سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ضریح

ضریح مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی مرمت و آرائش کا ایک تاریخی جائزہ

حرم مطہر امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کی ضریح مبارک مختلف ادوار میں وسیع پیمانے پر مرمت، تعمیر نو اور تزئین و آرائش کے مراحل سے گزری ہے۔ ان اقدامات میں ضریح مطہر پر دوبارہ سونے کا ملمع چڑھانے، اندرونی چھت کی تعمیر نو، جالیوں اور تاجوں کی مرمت اور مرقد مطہر کے خاتم کاری والے صندوق کی مرمت جیسے کام شامل ہیں۔ ان تمام اقدامات کا مقصد اس قیمتی تاریخی و فنی شاہکار کی ساخت، خوب صورتی اور فنکارانہ نفاست کو محفوظ رکھنا ہے۔

ضریح مطہر پر سونے کا ملمع چڑھانا

حرم مطہر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی نگرانی میں بوہرہ برادری کی فنی ٹیم نے ضریح مطہر کے متعدد حصوں کی مرمت کی۔ اس سلسلے میں پہلا اقدام ضریح پر دوبارہ سونے کا ملمع چڑھانا تھا، جو ۲۳ جمادی‌الاول ۱۴۲۶ ہجری‌قمری (۳۰جون ۲۰۰۵) کو انجام دیا گیا۔ اس کام کے دوران ضریح کے سنہرے تاج پر ہاتھ سے کام کرتے ہوئے ۲۵ کلوگرام خالص سونے سے دوبارہ ملمع کاری کی گئی۔ اس کے علاوہ سنہرے تاج کے اطراف میں پھولوں کے نقش و نگار بنائے گئے۔ اس پر نقش اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی کو سرخ یاقوت سے مرصع کیا گیا ہے۔

یہ کام نجف اشرف میں واقع فیض حسینی فاؤنڈیشن میں محرم کے مہینے میں شروع ہوا۔ رجب ۱۴۲۷ ہجری‌قمری (۲۰۰۶ء) میں مکمل ہوا۔ اسی سال شعبان کے مہینے میں امام زین‌العابدین علیہ‌السلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر اس منصوبے کی تکمیل کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔

ضریح کی اندرونی چھت کی تعمیر نو

۱۴۲۹ ہجری‌قمری (۲۰۰۸ء) میں حرم مطہر کی ماہر فنی ٹیم نے ایک اور منصوبے کی نگرانی کی۔ اس منصوبے کے تحت ضریحِ مطہر کی اندرونی چھت کے درمیانی حصے کو برمی ساگوان کی نقش دار لکڑی سے تیار کرکے آراستہ کیا گیا۔ اس پر مقامی نارنجی اور ہندوستانی شیشم کی لکڑی کی تہہ بھی چڑھائی گئی۔ اس سے پہلے اس حصے کو کئی تہوں والے سادہ تختوں سے سجایا گیا تھا۔ ان پر صرف روغنی رنگ کیا گیا تھا۔ نئے کام کو نجف اشرف میں بڑھئی الحاج کفاح شمرتی نے اپنے کارخانے میں رضاکارانہ طور پر انجام دیا۔

چاندی کے نئے ستونوں کی تنصیب

۱۴۳۰ ہجری‌قمری (۲۰۰۹ء) میں بوہرہ برادری کے مالی تعاون سے ضریح مطہر کے چاروں کونوں پر نئے ستون نصب کرنے کا کام مکمل ہوا۔ یہ ستون خالص چاندی سے تیار کیے گئے تھے۔ ان کے اوپر سونے کی ملمع کاری والے تاج نصب تھے۔

یہ ستون فن کے اعتبار سے نہایت قیمتی خصوصیات کے حامل تھے۔ ان کی ساخت کی نفاست، نقش و نگار کی خوب صورتی اور ان پر کندہ کتیبے خاص طور پر قابل ذکر تھے۔ ان کتبوں میں ’’یا علی‘‘ اور ’’وهو العلی العظیم‘‘ جیسی مبارک عبارتیں بھی شامل تھیں، جو سرخ یاقوت پر نقش کی گئی تھیں۔ یہ ستون پاکستان کے شہر کراچی میں تیار کیے گئے۔ ان پر سونے کا ملمع چڑھانے کے لیے تقریباً ۲۰ کلوگرام سونا استعمال ہوا۔ پرانے ستون اتارنے کے بعد حرم مطہر کے گوداموں میں محفوظ کر دیے گئے۔

۱۴۳۱ ہجری‌قمری (۲۰۱۰ء) میں کونوں پر نصب ستونوں کے سنہرے تاج دوبارہ تبدیل کیے گئے۔ ان کی جگہ خالص سونے کے تاج نصب کیے گئے۔ ان تاجوں کو سرخ یاقوت کی تین قطاروں، نئے نقش و نگار اور ہیروں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ اس کام میں چاروں ستونوں کے لیے استعمال ہونے والے سونے کی مقدار ۱۵۴۵۳ گرام اور چاندی کی مقدار ۴۰۰۰۰ گرام تھی۔ اس طرح نئے اور چمکتے ستونوں کی بدولت ضریح مطہر کی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہوا۔ امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر اس کی رونق دوبالا ہوگئی۔

ضریح مطہر کے  دروازے کی تعمیر نو اور سونے کی ملمع کاری

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ضریح مطہر کے دروازے کو شدید نقصان پہنچا۔ بعض زائرین کی جانب سے پانی ڈالے جانے کے باعث دروازے کو سہارا دینے والی لکڑی گل گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں دروازے کو کھولنے اور بند کرنے میں بھی دشواری پیش آنے لگی تھی۔

حرم مطہر کے متولی اور بوہرہ برادری کے درمیان مشاورت کے بعد دروازے کی مکمل تعمیر نو اور ملمع کاری کا فیصلہ کیا گیا۔ اس عمل میں دروازے کی اصل ساخت اور اس کی تمام فنکارانہ جزئیات کو مکمل طور پر محفوظ رکھتے ہوئے دوبارہ تیار کیا گیا۔ ان جزئیات میں نباتاتی نقش و نگار، قرآنی کتیبے اور احادیث مبارکہ شامل تھیں۔ دروازے کی درست پیمائشیں لی گئیں اور اس کا حتمی ڈیزائن ذی الحجہ ۱۴۳۱ ہجری‌قمری (۲۰۱‍۰ء) میں مکمل ہوا۔ اس منصوبے کے اخراجات بوہرہ برادری کے سلطان محمد برہان‌الدین کے مالی تعاون سے پورے کیے گئے۔

ضریح مطہر کے دروازے کی تیاری اور تنصیب

ضریح مطہر کے دروازے کی تیاری کے مراحل کراچی میں بوہرہ برادری خصوصی کارخانوں میں انجام پائے۔ دروازے کی بلندی ۲ میٹر، چوڑائی ۱.۱۰ میٹر اور مجموعی وزن تقریباً ۴۵۰ کلوگرام تھا۔ اس کی تیاری میں تقریباً ۴۳ کلوگرام سونا اور ۲۲۰ کلوگرام چاندی استعمال ہوئی۔ دروازے کے بالائی حصے پر ’’بسم اللہ‘‘ کے حروف کو تقریباً ۴۰ قیراط قدرتی ہیروں سے مرصع کیا گیا۔ اسی طرح دوہرے پھولوں کے ان فریموں کو بھی ہیروں سے آراستہ کیا گیا۔ ان کے اندر ’’یا علی‘‘ کندہ تھا، جب کہ اس عبارت کو تقریباً ۱۵۰۰ قیراط سرخ یاقوت سے مرصع کیا گیا۔

مسلسل چھ ماہ کی محنت کے بعد یہ دروازہ نہایت فنکارانہ ڈیزائن اور کاریگری کے ساتھ تیار ہوا۔ پیر، ۲۹ ربیع‌الثانی ۱۴۳۲ہجری‌قمری (۳ اپریل ۲۰۱۱) کو اسے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان سے نجف اشرف منتقل کیا گیا۔ اس سفر میں بوہرہ برادری کے ۳۰ ماہر کاریگر اور فنی ماہرین بھی دروازے کے ہمراہ تھے۔ اگلے ہی روز پرانے دروازے کو اتارنے اور نئے دروازے کو نصب کرنے کا کام شروع ہوا۔ جو ۱۷ روز تک جاری رہا۔ بالآخر جمعرات، ۱۶ جمادی‌الاول ۱۴۳۲ ہجری‌قمری (۲۰ اپریل ۲۰۱۱) کو نئے دروازے کی رونمائی کی گئی۔ پرانے دروازے کو حرم مقدس کے گوداموں میں محفوظ کر دیا گیا۔

اسی مرحلے میں خصوصی طور پر دروازے کے دائیں اور بائیں جانب کے دونوں ملحقہ ستونوں کو بھی نئے ستونوں سے تبدیل کیا گیا۔ یہ ستون سنہری پٹیوں، آرائشی تاجوں اور خالص سونے کے انگور کے خوشوں سے مزین تھے۔

ضریح کے نئے دروازے کی تنصیب اور رونمائی

اول ذی الحجہ ۱۴۳۶ ہجری قمری، بمطابق ۲۰۱۵ء، حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام کے ۲۰ نئے ستونوں کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا۔ اس موقع پر نجف اشرف کے حوزۂ علمیہ کے اساتذہ اور طلبہ کی ایک جماعت بھی موجود تھی۔ ہر ستون میں ۳۰ کلوگرام چاندی استعمال ہوئی۔ اسے ۲۰ کلوگرام خالص سونے سے مرصع اور آراستہ کیا گیا۔

ضریح کی چاندی کی جالیوں کی تعمیر نو

یکم ربیع‌الاول ۱۴۳۸ ہجری‌قمری (۲۰۱۶ء) کو ضریح مطہر کی چاندی کی ۱۷ جالی دار کھڑکیوں کی تعمیر نو کا کام شروع ہوا۔ اس منصوبے میں جالیوں کے اصل ڈیزائن کو برقرار رکھتے ہوئے ہر کھڑکی میں تقریباً ۲۲۵ کلوگرام چاندی کا اضافہ کیا گیا۔ اس سے پہلے ہر کھڑکی کے بالائی حصے کے دونوں جانب چاندی سے ’’یا علی‘‘ کندہ تھا۔ اس عبارت کی جگہ ۲۴ قیراط خالص سونے سے تیار کردہ گول پھولوں کے نقش نصب کیے گئے۔ ان کے حروف کو سرخ یاقوت سے مرصع کیا گیا۔

جالیوں کے بالائی حصے کو اندر کی جانب سے برمی ساگوان کی نقش دار لکڑی سے ڈھانپا گیا۔ اس لکڑی کے ہر ٹکڑے کو یمنی سرخ عقیق کے ۳۰ پنج گوشہ ٹکڑوں سے آراستہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ کھڑکیوں کے درمیان واقع ۲۰ مرکزی ستونوں پر بھی مزید فنکارانہ کام کیا گیا۔ ایک اور اہم اقدام کے تحت ضریحِ مطہر کی چھت کے وسط میں خالص سونے کا چراغ دان، یعنی مشکات، آویزاں کیا گیا۔ یہ مشکات بوہرہ برادری کے سلطان مفضل سیف الدین کی جانب سے ہدیہ کیا گیا تھا۔

ضریح مطہر کے زرّیں چراغ دان اور سنگ مرمر کے فرش کی تجدید

مزید برآں، خاتم کاری والے صندوق اور جالی دار حصے کے درمیان واقع راہ داری کا فرش بھی تبدیل کیا گیا۔ اس کی جگہ نفیس ہندوستانی سنگ مرمر نصب کیا گیا۔ اس سنگ مرمر میں ہندوستانی عقیق کی دو رگیں تھیں۔ سرخ و سبز پھولوں کے نقش نے اس کی خوب صورتی میں اضافہ کیا۔

بالآخر، ایک ماہ سے زائد عرصے تک مسلسل کام جاری رہنے کے بعد ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی۔ یہ تقریب جمعہ، ۷ ربیع‌الثانی ۱۴۳۸ ہجری‌قمری (۲۰۱۷ء) نجف اشرف کے حوزۂ علمیہ کے اساتذہ کی ایک جماعت کی موجودگی میں منعقد کی گئی۔ اس میں ضریح مطہر کی نئی شکل و شمائل کی رونمائی کی گئی۔ کربلا معلی کے شاعر علی صفار نے اپنے تاریخی اشعار میں تعمیر نو کا سال بھی درج کیا ہے۔ ان اشعار میں امیرالمومنین علیہ‌السلام کی ضریح کی چاندی کی جالیوں کی تعمیر نو کا سال ۱۴۳۸ ہجری قمری بیان کیا گیا ہے۔

ضریح مطہر کے تاج پر دوبارہ سونے کی ملمع کاری

حرم مطہر کی انتظامی کمیٹی ضریح مطہر کی فنی اور تکنیکی حالت کو ہمیشہ بہتر رکھنے پر خصوصی توجہ دیتی رہی ہے۔ ضریح کے تاج پر سونے کی تہہ میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر، جب کہ اس تاج کی اصل ساخت خالص چاندی سے بنی ہوئی ہے۔ پیر، ۲ رجب‌ ۱۴۴۵ ہجری‌قمری (۱۴ جنوری ۲۰۲۴ء) کو تاج کے اجزا کھولنے اور الگ کرنے کا کام شروع کیا گیا۔

ان اجزا کو جامع مرمت اور دوبارہ ملمع کاری کے لیے حرم مقدس سے وابستہ ملمع کاری کے کارخانے میں منتقل کیا گیا۔ اس شعبے کے ماہر اور تجربہ کار فنی عملے نے ان کی تعمیرِ نو کا کام انجام دیا۔ یہ تمام مراحل باریک بینی اور نفاست سے مکمل کیے گئے، تاکہ ان پر دوبارہ سونے کا ملمع چڑھایا جا سکے۔

مرقد شریف کا صندوق (صندوق خاتم)

صندوق خاتم اس صندوق کو کہتے ہیں جو قبر مطہر کے اوپر رکھا گیا ہے۔ عموما لکڑی سے تیار کیا جاتیا ہے۔ قبر مبارک پر سب سے پہلے صندوق رکھنے والا شخص بنی عباس خاندان کا ایک فرد داؤد عباسی تھا۔ یہ اقدام ۲۷۳ ہجری قمری (۸۸۶ء) میں انجام دیا گیا۔ اس نے یہ کام اپنے ایک گناہ کے کفارے کے طور پر کیا تھا۔ کیونکہ وہ قبر مطہر کو کھود کر اس کی حقیقت ظاہر اور اس کے راز سے پردہ اٹھانا چاہتا تھا۔ لیکن امام المتقین امیرالمومنین علی علیہ‌السلام کی نمایاں کرامت ظاہر ہونے کے بعد وہ اپنے اس ناپاک ارادے سے باز آگیا۔

قبر کھودنے کا یہ واقعہ عباسی خلیفہ معتمد کے دور خلافت (۲۵۶ سے ۲۷۹) ہجری قمری میں پیش آیا۔ یہ واقعہ ۹ ذی الحجہ ۲۷۳ ہجری‌قمری (۸۸۷ء) کو امام حسین علیہ‌السلام کے روضۂ مطہر کی چھت منہدم ہونے کے واقعے کے زمانے میں پیش آیا۔

اس سلسلۂ مضامین کی گزشتہ کڑی میں «ضریح مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام: ہنر کے آئینے میں تاریخ کے نقوش» کا تعارف پیش کیا گیا تھا۔

مآخذ
کتاب ’’تاریخ المرقد العلوی المطہر‘‘ سے ماخوذ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے