سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر مطہر

ضریح امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے تاریخی ہدایا، شاہی تحائف سے نفیس غلافوں تک

تاریخ کے مختلف ادوار میں حرم مطہر کی ضریح مقدس کے لئے ہدیہ کے طور پر دیئے جانے والے پردے ممتاز ہنرمندوں نے بڑی مہارت اور نفاست کے ساتھ تیار کئے ہیں۔ ان پردوں کو خوبصورت نقش و نگار، عمدہ کپڑوں، باریک کڑھائی، مذہبی تحریروں اور علامتی رنگوں سے آراستہ کیا گیا ہے، جو انہیں دلکش  اور جاذب نظر بناتے ہیں ۔یہ فن پارے ضریح کے ساتھ ہم آہنگی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کئے گئے ہیں۔ یہ حسن و زیبائی کے علاوہ زائرین کے روحانی جذبات اور معنوی ضروریات کے ساتھ بھی گہرا تعلق پیدا کرتے ہیں۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی قبر مطہر کے صندوق پر غلاف چڑھانے کی قدامت

قدیم زمانے سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ضریح مطہر کے صندوق پر ایک پردہ نما غلاف چڑھایا جاتا ہے۔ حرم مطہر کے خزانے میں متعدد نفیس پردے محفوظ ہیں جو امیرالمومنین علیہ‌السلام کی ضریح مطہر کے لئے بطور ہدیہ پیش کئے گئے تھے۔ ان پردوں کے بنانے والوں نے کوشش کی ہے کہ وہ مادی قدر و قیمت کے ساتھ ساتھ فنّی جزئیات کے لحاظ سےبھی  نہایت نفیس اور ممتاز ہوں تاکہ وہ ضریحِ مطہر کے شایانِ شان ہوں۔

حرمِ علوی کے خزانے میں محفوظ مشہور پردوں میں سے ایک صندوقِ ضریح کے لئے تیار کیا گیا نہایت نفیس غلاف ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آل بویہ کے سلطان عضدالدولہ کی جانب سے ہدیہ کیا گیا تھا۔

شیخ علی شرقی (متوفیٰ ۱۳۸۴ھ) نے اپنی محفوظات میں لکھا ہے:

«ضریح کے صندوق، خود ضریح اور اس کے اطراف کے لئے مختلف قسم کے غلاف موجود ہیں۔ میں نے ایک تاریخی غلاف دیکھا تھا جو ضریح کے صندوق پر چڑھایا جاتا تھا۔ وہ موتیوں سے بنا ہوا تھا، جس میں سونے اور چاندی کے تاروں سے موتی ٹانکے گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ آل بویہ کے دور کا تھا۔ میں نے یہ غلاف اس وقت دیکھا جب احمد شاہ قاجار زیارت کے لئے آئے تھے۔ اس زمانے میں انگریز حاکم نے حرم مطہر کے نفیس اور قیمتی نوادرات کی حفاظت کا حکم دیا تھا۔ خزانہ دار کی خواہش تھی کہ وہ بادشاہ کو کوئی تحفہ پیش کرے۔ چنانچہ سونے کے تاروں سے مزین ایک مخصوص قسم کی «مقصّبہ» نامی عباء تیار کی گئی، جسے  نجف کے لوگوں نے تیار کیا تھا، جو اس فن میں شہرت رکھتے تھے۔ مجھ سے کہا گیا کہ اس عباء پر سونے کی پٹیوں سے ایک شعر لکھوں، جس کا  ایک مصرع عباء کے ایک جانب اور دوسرا مصرع دوسری جانب لکھا جائے۔ یہ شرط بھی رکھی گئی کہ میں اس گروہ میں شامل ہوں جو بادشاہ کے ساتھ حرم میں داخل ہوگا، کیونکہ دوسرے لوگوں کے داخلے پر پابندی تھی۔ میں نے یہ شرط قبول کر لی۔»

آل بویہ کے بادشاہ کا خصوصی ہدیہ

آثار قدیمہ  کی ماہر ڈاکٹر سعاد ماہر کہتی ہیں:

«ان ہدایا اور آثار میں سب سے قدیم آثار چوتھی صدی ہجری، یعنی آل بویہ کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ آل بویہ کے سلطان عضدالدولہ نے سنہ ۳۶۵ ھ میں ضریح کے لئے ایک غلاف ہدیہ کیا تھا۔ یہ غلاف اس زمانے کے کپڑا بُننے، کڑھائی کرنے اور تزئین و آرائش کے فن کا ایک نمونہ ہے۔ اس کی نفاست اس قدر حیرت انگیز ہے کہ بیسویں صدی میں مشینی ترقی کے باوجود اسے دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ نجف میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے حرم کے ہدایاسے متعلق دستاویزات میں درج ہے کہ یہ غلاف، جس کے بارے میں ہم گفتگو کر رہے ہیں، سنہ ۳۶۵ ھ میں آل بویہ کے سلطان عضدالدولہ کی طرف سے ہدیہ کیا گیا تھا۔ اس اندراج کے مطابق یہ فن پارہ چوتھی صدی ہجری کا ہونا چاہئے، لیکن میں اس اندراج سے اتفاق نہیں کرتی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ فن پارہ دنیا کے کسی بھی خطے میں چوتھی صدی ہجری، (یعنی دسویں صدی عیسوی) میں تیار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لہٰذا میری رائے میں یہ فن پارہ ایران میں اٹھارہویں صدی عیسوی میں تیار کیا گیا ہے۔»

عصر حاضر میں ایک نفیس غلاف کا ہدیہ

سنہ ۱۴۳۸ھ (۲۰۰۷ ء) میں اسلامی جمہوریہ ایران کے «مرکز فرهنگ و رسانۀ فردوس» نے ضریح مطہر کے صندوق کے لئے ایک نفیس غلاف ہدیہ کیا۔ اس کے اخراجات اصفہان کے ایک تاجر «حاج واجیہ مرتضیٰ محزونیہ» نے ادا کئے۔

ضریح مطہر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کا نفیس ریشمی غلاف

یہ غلاف بہترین قسم کے ریشم سے تیار کیا گیا۔ اسے شہر یزد میں بُنا گیا اور اس کا رقبہ ۳۰ مربع میٹر ہے۔ یہ دستکاری کی صنعت کے قابل فخر نمونوں میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ اس پر سونے کا کام اصفہان شہر میں بعض مؤمن مردوں اور خواتین نے چھ ماہ کے عرصے میں انجام دیا۔

اس غلاف میں تقریباً ۱۱۰ مثقال سونا، ۸ کلوگرام چاندی اور تقریباً ایک کلوگرام قدرتی موتی استعمال کیے گئے ہیں۔ غلاف پر سورۂ اخلاص اور امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے بارے میں نازل ہونے والی بعض آیات نقش کی گئی ہیں۔ غلاف کے بالائی حصے میں درج ذیل عبارت لکھی گئی ہے:

«اے فرزند کعبہ اور شہید کوفہ، حیدر کے لقب سے ملقب، اے امیر‌المومنین علیہ‌السلام، اے آل طاہر میں پدر ائمہ، اے امیر‌المومنین علی بن ابی طالب علیہ‌السلام»

ان آیات کی خطاطی استاد محمد موحد نے کی، جبکہ حاجیہ پوران محزونیہ نے متعدد مؤمن خواتین کے تعاون سے اس غلاف کا ڈیزائن تیار کیا اور اس پر کڑھائی کی۔

ہندوستان سے ایک نفیس ہدیہ

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ضریح کے صندوق خاتم  پر رکھا جانے والا آخری غلاف سنہ ۱۴۲۹ھ (۲۰۰۸ء) میں ہندوستان کے شہر بمبئی میں تیار کیا گیا۔ ماہ ذی القعدہ سنہ ۱۴۳۰ھ (۲۰۰۹ء) میں صندوق پر نصب کیا گیا۔ یہ غلاف بوہریوں کے سلطان محمد برہان‌الدین کی جانب سے ہدیہ کیا گیا تھا۔ اسے ضریح مطہر کے نفیس ترین اور خوبصورت ترین غلافوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی کڑھائی کی نفاست، نقش و نگار کی خوبصورتی، تزئینات کی چمک دمک اور ظاہری حسن نمایاں ہے، جبکہ اس کی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔

اس نفیس غلاف کی خصوصیات 

یہ قدرتی جاپانی ریشم سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا رنگ گہرا سبز ہے۔ اس کے نقش و نگار پر سنہری دھاگوں سے کڑھائی کی گئی ہے۔ اس پر قرآن مجید میں سے سورۂ فاتحہ، سورۂ قدر، سورۂ کوثر اور سورۂ اخلاص اور بعض دیگر آیات درج ہیں۔ ان میں سے چند آیات یہ ہیں:

«إِنَّمٰا یُرِیدُ اَللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ اَلرِّجْسَ أَهْلَ اَلْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیراً»

«مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا»

«إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلَاهَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاهَ وَهُمْ رَاکِعُونَ»

قرآنی کتبہ قدیم خط کوفی میں لکھا گیا ہے۔ اسے سنہری رسّی سے فریم کیا گیا ہے۔ جو شیشے کے صندوق کے کونوں میں نصب رسیوں سے مشابہ ہے۔ اس غلاف کو ہزاروں سرخ یاقوت، قدرتی موتیوں، ہیروں، زمرد اور یمنی عقیق کے ٹکڑوں سے سجایا گیا ہے۔ اس  غلاف کے اطراف اور نچلے حصے میں موتیوں اور عقیق سے تیار کردہ انگور کے گچھے لٹک رہے ہیں۔

غلاف پر سنہری تزئینات کی تفصیل

غلاف کے چاروں کونوں میں سونے کے چار آرائشی گلدان رکھے گئے ہیں۔ یعنی ہر کونے میں ایک آرائشی جگہ ہے۔ یہ محمد برہان‌الدین کی جانب سے ہدیہ کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میں ۶ کلوگرام سونا اور ۲.۵ کلوگرام چاندی استعمال کی گئی ہے، جبکہ انہیں آٹھ ہزار یاقوت اور دو ہزار ہیروں سے سجایا گیا ہے۔

ہر آرائشی حصے کے اوپری ڈھکن پر قرآن مجید کی ایک آیت نقش کی گئی ہے۔ اس میں لفظ «الفوز» شامل ہے۔ ان میں سے کچھ آیات یہ ہیں:

«خَالِدِینَ فِیهَا أَبَداً رَضِیَ اللهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ»

«ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ»

«وَ فَضْلًا مِّن رَّبِّکَ ذَلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ»

ضریح مقدس کی تزئین و آرائش

سلطانوں، بادشاہوں، خلفاء، امیروں، وزیروں اور دیگر بزرگ شخصیات کے ساتھ ساتھ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے وفادار شیعوں نے بھی ہمیشہ حرم مطہر کی نگہداشت اور تزئین و آرائش کا اہتمام کیا ہے تاکہ اسے بہترین اور خوبصورت ترین حالت میں پیش کیا جا سکے۔ آج بھی سید الاوصیاء امیر‌المومنین علیہ‌السلام سے محبت اور قرب الٰہی کے جذبے کے تحت ضریح مقدس کے لئے نفیس ہدیے اور خوبصورت فن پارے پیش کئے جاتے ہیں۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ضریح  کی تزئین کے لئے بادشاہوں کے تاریخی تحائف

امیر عبداللہ الحمدانی نے اپنی عمارت تعمیر کروانے کے بعد ضریح کے لئے ایک نفیس غلاف ہدیہ کیا۔ اس کےفرش کو سمرقند کی نہایت قیمتی چٹائیوں سے آراستہ کیا۔ خاندان حمدان بھی امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے روضے پر سونے اور چاندی کے چراغ، مزین تلواریں اور نفیس فن پارے بھیجا کرتا تھا۔ آل بویہ کے عضدالدولہ نے حکم دیا کہ ضریح کی دیواروں کو ساگوان کی لکڑی سے مزین کرکے ڈھانپ دیا جائے۔

پہلے نفیس غلاف کے ہدیے کا واقعہ

احمد بن علی القلقشندی نے لکھا ہے:

«ابن نجار نے شہر کی تاریخ میں نقل کیا:

ہے کہ سب سے پہلے حجرۂ مطہر امیر‌المومنین علیہ‌السلام پر غلاف چڑھانے والے حسین بن ابی ہیجاء تھے، جو وزیر طلائع بن رزیق کے داماد اور عضدالدولہ کے وزیر تھے۔ انہوں نے حجرے کے لئے سفید دبیقی کپڑے کا ایک غلاف تیار کروایا، جس پر کڑھائی کی گئی تھی اور زرد و سرخ رنگ کے ریشمی غلاف چڑھائے گئے تھے،جس پر پوری سورۂ یس لکھی گئی تھی۔ اس زمانے میں عباسی خلیفہ المستضی بأمر اللہ تھا۔ جب یہ غلاف شہر پہنچا تو شہر کے امیر قاسم بن مہنا نے اسے نصب کرنے سے انکار کر دیا، یہاں تک کہ المستضی سے اجازت حاصل کر لی جائے۔ چنانچہ حسین بن ابی ہیجاء بغداد گئے اوراسے نصب کرنے کی اجازت لی۔ یہ غلاف تقریباً دو سال تک حجرے پر نصب رہا۔ اس کے بعد المستضی نے بنفشی ریشم کا ایک ستارہ نما غلاف بھیجا، جس پر کڑھائی کی گئی تھی اور سفید رنگ کے ریشمی غلاف چڑھائے گئے تھے۔ اس پر ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور المستضی باللہ کے نام لکھے ہوئے تھے۔ پہلےستارہ کو اتار کر کوفہ میں امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کے روضے پر بھیج دیا گیا اور المستضی کا بھیجا ہوا غلاف اس کی جگہ نصب کر دیا گیا۔»

 موصل کے حاکم کا ہدیہ

ابن کثیر نے نقل کیا ہے:

«موصل کے حاکم بدرالدین لؤلؤ ہر سال امیر‌المومنین علی علیہ‌السلام کے روضے پر ایک ہزار دینار مالیت کا سونے کا چراغ ہدیہ کیا کرتے تھے۔»

اس سلسلۂ مضامین کی گزشتہ کڑی میں «موضع الاصبعین امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ضریح مطہر میں آپ علیہ‌السلام سے منسوب ایک کرامت» کا تعارف پیش کیا گیا تھا۔

حوالہ
کتاب «تاریخ المرقد العلوی المطهر» سے اقتباس

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے