر گریہ کرتے تھے، جن کے بارے میں ان کا عقیدہ تھا کہ خلیفہ دوم نے انہیں قتل کیا تھا۔۔۔ اور اس واقعے پر نوحہ خواں مقرر کرتے اور مجالسِ ماتم برپا کرتے تھے۔»
اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت محسن علیہ السلام کی شہادت پر شیعیانِ اہلِ بیت کا سوگ اور عزاداری چوتھی اور پانچویں صدی ہجری تک اس قدر علانیہ اور معروف تھی کہ مخالف مکتبِ فکر کے علماء بھی اس کا تذکرہ اپنی کتابوں میں کرتے تھے۔
وفي هذا الزمان منهم مثل أبي جبلة إبراهيم بن غسان، ومثل جابر المتوفي، وأبي الفوارس الحسن بن محمد الميمديّ وأبي الحسين أحمد بن محمد بن الكميت، وأبي محمد الطبري، وأبي الحسن الحلبي، وأبي يتيم الرلباى، وأبي القاسم النجاري، وأبي الوفا الديلمي، وابن أبي الديس، و خزيمة، و أبي خزيمة ، و أبي عبد الله محمد بن النعمان ، فهؤلاء بمصر وبالرملة وبصور، وبعكا وبعسقلان وبدمشق وببغداد وبجبل البسماق. وكل هؤلاء بهذه النواحي يدّعون التشيع ومحبة رسول الله صلّى الله عليه وسلم وأهل بيته، فيبكون على فاطمة وعلى ابنها المحسن الذي زعموا أن عمر قتله…… ويقيمون المنشدين والمناحات في ذلك.
مآخذ
تثبیت دلائل النبوۃ، ج۲، ص۵۹۴-۵۹۵